کہتے
88 Misre
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- سچ کہتے ہیں واللہ کہ اللہ غنی ہے
- کہتے ہیں کہ تاثیر ہے فریاد جرس کو
- اب اس کو کہتے ہیں اہل سخن سخن تکیہ
- ہم اور تم فلک پیر جس کو کہتے ہیں
- سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں
- بخیہ جسے کہتے ہو شکایت ہے رفو کی
- کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
- جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
- لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
- وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
- کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
- لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں
- کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
- کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ
- آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤں
- جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
- ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔ
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیں
- پیدا ہوئی ہے کہتے ہیں ہر درد کی دوا
- تم وو نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہو
- اس کو کہتے ہیں عالم آرائی
- قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
- یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
- بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
- کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
- کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے
- کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
- ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں
- کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیے کیا کہتے ہیں
- جو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں
- اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں
- قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں
- خار رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں
- آگ مطلوب ہے ہم کو جو ہوا کہتے ہیں
- اس کی ہر بات پہ ہم نام خدا کہتے ہیں
- مر گیا غالبؔ آشفتہ نوا کہتے ہیں
- آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
- کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت سخن
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- غالبؔ کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کرتے
- کہتے ہو کیا لکھا ہے تری سر نوشت میں
- کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
- کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
- کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
- قسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے
- جس کو کہتے ہیں عمدۃ الحکما
- جسے کہتے ہیں خوشی اس نے بلائیں لے کر
- اصحاب کو جو کہ ناسزا کہتے ہیں
- سمجھیں تو ذرا دل میں کہ کیا کہتے ہیں
- ہے ہے نہ کہو کسے برا کہتے ہیں
- کہتے ہیں کہیں خدا سے اللہ اللہ
- کہتے ہیں وہ مجھ کو رافضی اور دہری
- کہتے ہیں کہ اب وہ مردم آزار نہیں
- پیشوائے دیں کو کہتے ہیں امام
- اسم وہ ہے جس کو تم کہتے ہو نام
- مہر سورج چاند کو کہتے ہیں ماہ
- کبک کو ہندی میں کہتے ہیں چکور
- چاہ کو کہتے ہیں ہندی میں کنواں
- دود کو ہندی میں کہتے ہیں دھواں
- دانت دنداں ہونٹ کو کہتے ہیں لب
- خر گدھا اور اس کو کہتے ہیں الاغ
- کہتے ہیں مچھلی کو ماہی اور ہوت
- جو برا ہے اس کو ہم کہتے ہیں زشت
- احمق اور نادان کو کہتے ہیں اوت
- بھینس کو کہتے ہیں بھائی گاؤ میش
- خشک ہو جاتی ہے تب کہتے ہیں کاہ
- روئی کو کہتے ہیں پنبہ سن رکھو
- آم کو کہتے ہیں انبہ سن رکھو
- پست اور ستو کو کہتے ہیں سویق
- ژرف اور گہرے کو کہتے ہیں عمیق
- کس کو کہتے ہیں غزل ارشاد ہو
- جس کو کہتے ہیں جمائی فازہ ہے
- یارہ کہتے ہیں کڑے کو ہم سے پوچھ
- لوہے کو کہتے ہیں آہن اور حدید
- کوہ کو ہندی میں کہتے ہیں پہاڑ
- ورنہ بستر کہتے ہیں برنا و پیر
- جان کو البتہ کہتے ہیں رواں
- پند کو اندرز بھی کہتے ہیں ہاں
- ارض ہے پر مرز بھی کہتے ہیں ہاں
- کم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میں