کوئی
161 Misre
- دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروے کار
- دوست گر کوئی نہیں ہے جو کرے چارہ گری
- شکر سمجھو اسے یا کوئی شکایت سمجھو
- جب نہ پاؤں کوئی غم خوار کہوں یا نہ کہوں
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- آئنہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
- ہر کوئی درماندگی میں نالے سے ناچار ہے
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- کوئی آگاہ نہیں باطن ہم دیگر سے
- دیکھیو غالبؔ سے گر الجھا کوئی
- کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے واعظ
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- آجا لب بام کوئی کب تک
- نہ دیکھا کوئی ہم نے آشیاں بلبل کا گلشن میں
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- ہستی کو لفظ معنی عنقا کرے کوئی
- تا چند باغبانی صحرا کرے کوئی
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- صحرا کہاں کہ دعوت دریا کرے کوئی
- تدبیر پیچ تاب نفس کیا کرے کوئی
- دکھلا کے اس کو آئنہ توڑا کرے کوئی
- پانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے
- عاجزی سے ظاہرا رتبہ کوئی برتر نہیں
- ابن مریم ہوا کرے کوئی
- میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
- ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
- دل میں ایسے کے جا کرے کوئی
- وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
- کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
- نہ سنو گر برا کہے کوئی
- نہ کہو گر برا کرے کوئی
- روک لو گر غلط چلے کوئی
- بخش دو گر خطا کرے کوئی
- کس کی حاجت روا کرے کوئی
- اب کسے رہنما کرے کوئی
- کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- بے تکلف دوست ہو جیسے کوئی غم خوار دوست
- ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
- ہر کوئی درماندگی میں نالہ سے ناچار ہے
- رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
- آئنہ خانہ میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
- کوئی بتاؤ کہ وہ زلف خم بہ خم کیا ہے
- لکھا کرے کوئی احکام طالع مولود
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- مسجد ہو مدرسہ ہو کوئی خانقاہ ہو
- جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی
- مشکل کہ تجھ سے راہ سخن وا کرے کوئی
- کب تک خیال طرۂ لیلا کرے کوئی
- ہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
- آخر کبھی تو عقدۂ دل وا کرے کوئی
- کیا فائدہ کہ جیب کو رسوا کرے کوئی
- تا چند باغبانی صحرا کرے کوئی
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
- فرصت کہاں کہ تیری تمنا کرے کوئی
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
- پہلے دل گداختہ پیدا کرے کوئی
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- ہستی کو لفظ معنی عنقا کرے کوئی
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- صحرا کہاں کہ دعوت دریا کرے کوئی
- دکھلا کے اس کو آئنہ توڑا کرے کوئی
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
- یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
- کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
- اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھا دے
- منصب شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہا
- غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی
- در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
- پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
- روبرو کوئی بت آئنہ سیما نہ ہوا
- کس طرح کاٹے کوئی شب ہائے تار برشگال
- جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
- روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
- کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا
- جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہ عشق کی
- صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
- رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
- رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
- ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو
- کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
- پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار
- اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- پانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے
- کوئی نہیں تیرا تو مری جان خدا ہے
- سست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
- غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
- دنیا میں کوئی عقدۂ مشکل نہیں رہا
- ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیں
- ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
- فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
- پر تجھ سی کوئی شئے نہیں ہے
- لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
- تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور
- ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
- مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
- کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
- کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
- پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
- کرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور
- بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
- کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور
- قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
- میرا ذمہ دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے
- واں تلک کوئی کسی حیلے سے پہنچا دے مجھے
- نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومار ناز ایسا
- مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
- کوئی تقصیر بجز خجلت تقصیر نہیں
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- کوئی دن اور بھی جیے ہوتے
- رہی نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لیے
- کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
- کوئی کہے کہ شب مہ میں کیا برائی ہے
- نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں
- مٹتا ہے فوت فرصت ہستی کا غم کوئی
- برق ہنستی ہے کہ فرصت کوئی دم ہے ہم کو
- تری طرح کوئی تیغ نگہ کو آب تو دے
- کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
- کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو
- دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
- کوئی امید بر نہیں آتی
- کوئی صورت نظر نہیں آتی
- کوئی دن گر زندگانی اور ہے
- یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وہ آئے
- آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
- اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے گا کیا
- لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
- کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے
- مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
- عاجزی سے ظاہراً رتبہ کوئی برتر نہیں
- آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
- کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
- آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
- آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا
- کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
- لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا کوئی دم چین
- کرتا جو نہ مرتا کوئی دن آہ و فغاں اور
- کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
- کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
- کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک
- بھاتی نہیں ہے اب مجھے کوئی نوشت خواند
- اس سے جو کوئی بہرہ ور ہو گا
- جہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے
- گوندھے پھولوں کا بھلا پھر کوئی کیوں کر سہرا
- دیکھیں اس سہرے سے کہدے کوئی بڑھ کر سہرا
- کہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں
- تھا موجد عشق بھی قیامت کوئی
- ان سیم کے بیجوں کو کوئی کیا جانے
- بتلاؤ کوئی کہ تھی برائی کس میں
- ہوس نہ رہ جائے کوئی باقی گناہ کیجے تو خوب کیجے
- کوئی اس کا جواب دو صاحب
- کوئی اس کا جواب کیا لکھتا
- آئینۂ خیال کو دیکھا کرے کوئی