کھول
6 Misre
گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
ہم نے دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
کھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
ہے خون جگر جوش میں دل کھول کے روتا
جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو
کھول کر دروازۂ میخانہ بولا مے فروش
ک
All Letters