کچھ
107 Misre
- غالبؔ کچھ اپنی سعی سے کہنا نہیں مجھے
- غالبؔ ہے رتبہ فہم تصور سے کچھ پرے
- کچھ نہ کچھ روز ازل تم نے لکھا ہے تو سہی
- کچھ نہیں حاصل تعلق میں بغیر از کشمکش
- کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
- ہے یہ سیاق گفتگو کچھ نہ سمجھ فنا سمجھ
- زہر کچھ اور سہی آب بقا اور سہی
- چمن میں کچھ نہ چھوڑا تو نے غیر از بیضۂ قمری
- کچھ نہ کی اپنی جنون نارسا نے ورنہ یاں
- کچھ نہ کی اپنے جنون نارا سنے ورنہ یاں
- نہ پوچھ کچھ سروسامان کاروبار اسدؔ
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- جو کچھ ہے محو شوخی ابروے یار ہے
- بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
- کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
- تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
- ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں
- تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم
- غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں
- جو کچھ ہے محو شوخی ابروئے یار ہے
- کچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
- ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
- جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
- نہیں کچھ سبحہ و زنار کے پھندے میں گیرائی
- رہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق خواری ہائے ہائے
- کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
- کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
- میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
- ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے مگر ہے کیا کہئے
- غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں
- سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
- کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
- آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
- ورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں
- کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
- اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
- کچھ تو دے اے فلک ناانصاف
- غالبؔ ہے رتبہ فہم تصور سے کچھ پرے
- خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
- ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالبؔ
- تیرا ترکش ہی کچھ آبستنیٔ تیر نہیں
- بھلا اسے نہ سہی کچھ مجھی کو رحم آتا
- جوش جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں اسدؔ
- آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
- ہاں کچھ نہ کچھ تلافئ مافات چاہیے
- تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے
- ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
- بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں
- میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
- قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو
- درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں
- رکھوں کچھ اپنی بھی مژگان خوں فشاں کے لیے
- کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
- اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
- نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
- مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوا
- کہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں
- جان کر کیجے تغافل کہ کچھ امیدؔ بھی ہو
- ہوں سراپا ساز آہنگ شکایت کچھ نہ پوچھ
- پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
- کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
- یک قلم منظور ہے جو کچھ پریشانی کرے
- کچھ ادھر کا بھی اشارا چاہیے
- کچھ تو اسباب تمنا چاہیے
- غالبؔ کچھ اپنی سعی سے لہنا نہیں مجھے
- ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
- کچھ ہماری خبر نہیں آتی
- پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے
- کچھ تو پیغام زبانی اور ہے
- کچھ کہہ نہ سکوں پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
- مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے
- اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو
- کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو
- جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
- پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی
- ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
- اس میں کچھ شائبۂ خوبی تقدیر بھی تھا
- ہاں کچھ اک رنج گراں باری زنجیر بھی تھا
- یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- کچھ اور ہی عالم ہے دل و چشم و زباں کا
- کچھ اور ہی نقشا نظر آتا ہے جہاں کا
- اب صاعقہ و مہر میں کچھ فرق نہیں ہے
- کچھ تو جاڑے میں چاہیے آخر
- کچھ خریدا نہیں ہے اب کے سال
- کچھ بنایا نہیں ہے اب کی بار
- افطار صوم کی کچھ اگر دستگاہ ہو
- جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو
- کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے
- فقط ہزار برس پر کچھ انحصار نہیں
- گرہ کا نام لیا پر نہ کر سکا کچھ بات
- کہہ چکا میں تو سب کچھ اب تو کہہ
- آقاے نامور سے نہ کچھ کر سکا کلام
- ملک و سپہ نہ ہو تو نہ ہو کچھ ضرر نہیں
- ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
- تو پھر کہیں کہ کچھ اس سے سوا کہیں اس کو
- بارے آموں کا کچھ بیاں ہوجائے
- خود بخود کچھ ہم سے کنیانے لگا
- کچھ تو اسباب تمنا چاہیے
- میں نے جمنا کا کچھ نہ لکھا حال
- کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے
- منہ سے کچھ کہنے کو گفتن جانیے
- شعر کے پڑھنے میں کچھ حاصل نہیں
- اس کو آمد نامہ کچھ مشکل نہیں
- ہاں فراوانی اگر کچھ ہے تو ہے آفات میں
- کچھ نہیں کہتا کسی سے سن رہا ہوں سب کی بات