کھینچ
24 Misre
- بیدل نہ ناز وحشت جیب دریدہ کھینچ
- جوں بوے غنچہ یک نفس آرمیدہ کھینچ
- درد طلب بہ آبلۂ نا دمیدہ کھینچ
- پاے نظر بہ دامن شوق دویدہ کھینچ
- اے خار دشت دامن شوق رمیدہ کھینچ
- یک داغ حسرت نفس نا کشیدہ کھینچ
- فرش طرب بہ گلشن نا آفریدہ کھینچ
- ساغر بہ بارگاہ دماغ رسیدہ کھینچ
- وحشت نہ کھینچ قاتل حیرت نفس ہے بسمل
- اے ہرزہ دری منت تمکین جنوں کھینچ
- نہ کھینچ اے سعیٔ دست نارسا زلف تمنا کو
- رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
- دو عالم کی ہستی پہ خط فنا کھینچ
- نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ
- اگر شراب نہیں انتظار ساغر کھینچ
- برنگ خار مرے آئنہ سے جوہر کھینچ
- کیا ہے کس نے اشارا کہ ناز بستر کھینچ
- بہ کوری دل و چشم رقیب ساغر کھینچ
- نیام پردۂ زخم جگر سے خنجر کھینچ
- بروئے سفرہ کباب دل سمندر کھینچ
- اگر یہی عرق فتنہ ہے مکرر کھینچ
- ہمارے صفحے پہ بال پری سے مسطر کھینچ
- دل گداختہ کے میکدے میں ساغر کھینچ
- کھینچ لیتے ہیں یہ ڈورے ڈال کر