کوہ
20 Misre
- تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
- صدا ہے کوہ میں حشر آفریں اے غفلت اندیشاں
- کف افسوس فرصت سنگ کوہ طور ملتے ہیں
- ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا
- ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا
- تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
- قد و گیسو میں قیس و کوہ کن کی آزمائش ہے
- کریں گے کوہ کن کے حوصلے کا امتحان آخر
- دی سادگی سے جان پڑوں کوہ کن کے پاؤں
- کوہ کن نقاش یک تمثال شیریں تھا اسدؔ
- آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
- آبگینہ کوہ پر عرض گراں جانی کرے
- گل بہ کوہ از لالہ بزم ساز بیتابی
- کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے
- کوہ کن گر سنہ مزدور طرب گاہ رقیب
- کوہ کو بیم سے اس کے ہے جگر باختگی
- کہ دشت و کوہ کے اطراف میں بہر سر راہ
- کوہ و صحرا ہمہ معموری شوق بلبل
- نرم رفتار ہو جس کوہ پہ وہ برق گداز
- کوہ کو ہندی میں کہتے ہیں پہاڑ