کھلا
62 Misre
- حلقۂ گیسو کھلا دور خط رخسار پر
- کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا
- کاش کے ہوتا قفس کا در کھلا
- یار کا دروازہ پاویں گر کھلا
- دوست کا ہے راز دشمن پر کھلا
- زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا
- کب کمر سے غمزے کی خنجر کھلا
- رہروی میں پردۂ رہبر کھلا
- آگ بھڑکی منہ اگر دم بھر کھلا
- رہ گیا خط میری چھاتی پر کھلا
- ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا
- پھر مہ و خرشید کا دفتر کھلا
- بادباں بھی اٹھتے ہی لنگر کھلا
- یاں عرض سے رتبۂ جوہر کھلا
- بادشہ کا رایت لشکر کھلا
- اب علو پایۂ منبر کھلا
- اب عیار آبروے زر کھلا
- اب مآل سعی اسکندر کھلا
- اب فریب طغرل و سنجر کھلا
- دفتر مدح جہاں داور کھلا
- عجز اعجاز ستایش گر کھلا
- تم پہ اے خاقان نام آور کھلا
- ہے طلسم روز و شب کا در کھلا
- بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
- رکھیو یا رب یہ در گنجینۂ گوہر کھلا
- شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا منظر کھلا
- اس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا
- آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر کھلا
- پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
- خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
- زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا
- جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا
- آج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا
- نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا
- واسطے جس شہہ کے غالبؔ گنبد بے در کھلا
- یک قدم وحشت سے درس دفتر امکاں کھلا
- کھلا کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں
- پھر کھلا ہے در عدالت ناز
- تجھ سے عالم پہ کھلا رابطۂ قرب کلیم
- صبح دم دروازۂ خاور کھلا
- مہر عالم تاب کا منظر کھلا
- شب کو تھا گنجینۂ گوہر کھلا
- صبح کو راز مہ و اختر کھلا
- دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
- موتیوں کا ہر طرف زیور کھلا
- اک نگار آتشیں رخ سر کھلا
- بادۂ گلرنگ کا ساغر کھلا
- رکھ دیا ایک جام زر کھلا
- کعبۂ امن و اماں کا در کھلا
- خسرو آفاق کے منہ پر کھلا
- راز ہستی اس پر سر تا سر کھلا
- مقصد نہ چرخ و ہفت اختر کھلا
- عقدہ احکام پیغمبر کھلا
- اس کے سرہنگوں کا جب دفتر کھلا
- واں لکھا ہے چہرۂ قیصر کھلا
- تھان سے وہ غیرت صرصر کھلا
- تو کہے بت خانہ آزر کھلا
- منصب مہر و مہ و محور کھلا
- میری حد وسع سے باہر کھلا
- کس نے کھولا کب کھلا کیوں کر کھلا
- مجھ سے گر شاہ سخن گستر کھلا
- لوگ جانیں طبلۂ عنبر کھلا