کہاں
87 Misre
- تجھ کو اے غفلت نسب پرواے مشتاقاں کہاں
- بازگشت جادہ پیماے رہ حیرت کہاں
- طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
- دام گاہ عجز میں سامان آسایش کہاں
- اے بال اضطراب کہاں تک فسردگی
- اے آگہی فریب تماشا کہاں نہیں
- نوازش نفس آشنا کہاں ورنہ
- خدایا دل کہاں تک دن بصد رنج و تعب کاٹے
- اسدؔ مجھ میں ہے اس کے بوسۂ پا کی کہاں جرأت
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- لیکن یہ ہم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- بھرا ہے دہر بے دردی سے دل کیجیے کہاں خالی
- ہے کہاں قیصر اور کہاں فغفور
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- صحرا کہاں کہ دعوت دریا کرے کوئی
- کہاں ہے دیدۂ روشن کہ دیکھے بے حجابانہ
- ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
- فرصت کہاں کہ تیری تمنا کرے کوئی
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- صحرا کہاں کہ دعوت دریا کرے کوئی
- کہاں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں انصاف بہتر ہے
- کروں عذر ترک صحبت سو کہاں وہ بے دماغی
- وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاں
- ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں
- وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاں
- وہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی
- عرض کیجے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
- سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
- راہ میں ہم ملیں کہاں بزم میں وہ بلائے کیوں
- ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
- زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک
- سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
- کیجے بیاں سرور تپ غم کہاں تلک
- طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- لیکن یہ بیم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں
- کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے
- ترے کوچے سے کہاں طاقت رم ہے ہم کو
- وہ فراق اور وہ وصال کہاں
- وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
- ذوق نظارۂ جمال کہاں
- شور سودائے خط و خال کہاں
- اب وہ رعنائی خیال کہاں
- دل میں طاقت جگر میں حال کہاں
- واں جو جاویں گرہ میں مال کہاں
- میں کہاں اور یہ وبال کہاں
- وہ عناصر میں اعتدال کہاں
- پر مجھے طاقت سوال کہاں
- اس ستمگر کو انفعال کہاں
- آہ وہ جرأت فریاد کہاں
- وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
- رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
- آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں
- دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا
- ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
- ہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا
- کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں ہو تو کیونکر ہو
- کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
- اے آگہی فریب تماشا کہاں نہیں
- کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا
- مژگاں تلک رسائی لخت جگر کہاں
- یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
- یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
- غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
- اے ماتمیان شہ مظلوم کہاں ہو
- کیسا فلک اور مہر جہاں تاب کہاں کا
- آگ تاپے کہاں تلک انساں
- دھوپ کھاوے کہاں تلک جاں دار
- وہ کھٹے کہاں پائیں املی کے پھول
- وہ کڑوے کریلے کہاں سے منگائیں
- کہاں ہے ساقی مہوش کہاں ہے ابر مطیر
- کروں عذر ترک صحبت سو کہاں وہ بے دماغی
- ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
- کہاں مجال سخن سانس لے نہیں سکتا
- بارے دو دن کہاں رہا غائب
- اڑ کے جاتا کہاں کہ تاروں کا
- واں کہاں یہ عطا و بذل و کرم
- سامان خور و خواب کہاں سے لاؤں
- آرام کے اسباب کہاں سے لاؤں
- خس خانہ و برفاب کہاں سے لاؤں
- اور دوڑائیے قیاس کہاں
- جان شیریں میں یہ مٹھاس کہاں
- ہم کہاں ورنہ اور کہاں یہ نخل
- رنگ کا زرد پر کہاں بو باس
- درم و دام اپنے پاس کہاں
- چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں