کون
31 Misre
- دیکھوں اب مرگئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
- چمن میں کون ہے طرز آفرین شیوۂ عشق
- کون آیا جو چمن بے تاب استقبال ہے
- کون گل سے ضعف و خاموشی بلبل کہہ سکے
- اک منہ ہے کون کون سے ارماں نکالیے
- ہم پکاریں اور کھلے یوں کون جاے
- کون ہے داغ کہ شعلے کا عناں گیر آوے
- وا کرسکے یاں کون بجز کاوش شوخی
- کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
- کون لا سکتا ہے تاب جلوۂ دیدار دوست
- کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
- دیکھوں اب مر گئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
- پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
- کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق
- غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
- اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
- کہتا ہے کون نالۂ بلبل کو بے اثر
- مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے
- تم کون سے تھے ایسے کھرے داد و ستد کے
- کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
- چمن میں کون ہے طرز آفرین شیوۂ عشق
- یہ کون کہوے ہے آباد کر ہمیں لیکن
- ہاں اہل طلب کون سنے طعنۂ نایافت
- اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں
- اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
- قبلۂ کون و مکاں خستہ نوازی میں یہ دیر
- میں کون اور ریختہ ہاں اس سے مدعا
- اس کے فقروں میں کون آتا ہے
- ماہ بن ماہتاب بن میں کون
- کون ہے جس کے در پہ ناصبہ سا
- آم کا کون مرد میداں ہے