کہہ
23 Misre
- کون گل سے ضعف و خاموشی بلبل کہہ سکے
- شوخی تری کہہ دیتی ہے احوال ہمارا
- بے خبر مت کہہ ہمیں بے درد خود بینی سے پوچھ
- بے خبر مت کہہ ہمیں بے درد خود بینی سے پوچھ
- شوخی تری کہہ دیتی ہے احوال ہمارا
- مجھ سے مت کہہ تُو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
- نہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ نہیں زمانے میں
- یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے
- سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کے
- ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- نہ کہہ کہ طاقت رسوائی وصال نہیں
- کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
- یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ
- کچھ کہہ نہ سکوں پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
- نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدار حسرت دل ہے
- لایا ہے کہہ کے یہ غزل شائبہ ریا سے دور
- کہہ چکا میں تو سب کچھ اب تو کہہ
- جو واں نہ کہہ سکا وہ لکھا ہے حضور کو
- تل کو کنجد اور رخ کا گال کہہ
- گال پر جو تل ہو اس کو خال کہہ
- کیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو برو
- کہہ سکے ساری حقیقت ہم نہ اس کے رو برو