کہوں
53 Misre
- آنسو کہوں کہ آہ سوار ہوا کہوں
- ایسا عناں گسیختہ آیا کہ کیا کہوں
- اختر کو داغ سایہ بال ہما کہوں
- اب طائر پریدہ رنگ حنا کہوں
- گر ایک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- ہر تار زلف کو نگہ سرمہ سا کہوں
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- مژگاں کہوں کہ جوہر تیغ قضا کہوں
- آئینہ خیال کو طوطی نما کہوں
- تو اور ایک وہ نشنیدن کہ کیا کہوں
- ہے عجز بندگی کہ علی کو خدا کہوں
- اپنا احوال دل زار کہوں یا نہ کہوں
- ہے حیا مانع اظہار کہوں یا نہ کہوں
- میں بھی ہوں محرم اسرار کہوں یا نہ کہوں
- اپنی ہستی سے ہوں بیزار کہوں یا نہ کہوں
- جب نہ پاؤں کوئی غم خوار کہوں یا نہ کہوں
- ہوں اک آفت میں گرفتار کہوں یا نہ کہوں
- گوش ہیں در پس دیوار کہوں یا نہ کہوں
- حسب حال اپنے پھر اشعار کہوں یا نہ کہوں
- کیوں نہ تیغ یار کو مشاطہ الفت کہوں
- کیا کہوں پرواز کی آوارگی کی کشمکش
- کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی
- نازش ایام خاکستر نشینی کیا کہوں
- مدعا در پردہ یعنی جو کہوں باطل سمجھ
- نازش ایام خاکستر نشینی کیا کہوں
- کہوں وہ مصرع برجستہ وصف قامت میں
- کیا کہوں تاریکی زندان غم اندھیر ہے
- کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے
- خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
- کہوں کیا دل کی کیا حالت ہے ہجر یار میں غالبؔ
- کیا کہوں بیماریٔ غم کی فراغت کا بیاں
- گر اک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- ہر تار زلف کو نگۂ سرمہ سا کہوں
- تو اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- آنسو کہوں کہ آہ سوار ہوا کہوں
- ایسا عناں گسیختہ آیا کہ کیا کہوں
- اختر کو داغ سایۂ بال ہما کہوں
- اب طائر پر بریدۂ رنگ حنا کہوں
- مژگاں کہوں کہ جوہر تیغ قضا کہوں
- آئینۂ خیال کو طوطی نما کہوں
- ہے عجز بندگی کہ علی کو خدا کہوں
- کہوں کیا خوبی اوضاع ابنائے زماں غالبؔ
- میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ
- کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے
- کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
- یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی
- کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
- کہ گر اپنے کو میں کہوں خاکی
- نہ کہوں آپ سے تو کس سے کہوں
- چاہا تھا میں نے تم کو مہ چاردہ کہوں
- گر کہوں بھی تو کس کو آئے یقیں
- چہ کے معنی کیا چگویم کیا کہوں