کہ
1002 Misre
- از بس کہ صرف قطرہ زنی تھا بسان اشک
- رونے نے طاقت اتنی نہ چھوڑی کہ ایک بار
- ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
- ممکن نہیں کہ ہو دل خوباں میں کارگر
- دیکھ اے اسدؔ بہ دیدۂ باطن کہ ظاہرا
- آنسو کہوں کہ آہ سوار ہوا کہوں
- ایسا عناں گسیختہ آیا کہ کیا کہوں
- مژگاں کہوں کہ جوہر تیغ قضا کہوں
- تو اور ایک وہ نشنیدن کہ کیا کہوں
- ہے عجز بندگی کہ علی کو خدا کہوں
- ہے غنیمت کہ بامید گزر جاے گی عمر
- زہے شب زندہ دار انتظارستاں کہ وحشت سے
- خوشا مستی کہ جوش حیرت انداز قاتل سے
- تماشا ہے کہ رنگ رفتہ بر گر دیدنی جانے
- اسدؔ جاں نذر الطافے کہ ہنگام ہم آغوشی
- کہ قند بوسۂ شیریں لباں مکرر ہو
- بس کہ ہے عبرت ادیب یادگی ہاے ہوس
- اے خوشا وقتے کہ ساقی یک خمستاں وا کرے
- توڑ بیٹھے جب کہ ہم جام و سبو پھر ہم کو کیا
- جس دل میں کہ تابکے سماجائے
- دل کے ہاتھوں سے کہ ہے دشمن جانی میرا
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- کہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے
- کہ یاں افسون خواب افسانۂ خواب زلیخا ہے
- کہ تار جادۂ رہ رشتۂ دامان صحرا ہے
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- کہ صرف بخیۂ دامن ہوا ہے خندہ گلچیں کا
- کہ صحرا فصل گل میں رشک ہے بت خانۂ چیں کا
- ازاں جا کہ حسرت کش یار ہیں ہم
- کہ ضبط تپش سے شرر کار ہیں ہم
- کہ جام بادہ کف بر لب بتقریب تقاضا ہے
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بکف دامان صحرا ہے
- کہ زنگ خامۂ فولاد ماناے سیاہی ہے
- کہ مشک نافہ تمثال سواد چشم آہو ہے
- کہ ظاہر پنجۂ خرشید دست زیر پہلو ہے
- کہ شب خیال میں بوسوں کا ازدحام رہا
- کہ بہر مدعاے دل زبان لال زنداں ہے
- کہ شاخ آہواں دود چراغ آسا پریشاں ہے
- کہ صبح عید مجھ کو بدتر از چاک گریباں ہے
- کہ رشتہ تار اشک دیدۂ سوزن نہ ہوجاوے
- کہ مثل ذرہ ہاے خاک آئینے پر افشاں ہیں
- کہ داغ آرزوے بوسہ دیتا ہے پیام اس کا
- کہ کشت خشک اس کا ابر بے پروا خرام اس کا
- کہ ہے تہ بندی خط سبزۂ خط در تہ لب ہا
- کہ ہے دود چراغاں سے ہیولاے مداد آتش
- ماہ نو ہوں کہ فلک عجز سکھاتا ہے مجھے
- ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
- بس کہ ہے اصل دمیدن ہا غبار
- کہ ننگ فہم مستاں ہے گلہ بد روزگاری کا
- کہ تیغ یار ہلال مہ محرم ہے
- کہ اس میں ریزۂ الماس جزو اعظم ہے
- کہ گل ہے بلبل رنگین و بیضہ شبنم ہے
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- شورش باطن سے یاں تک مجھ کو غفلت ہے کہ آہ
- بس کہ عاجز نارسائی سے کبوتر ہو گیا
- بس کہ آئینے نے پایا گرمی رخ سے گداز
- بس کہ وقت گریہ نکلا تیرہ کاری کا غبار
- بس کہ چشم از انتظار خوش خطاں بے نور ہے
- بزم خوباں بس کہ جوش جلوہ سے پر نور ہے
- بس کہ ہے میخانہ ویراں جوں بیابان خراب
- بس کہ شرم عارض رنگیں سے حیرت جلوہ ہے
- شب کہ تھا نظارگی روے بتاں کا اے اسدؔ
- بس کہ حیرت سے زپا افتادۂ زنہار ہے
- بس کہ ویرانی سے کفر و دیں ہوے زیر و زبر
- مجھ سے مت کہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- بس کہ جوش گریہ سے زیر و زبر ویرانہ تھا
- بس کہ مائل ہے وہ رشک ماہتاب آئینے پر
- بس کہ مے پیتے ہیں ارباب فنا پوشیدہ
- اے دریغا کہ نہیں طبع نزاکت ساماں
- بس کہ سوداے خیال زلف وحشت ناک ہے
- بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد
- بس کہ ہیں در پردہ مصروف سیہ کاری تمام
- بس کہ زیر خاک با آب طراوت راہ ہے
- بس کہ ہیں بدمست بشکن بشکن میخانہ ہم
- بس کہ ہریک موے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- بس کہ وہ چشم و چراغ محفل اغیار ہے
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- آئینہ ایسے طاق پہ گم کر کہ تو نہ ہو
- یارب کہ خار پیرہن آرزو نہ ہو
- بے خود زبس کہ خاطر بے تاب ہو گئی
- غالبؔ زبس کہ سوکھ گئے چشم میں سرشک
- فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- اے شعلہ فرصتے کہ سویدائے دل سے ہوں
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- جتنا کہ نا امید تر امیدوار تر
- کہ یہ نامرد بھی شیر افگن میدان قالی ہے
- اے خوشا رندے کہ مرغ گلشن تجرید ہے
- بس کہ ہیں بے خود و دا رفتہ و حیراں گل و صبح
- وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
- کیا فائدہ کہ منت بیگانہ کھینچیے
- محتسب سے تنگ ہے از بس کہ کار مے کشاں
- قیس نے از بس کہ کی سیر گریباں نفس
- خاک عاشق بس کہ ہے فرسودۂ پرواز شوق
- گرم تکلیف دل رنجیدہ ہے از بس کہ چرخ
- دل بیتاب کہ سینے میں دم چند رہا
- الفت زر ہمہ نقصاں ہے کہ آخر قاروں
- عمر بھر ہوش نہ یک جا ہوے میرے کہ اسدؔ
- کہ مژگاں ریشہ دار نیستان شیر قالی ہے
- کہ تار جادۂ سر منزل نازک خیالی ہے
- دل ہی نہیں کہ منت درباں اٹھائیے
- طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
- واے ناکامی کہ اس کافر کا خنجر تیز ہے
- کہ بوسۂ لب شیریں ہے اور گلو سوزی
- ہوئی ہے سوزش دل بس کہ داغ بے اثری
- کہ بعد مرگ بھی ہے لذت جگر سوزی
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- جب کہ نقش مدعا ہووے نہ جز موج سراب
- عجب کہ پر تو خور شمع شبنمستاں ہے
- کہ بخیہ جلوۂ آثار زخم دنداں ہے
- فغاں کہ بہر شفاے حصول ناشدنی
- کہ قتل عاشق دلدادہ تجھ کو آساں ہے
- کہ ہے تہ بندی پر ہاے طوطی رنگ جوہر کا
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- کہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشت سوزن پر
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- شعاع مہر سے تہمت نگہ کہ چشم روزن پر
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- کہ خامشی کو ہے پیرایۂ بیاں تجھ سے
- تماشا ہے کہ ناموس وفا رسواے آئیں ہے
- کہ طوق قمری از ہر حلقۂ زنجیر ہے پیدا
- کہ در بحر کماں بالیدہ موج تیر ہے پیدا
- منع مت کر حسن کی ہم کو پرستش سے کہ ہے
- دیدار طلب ہے دل واماندہ کہ آخر
- کہ بعد از صاف مے ساغر میں دردبادہ آتا ہے
- کہ یاں ہر یک حباب آسا شکست آمادہ آتا ہے
- ہوئی ہے بس کہ صرف مشق تمکین بہار آتش
- اس جفا مشرب پہ عاشق ہوں کہ سمجھے ہے اسدؔ
- بس رہتے ہیں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل
- افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- کس رتبہ میں باریکی و نرمی ہے کہ جو گل
- جس دم کہ جادہ دار ہو تار نفس تمام
- کیا دے صدا کہ کلفت گم گشتگاں سے آہ
- جس جا کہ پاے سیل بلا درمیاں نہیں
- طفل شوخ غنچۂ گل بس کہ ہے وحشی مزاج
- کاشانۂ ہستی کہ بر انداختنی ہے
- جاے کہ اسدؔ رنگ چمن باختنی ہے
- ساقیا دے ایک ہی ساغر میں سب کو مے کہ آج
- دیکھ لی جوش جوانی کی ترقی بھی کہ اب
- مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے
- دیکھ کر تجھ کو چمن بس کہ نمو کرتا ہے
- کہ شمع خانۂ دل آتش مے سے فروزاں کی
- کہ ہوتی ہے زیادہ سرد مہری شمع رویاں کی
- کہ جوہر آئنے کا ہر پلک ہے چشم حیراں کی
- کہ ہیں صد رخنہ جوں غربال دیواریں گلستاں کی
- اسدؔ از بس کہ فوج درد و غم سر گرم جولاں ہے
- حیرت سے ترے جلوے کی از بس کہ ہیں بے کار
- وہ جلوہ کر کہ نہ میں جانوں اور نہ تو جانے
- زیادہ اس سے گرفتار ہوں کہ تو جانے
- کہ جو اسدؔ تپش نبض آرزو جانے
- کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
- رخصت نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
- شب کہ مست دیدن مہتاب تھا وہ جامہ زیب
- شب کہ وہ گل باغ میں تھا جلوہ فرما اے اسدؔ
- کہ موم آئینہ تمثال کو تعویذ بازو تھا
- گئے وہ دن کہ پانی جام مے سے زانو زانو تھا
- خود فروشی ہاے ہستی بس کہ جاے خندہ ہے
- دریغا وہ مریض غم کہ فرط ناتوانی سے
- کہ دست آرزو سے یک قلم پاے طلب کاٹے
- کہ میں نے دست و پا باہم بہ شمشیر ادب کاٹے
- خوش وحشتے کہ عرض جنون فنا کروں
- آ اے بہار ناز کہ تیرے خرام سے
- خوش اوفتادگی کہ بہ صحراے انتظار
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں
- وہ التماس لذت بیداد ہوں کہ میں
- وہ راز نالہ ہوں کہ بشرح نگاہ عجز
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- لیکن یہ ہم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- لیکن عبث کہ شبنم خرشید دیدہ ہوں
- میں بے ہنر کہ جوہر آئینہ تھا عبث
- یعنی کہ بندۂ بہ درم نا خریدہ ہوں
- گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
- کہ شاخ گل کا خم انداز ہے بالیں شکستن کا
- کہ تھا آئینہ خور پر تصور زنگ بستن کا
- از بس کہ ہے محو بہ چمن تکیہ زدن ہا
- سچ کہتے ہیں واللہ کہ اللہ غنی ہے
- بس کہ بے پایاں ہے صحراے محبت اے اسدؔ
- ہے غیرت الفت کہ اسدؔ اس کی ادا پر
- ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزری
- وہ نہیں ہم کہ چلے جائیں حرم کو اے شیخ
- ناخن تیغ بتاں شاید کہ مضرابی کرے
- مجھ کو وہ دو کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں
- اے شعلۂ فرصتے کہ سویداے دل سے ہوں
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- کہ بہ یک جنبش لب مثل صدا جاتا ہوں
- بیباک ہوں از بس کہ بہ بازار محبت
- کہتے ہیں کہ تاثیر ہے فریاد جرس کو
- ساز وحشت رقمی ہا کہ باظہار اسدؔ
- کہ موج گریہ میں صد خندۂ دنداں نما گم ہو
- کہ جس کے ہاتھ میں مانند خوں رنگ حنا گم ہو
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
- کہ تار جادہ سے ہے لجہ ریگ رواں خالی
- یاد ایامے کہ ذوق صحبت احباب تھا
- یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے
- کہ ہر یک گرد باد گلستاں گرداب ہوجاوے
- کہ سجدہ قبضۂ تیغ خم محراب ہوجاوے
- کہ تھا آئینۂ خود بے نقاب زنگ بستن ہا
- کہ مے عکس شفق ہے اور ساغر ہے حباب اس کا
- ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
- ڈرتا ہوں آئنے سے کہ مردم گزیدہ ہوں
- کون ہے داغ کہ شعلے کا عناں گیر آوے
- اس بیاباں میں گرفتار جنوں ہوں کہ جہاں
- وہ گرفتار خرابی ہوں کہ فوارہ نمط
- شب کہ تھی کیفیّت محفل بیاد روے یار
- شب کہ باندھا خواب میں آنے کا قاتل نے جناح
- وہ دل سوزاں کہ کل تک شمع ماتم خانہ تھا
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- تھا کس قدر شکستہ کہ ہے جا بجا گرو
- ہے وحشت جنون بہار اس قدر کہ ہے
- روتا ہوں بس کہ در ہوس آرمیدگی
- انساں نیاز مند ازل ہے کہ جوں کماں
- بس کہ شرمندۂ بوے خوش گل رویاں ہے
- کہ خط سبز تا پشت لب سوفار ہو پیدا
- کہ غالب ہے کہ بعد از زاری بسیار ہو پیدا
- عاشق کو یہ چاہیے کہ ہرگز
- دم جب کہ بہ وقت نزع توڑے
- کہ ہم بیضہ طوطی ہند غافل
- کہ طوطی قفل زنگ آلودہ ہے آئینہ خانے میں
- کہ یاں گم کر جبیں سجدہ فرسا آستانے میں
- قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا
- حیف اے تنگ تمنا کہ پئے عرض حیا
- کہ بن گیا ہے خم جعد پر شکن تکیہ
- کہ ضرب تیشہ پہ رکھتا تھا کوہکن تکیہ
- کہ سانپ فرش ہے اور سانپ کا ہے من تکیہ
- شب کہ دل زخمی عرض دو جہاں تیر آیا
- کہ کلہ گوشہ بہ پرواز پر تیر آیا
- اے خوشا ذوق تمنائے شہادت کہ اسدؔ
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- دل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا
- یاد ایام کہ ذوق صحبت احباب تھا
- یاد کر وہ دن کہ ہر اک حلقہ تیرے دام کا
- کہ ماہ دزد حناے کف نگاریں ہے
- کہ خط غبار زمیں خیز زلف مشکیں ہے
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- ہوں وہ گلدام کہ سبزے میں چھپایا ہے مجھے
- ایک دل تھا کہ بصد رنگ دکھایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ داغ کہ پھولوں میں بسایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ چاک کہ کانٹوں سے سلایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ خاک کہ ماتم میں اڑایا ہے مجھے
- کس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا ہے مجھے
- بس کہ ہوں بعد مرگ بھی نگراں
- ہم نشیں مت کہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- واے کہ یہ فسردہ دل بیدل و بے دماغ ہے
- بس کہ ہے صیاد راہ عشق میں محو کمیں
- بس کہ تیرے جلوۂ دیدار کا ہے اشتیاق
- وہ سنگ کہ گلدستۂ جوش شرر آوے
- وہ تشنۂ سرشار تمنا ہوں کہ جس کو
- زاہد کہ جنوں سبحۂ تحقیق ہے یارب
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- کو تیزی رفتار کہ صحرا سے زمیں کو
- تغافل مشربی سے ناتمامی بس کہ پیدا ہے
- کہ چشم آبلہ میں طول میل راہ مژگاں ہے
- اگر وا ہو تو دکھلادوں کہ یک عالم گلستاں ہے
- کہ یہ گلزار باغ رہ گزر ہے
- کہ مژگان کشودہ نیشتر ہے
- تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں
- لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
- آمد خط ہے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد
- ہوں گرفتار کمیں گاہ تغافل کہ جہاں
- تو وہ بدخو کہ تحیر کو تماشا جانے
- غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے
- وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل
- وہ تب عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع
- کہ تار جادۂ رہ رشتۂ گوہر نہیں ہوتا
- خوشا عجزے کہ عاشق جل بجھے جوں شعلۂ خامش
- کہ کم از سرمہ اس کا مشت خاکستر نہیں ہوتا
- کہ جس کے در پہ غنچہ شکل قفل زر نہیں ہوتا
- روشن ہوئی یہ بات دم نزع کہ آخر
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- صحرا کہاں کہ دعوت دریا کرے کوئی
- وہ فلک رتبہ کہ بر تو سن چالاک چڑھا
- تھا یہ کم وزن کہ ہم سنگ کف خاک چڑھا
- بس کہ خوباں باغ کو دیتے ہیں وقت مے شکست
- یاد روزے کہ نفس سلسلۂ یارب تھا
- نالہ ہا حاصل اندیشہ کہ جوں کشت سپند
- دل دیوانہ کہ دارستۂ ہر مذہب تھا
- یاد روزے کہ نفس در گرہ یارب تھا
- کہ ہے دل سوزاں نے مرے پہلو میں جا گرم
- کہ موج آب ہے ہر ایک چین پیشانی
- جنون وحشت ہستی یہ عام ہے کہ بہار
- کہ عید خلق پہ حیراں ہے چشم قربانی
- کہ سرد ہو نہ سکے اس کا مصرع ثانی
- کہ زلف یار ہے مجموعۂ پریشانی
- گویا کہ تختہ مشق ہیں خط غبار کے
- اے عندلیب چل کہ چلے دن بہار کے
- ہے زمیں از بس کہ سنگیں جادہ بھی پیدا نہیں
- آگہی غافل کہ ایک امروز بے فردا نہیں
- کہ میل سرمہ چشم داغ میں ہے آہ خاموشاں
- کہ ہے آبادی صحرا ہجوم خانہ بردوشاں
- یاں ہے کہ داغ لالہ دماغ بہار ہے
- یاں ہے کہ صحبت خس آتش برار ہے
- کہاں ہے دیدۂ روشن کہ دیکھے بے حجابانہ
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- شاید کہ مرگیا ترے رخسار دیکھ کر
- جز آہ کہ سر لشکر وحشت علمی ہے
- حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
- مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
- غالبؔ تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیا
- مانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے
- کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- کس رتبہ میں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل
- آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
- ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
- آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
- رنگ ہو کر اڑ گیا جو خوں کہ دامن میں نہیں
- غیر سمجھا ہے کہ لذت زخم سوزن میں نہیں
- تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدر
- بے تکلف ہوں وہ مشت خس کہ گلخن میں نہیں
- چشم ما روشن کہ اس بے درد کا دل شاد ہے
- تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلک
- جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعف دماغ
- بزم ہستی وہ تماشا ہے کہ جس کو ہم اسدؔ
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر
- آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
- ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
- وہ ایک مشت خاک کہ صحرا کہیں جسے
- ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
- یہ محشر خیال کہ دنیا کہیں جسے
- ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
- آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہے
- مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے
- تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
- ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
- ہے نزاکت بس کہ فصل گل میں معمار چمن
- بس کہ پائی یار کی رنگیں ادائی سے شکست
- اس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا
- پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
- منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
- کہ ہوگا باعث افزائش درد دروں وہ بھی
- کہ میری خواب بندی کے لیے ہوگا فسوں وہ بھی
- وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو
- جلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر
- کہ ہو گئے مرے دیوار و در در و دیوار
- نہیں ہے سایہ کہ سن کر نوید مقدم یار
- کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار
- کہ ہیں دکان متاع نظر در و دیوار
- کہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار
- کہ ناچتے ہیں پڑے سر بہ سر در و دیوار
- نہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ نہیں زمانے میں
- کوئی بتاؤ کہ وہ زلف خم بہ خم کیا ہے
- کسے خبر ہے کہ واں جنبش قلم کیا ہے
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
- یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
- تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
- تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیا
- لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں
- جانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے
- کہ یہ نامرد بھی شیر افگن میدان قالی ہے
- حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
- دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر
- کہ خار خشک کو بھی دعواۓ چمن نسبی ہے
- خوشا وہ دل کہ سراپا طلسم بے خبری ہو
- کہ برگ برگ سمن شیشہ ریزۂ حلبی ہے
- مانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہو
- مرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو
- اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
- آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
- جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
- کہ بیتابی سے ہر یک تار بستر خار بستر ہے
- کس کا دل زلف سے بھاگا کہ اسدؔ
- مشکل کہ تجھ سے راہ سخن وا کرے کوئی
- کیا فائدہ کہ جیب کو رسوا کرے کوئی
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- فرصت کہاں کہ تیری تمنا کرے کوئی
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- صحرا کہاں کہ دعوت دریا کرے کوئی
- ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
- لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
- تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں
- دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر
- جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے
- صد حیف وہ ناکام کہ اک عمر سے غالبؔ
- اتنا ہے کہ رہتی تو ہے تدبیر وضو کی
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- کہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشت سوزن پر
- کہ مرے عدو کو یارب ملے میری زندگانی
- کہ زبان سرمہ آلود نہیں تیغ اصفہانی
- کہ نگاہ ہے سیہ پوش بہ عزائے زندگانی
- کہ نہ دے عنان فرصت بہ کشاکش زبانی
- کہ خیال ہو تعب کش بہ ہوائے کامرانی
- وہ اجل کہ خوں بہا ہو بہ شہید ناتوانی
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- کہ ستم کش جنوں ہوں نہ بقدر زندگانی
- کہ سرشک قطرہ زن ہے بہ پیام دل رسانی
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
- کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
- تماشا کہ اے محو آئینہ داری
- کہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں
- کہ آہو کو پابند رم دیکھتے ہیں
- دعا قبول ہو یا رب کہ عمر خضر دراز
- کہ دیجے آئنۂ انتظار کو پرداز
- کہ شیشہ نازک و صہبائے آبگینہ گداز
- کہ کھینچیے پر طائر سے صورت پرواز
- کہ چشم تنگ شاید کثرت نظارہ سے وا ہو
- کہ تار جادہ بھی کہسار کو زنار مینا ہو
- کہ مثل غنچہ ساز یک گلستاں دل مہیا ہو
- مرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو
- غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی
- کہ کرے تعزیت مہر و وفا میرے بعد
- جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
- وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
- اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
- جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے
- کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے
- وہ آیا بزم میں دیکھو نہ کہیو پھر کہ غافل تھے
- حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
- چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
- ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں
- لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
- غالبؔ خدا کرے کہ سوار سمند ناز
- کہ رشتہ تار اشک دیدۂ سوزن نہ ہو جاوے
- کہ زخم روزن در سے ہوا نکلتی ہے
- خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
- وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
- پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
- بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم
- سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
- خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
- نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا
- کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا
- تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے
- کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
- حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
- رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے
- کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
- اٹھیے بس اب کہ لذت خواب سحر گئی
- کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی
- آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
- کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
- میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دل
- کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
- جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
- میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
- کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا
- ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا
- یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں
- دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اب
- اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ
- ہے جوش گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
- ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
- میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں
- ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی
- ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
- وسعت رحمت حق دیکھ کہ بخشا جاوے
- مجھ سا کافر کہ جو ممنون معاصی نہ ہوا
- یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہے
- رہے ہے یوں گہہ و بے گہہ کہ کوئے دوست کو اب
- اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے کیا کہئے
- زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب
- کہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے کیا کہئے
- کہ یہ کہے کہ سر رہ گزر ہے کیا کہئے
- کہا ہے کس نے کہ غالبؔ برا نہیں لیکن
- سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے کیا کہئے
- دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
- دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
- شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے
- دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
- پر ہم ایسے کھوے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
- رنگ کھلتا جاے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے
- لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں
- حسرت اے ذوق خرابی کہ وہ طاقت نہ رہی
- میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمہیں
- کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
- وائے وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں
- میرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں
- رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے
- رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
- عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
- میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے
- غافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے
- مانا کہ تیرے رخ سے نگہ کامیاب ہے
- کیونکر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
- دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے
- کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
- تجھے کہ آئنہ بھی ورطۂ ملامت ہے
- شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج
- یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد ذوق میں
- کہ داغ دل بہ جبین کشادہ رکھتے ہیں
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف قاتل میں ہے
- دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
- میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
- ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
- رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے
- خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
- شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
- ہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں
- جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شام فراق
- میں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں
- مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
- دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
- کہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا
- کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
- رخصت نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
- تسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے
- اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
- اے عندلیب چل کہ چلے دن بہار کے
- گویا کہ تختۂ مشق ہیں خط غبار کے
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- دل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا
- جو کہ کھایا خون دل بے منت کیموس تھا
- تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوق
- کہ انداز بہ خوں غلتیدن بسمل پسند آیا
- کہ لطف بے تحاشا رفتن قاتل پسند آیا
- سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
- شور رسوائی دل دیکھ کہ یک نالۂ شوق
- یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے
- کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوک بیداد کہ ہم
- کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
- خامہ میرا کہ وہ ہے باربد بزم سخن
- طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
- دل ہی نہیں کہ منت درباں اٹھائیے
- تڑپ کر مر گیا وہ صید بال افشاں کہ مضطر تھا
- مدت ہوئی کہ آشتی چشم و گوش ہے
- یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
- کہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
- کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
- مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
- دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں
- تا کہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقل
- عمر ہرچند کہ ہے برق خرام
- تو اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں
- آنسو کہوں کہ آہ سوار ہوا کہوں
- ایسا عناں گسیختہ آیا کہ کیا کہوں
- مژگاں کہوں کہ جوہر تیغ قضا کہوں
- ہے عجز بندگی کہ علی کو خدا کہوں
- بزم قدح سے عیش تمنا نہ رکھ کہ رنگ
- مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں کہ ہے
- مری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کی ناز اٹھانے کی
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے
- ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے
- کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
- ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
- رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے
- ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
- غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
- بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
- پرسش طرز دلبری کیجیے کیا کہ بن کہے
- اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
- آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
- سامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یوں
- اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
- میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
- سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
- دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں
- آئنہ دار بن گئی حیرت نقش پا کہ یوں
- موج محیط آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں
- جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی
- گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
- خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ
- فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- اے شعلہ فرصتے کہ سویدائے دل سے ہوں
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے
- شادی سے گزر کہ غم نہ ہووے
- جس دل میں کہ تابکے سما جائے
- خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں
- سمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو
- سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کے
- جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو
- قیامت ہے کہ سن لیلی كا دشت قیس میں آنا
- کہ طوطی قفل زنگ آلودہ ہے آئینہ خانے میں
- کہ یاں گم کر جبین سجدہ فرسا آستانے میں
- لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
- آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤں
- مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
- ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔ
- لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
- یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خوش ہے کہ میں
- میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پر
- کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار دبستاں پر
- کہ پشت چشم سے جس کی نہ ہووے مہر عنواں پر
- کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلستاں پر
- کہ آخر بے کسوں کا زور چلتا ہے گریباں پر
- کہ ننگ فہم مستاں ہے گلہ بد روزگاری کا
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- خوش وحشتے کہ عرض جنون فنا کروں
- آ اے بہار ناز کہ تیرے خرام سے
- خوش اوفتادگی کہ بہ صحراۓ انتظار
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں
- وو التماس لذت بے داد ہوں کہ میں
- وو راز نالہ ہوں کہ بہ شرح نگاۂ عجز
- لیکن یہ بیم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
- کہ پری زاد نظر قابل تسخیر نہیں
- کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
- سینہ کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا
- پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
- جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
- غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- کہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے
- کہ یاں افسون خواب افسانۂ خواب زلیخا ہے
- کہ ناز جادۂ رہ رشتۂ دامان صحرا ہے
- کہ جام بادہ کف بر لب بہ تکلیف تقاضا ہے
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بہ کف دامان صحرا ہے
- کہ غیر جلوۂ گل رہ گزر میں خاک نہیں
- کھلا کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں
- وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
- لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اٹھا
- کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
- مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے
- میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
- بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
- ستم اتنا تو نہ کیجے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں
- موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں
- کیا تصور ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں
- وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
- دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
- جانتا ہے کہ ہمیں طاقت فریاد نہیں
- مژدہ اے مرغ کہ گلزار میں صیاد نہیں
- ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- کیا ہے کس نے اشارا کہ ناز بستر کھینچ
- نہ کہہ کہ طاقت رسوائی وصال نہیں
- تو وہ بد خو کہ تحیر کو تماشا جانے
- غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے
- وہ تپ عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع
- آمد خط سے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد
- ہوں گرفتار کمیں گاہ تغافل کہ جہاں
- وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل
- وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر
- نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے
- فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
- مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
- کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
- اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
- کاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے
- غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر
- کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
- کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
- پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
- موت کی راہ نہ دیکھوں کہ بن آئے نہ رہے
- تم کو چاہوں کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے
- بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھے
- کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے
- کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
- کہ طاقت اڑ گئی اڑنے سے پہلے میرے شہ پر کی
- ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
- وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
- ہوئی ہے بس کہ صرف مشق تمکین بہار آتش
- کہ اس میں ریزۂ الماس جزو اعظم ہے
- وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے
- کہ تیغ یار ہلال مہ محرم ہے
- کہ گل ہے بلبل رنگین و بیضہ شبنم ہے
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- وہ بھی دن ہو کہ اس ستم گر سے
- نفس قیس کہ ہے چشم و چراغ صحرا
- کہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
- نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں
- کوئی کہے کہ شب مہ میں کیا برائی ہے
- کہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں
- دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
- یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں
- وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
- جان کر کیجے تغافل کہ کچھ امیدؔ بھی ہو
- ہنس کے بولے کہ ترے سر کی قسم ہے ہم کو
- تم وو نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہو
- ہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو
- ابر روتا ہے کہ بزم طرب آمادہ کرو
- برق ہنستی ہے کہ فرصت کوئی دم ہے ہم کو
- وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
- چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
- اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
- عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگا
- غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا
- ہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
- اضطراب عمر بے مطلب نہیں آخر کہ ہے
- زکات حسن دے اے جلوۂ بینش کہ مہر آسا
- کہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا
- کہ حسرت کش رہا عرض ستم ہائے جدائی کا
- کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی
- کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر
- سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
- جلوے كا تیرے وہ عالم ہے کہ گر کیجے خیال
- سرمہ تو کہوے کہ دود شعلۂ آواز ہے
- کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھنچتا جائے ہے مجھ سے
- کہ دامان خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
- قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالبؔ
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
- کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
- کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی
- بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
- ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
- جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں
- ہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں
- کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
- کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے
- یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وہ آئے
- ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرین
- دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
- اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں
- دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا
- تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے
- نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ ہم ستم گر ہیں
- مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے
- وہ زخم تیغ ہے جس کو کہ دل کشا کہیے
- سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا غالبؔ
- ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں
- جس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے
- آوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
- بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوار یار میں
- کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
- غالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے
- واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
- کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے
- وائے ناکامی کہ اس کافر كا خنجر تیز ہے
- خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
- رحمت کہ عذر خواہ لب بے سوال ہے
- ناف زمین ہے نہ کہ ناف غزال ہے
- دل وقف درد کر کہ فقیروں کا مال ہے
- اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
- گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے
- از بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے
- یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخ مکتوب
- نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدار حسرت دل ہے
- گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
- کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں ہو تو کیونکر ہو
- تمہیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کا
- بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار
- کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
- گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
- کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا
- کہ تار دامن و تار نظر میں فرق مشکل ہے
- سمجھیو مت کہ پاس درد سے دیوانہ غافل ہے
- کہ چشم تر میں ہر اک پارۂ دل پائے در گل ہے
- کہ صبح عید مجھ کو بد تر از چاک گریباں ہے
- کہ اس بازار میں ساغر متاع دست گرداں ہے
- کہ جامے کو عرق سعی عروج نشہ رنگیں تر
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
- کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے
- یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
- تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
- ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
- پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
- ظاہر كا یے پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
- غالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں
- جس جا کہ پائے سیل بلا درمیاں نہیں
- بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- بیداد وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخر
- جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
- کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
- کہتا تھا کل وہ محرم راز اپنے سے کہ آہ
- آزادی نسیم مبارک کہ ہر طرف
- خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جو
- تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
- پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
- کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
- تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
- یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
- رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
- غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
- کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
- اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
- بخت ناساز نے چاہا کہ نہ دے مجھ کو اماں
- چرخ کج باز نے چاہا کہ کرے مجھ کو ذلیل
- کہ ہوا مجھ سا ذرہ ناچیز
- کہ گر اپنے کو میں کہوں خاکی
- جانتا ہوں کہ آئے خاک کو عار
- شاد ہوں لیکن اپنے جی میں کہ ہوں
- بس کہ لیتا ہوں ہر مہینے قرض
- بس کہ فعال ما یرید ہے آج
- میں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا
- گئے وہ دن کہ نادانستہ غیروں کی وفاداری
- اس سے ہے یہ مراد کہ ہم آشنا نہیں
- یوں سمجھیے کہ بیچ سے خالی کیے ہوئے
- خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھیے
- ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے
- ہزار شکر کہ سید غلام بابا نے
- کہ آسماں پہ کواکب بنے تماشائی
- کہ جہاں ہشت بہشت آ کے ہوئے ہیں باہم
- رام پور آج ہے وہ بقعہ معمور کہ ہے
- کہ جہاں چرنے کو آتے ہیں غزالان حرم
- دو دعائیں ہیں کہ وہ دیتے ہیں نواب کو ہم
- دو وہ چیزیں کہ طلبگار ہے جن کا عالم
- جیسا کہ آفتاب نکلتا ہے شرق سے
- جب کہ سید غلام بابا نے
- کہ کواکب ہوے تماشائی
- اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہاے ہاے
- وہ سبزہ زار ہاے مطرا کہ ہے غضب
- وہ نازنیں بتان خود آرا کہ ہاے ہاے
- صبر آزما وہ ان کی نگاہیں کہ حف نظر
- طاقت ربادہ ان کا اشارا کہ ہاے ہاے
- وہ میوہ ہاے تازۂ شیریں کہ واہ واہ
- وہ بادہ ہاے ناب گوارا کہ ہاے ہاے
- کہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ
- کہ دلی کو چھوڑیں لوہارو کو جائیں
- ہوا حکم باورچیوں کو کہ ہاں
- ابھی جا کے پوچھو کہ کل کیا پکائیں
- کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفرؔ کا غلام ہوں
- مانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
- دیکھا کہ چارہ غیر اطاعت نہیں مجھے
- ہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے
- کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
- خدا کرے کہ یہ ایسا ہو سازگار برس
- یہ تو دیکھو کہ کیا نظر آیا
- منطبع جب کہ ہو چکے گی کتاب
- جس کو منظور ہو کہ زر بھیجے
- کہ نہ ارسال زر میں ہو تاخیر
- نصرت الملک بہادر مجھے بتلا کہ مجھے
- گرچہ تو وہ ہے کہ ہنگامہ اگر گرم کرے
- اور میں وہ ہوں کہ گر جی میں کبھی غور کروں
- سلیم خاں کہ وہ ہے نور چشم واصل خاں
- کہ بحث علم میں اطفال ابجدی اس کے
- کہ جس میں حکمت و طب ہی کے مسئلے ہیں تمام
- کہا یہ جلد کہ تو اس میں سوچتا کیا ہے
- کہ جو شریک ہو میرا شریک غالبؔ ہے
- خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا
- مجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا
- یہ بھی اک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائے
- جی میں اترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اک چیز
- جب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارے
- کہ زبان سرمہ آلود نہیں تیغ اصفہانی
- کہ نگاہ ہے سیہ پوش بہ عزاے زندگانی
- کہ نہ دے عنان فرصت بہ کشاکش زبانی
- کہ خیال ہو تعب کش بہ ہواے کامرانی
- وہ اجل کہ خوں بہا ہو بہ شہید ناتوانی
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- کہ ستم کش جنوں ہوں نہ بقدر زندگانی
- کہ سر شک قطرہ زن ہے بہ پیام دل رسانی
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- بے دلی ہاے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
- بیکسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں
- خوں ہو آئینہ کہ ہو جامۂ طفلاں رنگیں
- نزع مخمور ہوں اس دید کی دھن میں کہ مجھے
- کہ ہوا خوں نگہ شوق میں نقش تمکیں
- بس کہ گستاخی ارباب جہاں سے ہوں ملول
- کس قدر ہرزہ سرا ہوں کہ عیاذاً باللہ
- نسبت نام سے اس کے ہے یہ رتبہ کہ رہے
- فیض خلق اس کا ہی شامل ہے کہ ہوتا ہے سدا
- کفر سوز اس کا وہ جلوہ ہے کہ جس سے ٹوٹے
- عرش چاہے ہے کہ ہو در پہ ترے خاک نشیں
- داد دیوانگی دل کہ ترا مدحت گر
- کہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں
- ہے ترے حوصلۂ فضل پر از بس کہ یقیں
- کہ اجابت کہے ہر حرف پہ سو بار آمیں
- کہ رہیں خون جگر سے مری آنکھیں رنگیں
- کہ جہاں تک چلے اس سے قدم اور مجھ سے جبیں
- جو عقدہ دشوار کہ کوشش سے نہ وا ہو
- نو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیں
- گرہ کی ہے یہی گنتی کہ تا بروز شمار
- یہ کہکشاں ہے کہ ہیں اس میں بے شمار گرہ
- کہ ہر گرہ کی گرہ میں ہیں تین چار گرہ
- کہ دیکھ کتنی اٹھا لاے گا یہ تار گرہ
- کہا کہ چرخ پہ ہم نے گنی ہیں نو گرہیں
- وہ راؤ راجہ بہادر کہ حکم سے جن کے
- کہ لائے غیب سے غنچوں کی نو بہار گرہ
- کہ ہو گئے ہیں گہر ہاے شاہوار گرہ
- کہ بن گئے ہیں ثمر ہاے شاخسار گرہ
- کہ چھوڑتا ہی نہیں رشتہ زینہار گرہ
- کشادہ رخ نہ پھرے کیوں کہ اس زمانے میں
- کہ جادہ رشتہ ہے اور ہے شتر قطار گرہ
- دعا یہ ہے کہ مخالف کے دل میں از رہ بغض
- خدا کرے کہ کرے اس طرح ابھار گرہ
- اڑ کے جاتا کہاں کہ تاروں کا
- ایک میں کیا کہ سب نے جان لیا
- جانتا ہوں کہ آج دنیا میں
- میں نے مانا کہ تو ہے حلقہ بگوش
- جانتا ہوں کہ جانتا ہے تو
- جانتا ہوں کہ اس کے فیض سے تو
- جو کہ بخشے گا تجھ کو فر فروغ
- جب کہ چودہ منازل فلکی
- تجھ کو کس نے کہا کہ ہو بدنام
- کہ نہ سمجھیں وہ لذت دشنام
- چھیڑتا ہوں کہ ان کو غصہ آئے
- آسماں کو کہا گیا کہ کہیں
- حکم ناطق لکھا گیا کہ لکھیں
- جم رتبہ میکلوڈ بہادر کہ وقت رزم
- جس بزم میں کہ ہو انھیں آہنگ میکشی
- دل نے کہا کہ یہ بھی ہے تیرا خیال خام
- میری سنو کہ آج تم اس سر زمین پر
- دیں آپ میری داد کہ ہوں فائز المرام
- ہے یہ دعا کہ زیر نگیں آپ کے رہے
- کہ باج تاج سے لیتا ہے جس کا طرف کلاہ
- وہ محض رحمت و رافت کہ بہر اہل جہاں
- وہ عین عدل کہ دہشت سے جس کی پرسش کی
- کہ دشت و کوہ کے اطراف میں بہر سر راہ
- زہے ستارۂ روشن کہ جو اسے دیکھے
- خدا سے ہے یہ توقع کہ عہد طفلی میں
- کہ تابع اس کے ہوں روز و شب سپید و سیاہ
- ملے گی اس کو وہ عقل نہفتہ داں کہ اسے
- کہ آپ کا ہے نمک خوار اور دولت خواہ
- یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عز و جاہ کے ساتھ
- کہ جہاں گدیہ گر کا نام نہیں
- اس اکھاڑے میں جو کہ ہے مظنوں
- سب نے جانا کہ ہے پری توسن
- بس کہ بخشی ہے فوج کو عزت
- اور پھر اب کہ ضعف پیری سے
- ہے دعا بھی یہی کہ دنیا میں
- سنگ یہ کار گہ ربط نزاکت ہے کہ ہے
- حسرت جلوۂ ساقی ہے کہ ہر پارۂ ابر
- کہ اس آغوس میں ممکن ہے دو عالم کا فشار
- طرہ ہا بس کہ گرفتار صبا ہیں شانہ
- بس کہ یک رنگ ہیں دل کرتی ہے ایجاد نسیم
- ہمت و نشو و نما میں یہ بلندی ہے کہ سرد
- جاے حیرت ہے کہ گلبازی اندیشۂ شوق
- کہ ہوا ساغر بے حوصلۂ دل سرشار
- وہ شہنشاہ کہ جس کی پئے تعمیر سرا
- کہ ہوا صورت آئینہ میں جوہر بیدار
- دو جہاں طالب دیدار تھا یارب کہ ہنوز
- یاں تک انصاف نوازی کہ اگر ریزۂ سنگ
- تو وہ ساقی ہے کہ ہر موج محیط تنزیہہ
- رشک نظارہ تھی یک برق تجلی کہ ہنوز
- کہ رہے خون خزاں سے بہ حنا پاے بہار
- وہ کہ جس کی صورت تکوین میں
- وہ کہ جس کے ناخن تاویل سے
- توسن شہ میں ہے وہ خوبی کہ جب
- لاٹھی وہ لگے کہ جس میں آواز نہ ہو
- اصحاب کو جو کہ ناسزا کہتے ہیں
- سمجھیں تو ذرا دل میں کہ کیا کہتے ہیں
- دیکھ وہ برق تبسم بس کہ دل بیتاب ہے
- واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں
- ہے صفر کہ افزایش اعداد کرے
- ہر چند کہ دوستی میں کامل ہونا
- دہری کیوں کر ہو جو کہ ہووے صوفی
- کہتے ہیں کہ اب وہ مردم آزار نہیں
- جو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہو گا
- کیوں کر مانوں کہ اس میں تلوارنہیں
- دل تھا کہ جو جان درد تمہید سہی
- اک تسمہ لگا رہا کہ تا روزے چند
- کیا شرح کروں کہ طرفہ تر عالم تھا
- بتلاؤ کوئی کہ تھی برائی کس میں
- سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اس کو
- تو پھر کہیں کہ کچھ اس سے سوا کہیں اس کو
- کہو کہ خامس آل عبا کہیں اس کو
- کہو کہ رہبر راہ خدا کہیں اس کو
- کہ شمع انجمن کبریا کہیں اس کو
- کہ جن و انس و ملک سب بجا کہیں اس کو
- کہ لوگ جوہر تیغ قضا کہیں اس کو
- ہمارا منہ ہے کہ دیں اس کے حسن صبر کی داد
- زمام ناقہ کف اس کے میں ہے کہ اہل یقیں
- کہ طالبان خدا رہنما کہیں اس کو
- امام وقت کی یہ قدر ہے کہ اہل عناد
- یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمن دیں
- غلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اس کو
- کہ دواخانۂ ازل میں مگر
- یہ یہ ہو گا کہ فرط رافت سے
- وہ کہ ہے والی ولایت عہد
- بس کہ تیرے حق میں کہتی ہے زباں
- می برد ہر جا کہ خاطر خواہ اوست
- کہ مردوں کو نہ بدلتے ہوئے کفن دیکھا
- جس دن سے کہ ہم غمزدہ زنجیر بپا ہیں
- مزہ تو جب ہے کہ اے آہ نارسا ہم سے
- وہ خود کہے کہ بتا تیری آرزو کیا ہے
- کروں کیا کہ یاں گر رہے ہیں مکاں
- ناتوائی نے نہ چھوڑا بس کہ پیش از عکس جسم
- کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے
- کہ روئے غنچۂ گل سوئے آشیاں پھر جائے
- وہ خط سبز ہے کہ بہ رخسار سادہ ہو
- وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
- یاد آیا جو وہ کہنا کہ نہیں واہ غلط
- زخم دل تم نے دکھایا ہے کہ جی جانے ہے
- ایسے ہنستے کو رلایا ہے کہ جی جانے ہے
- ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پر ستم نکلے
- جو کہ بے چین اور بے آرام ہے
- کیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو برو
- کم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میں
- میں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھر گئے