کھلے
6 Misre
ہم پکاریں اور کھلے یوں کون جاے
گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی
تا کہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقل
کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یارب
کھلے یہ گانٹھ تو البتہ دم نکل جاوے
کبھی کسی سے کھلے گی نہ زینہار گرہ
ک
All Letters