کو
961 Misre
- مژگاں کو دوں فشار پئے امتحان اشک
- دل خستگاں کو ہے طرب صد چمن بہار
- ایراہی دے کے ہم نے بچایا ہے کشت کو
- بھولا ہوں حق صحبت اہل کنشت کو
- دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
- ٹیڑھا لگا ہے قط قلم سر نوشت کو
- خرمن جلے اگر نہ بلخ کھائے کشت کو
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- اختر کو داغ سایہ بال ہما کہوں
- ہر تار زلف کو نگہ سرمہ سا کہوں
- آئینہ خیال کو طوطی نما کہوں
- ہے عجز بندگی کہ علی کو خدا کہوں
- فانوس شمع کو پر پروانہ چاہیے
- حسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
- اے بے تمیز گنج کو ویرانہ چاہیے
- پر بلبل کے افسردن کو دامن چیدنی جانے
- تجھ کو اے غفلت نسب پرواے مشتاقاں کہاں
- گر دکھاؤں صفحۂ بے نقش رنگ رفتہ کو
- حلقۂ گرداب جوہر کو بنا ڈالے تنور
- توڑ بیٹھے جب کہ ہم جام و سبو پھر ہم کو کیا
- عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- گو یاد مجھ کو کرتے ہیں خوباں
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- تپیدن دل کو سوز عشق میں خواب فرامش ہے
- نشاط دیدہ بینا ہے کو خواب و چہ بیداری
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- سمندر کو پر پروانہ سے کافور ملتے ہیں
- کہ صبح عید مجھ کو بدتر از چاک گریباں ہے
- تبسم برگ گل کو بخیہ دامن نہ ہوجاوے
- لڑاوے گروہ بزم مے کشی میں قہر و شفقت کو
- فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراں
- اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے
- دیا داغ جگر کو آہ نے ساماں شگفتن کا
- اسدؔ قدرت سے حیدر کی ہوئی ہر گبر و ترسا کو
- نگہ کو آبلوں سے شغل ہے اختر شماری کا
- گر کرے انجام کو آغاز ہی میں یاد گل
- گربہ بزم باغ کھینچے نقش روے یار کو
- شورش باطن سے یاں تک مجھ کو غفلت ہے کہ آہ
- کیوں نہ تیغ یار کو مشاطہ الفت کہوں
- خار پیراہن رگ بستر کو نشتر ہو گیا
- ہے عجب مردوں کو غفلت ہاے اہل دہر سے
- یاں صریر خامہ مجھ کو نالۂ رنجور ہے
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- راہ خوابیدہ کو غوغائے جرس افسانہ تھا
- کو بوقت قتل حق آشنائی اے نگاہ
- بدگماں کرتی ہے عاشق کو خود آرائی تری
- بے دلوں کو ہے برات اضطراب آئینے پر
- جوہر شمشیر کو ہے پیچ تاب آئینے پر
- دل کو توڑا جوش بیتابی سے غالب کیا کیا
- بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد
- کیجیے آہوے ختن کو خضر صحراے طلب
- یاں صریر خامہ مجھ کو نالۂ جانکاہ ہے
- موے شیشہ کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم
- پنجۂ خرشید کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم
- سنبل بالیدہ کو موے سر دیوانہ ہم
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- جانتے ہیں سینۂ پرخوں کو زنداں خانہ ہم
- قطرے کو جوش عرق کرتا ہے دریا دستگاہ
- کس کو دوں یارب حساب سوزناکی ہائے دل
- تھا مجھ کو خار خار جنون وفا اسدؔ
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- بے فائدہ یاروں کو فرق غم و شادی ہے
- سمجھا ہوا ہوں عشق میں نقصاں کو فائدہ
- بلبلوں کو دور سے کرتا ہے منع بار باغ
- آتش رنگ رخ ہر گل کو بخشے ہے فروغ
- مری فریاد کو کہسار ساز عجز نالی ہے
- نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- چاک گریباں کو ہے ربط تامل ہنوز
- حیف ہے ان کو جو سمجھیں زندگانی مفت ہے
- گر صفحے کو نہ دیجیے پرواز سادگی
- ہر دانۂ اشک کو گہر کر
- کاسۂ زانو ہے مجھ کو بیضۂ طاؤس و بس
- حیا کو انتظار جلوہ ریزی کے کمیں پایا
- خضر کو چشمۂ آب بقا سے تر جبیں پایا
- خیال شوخی خوباں کو راحت آفریں پایا
- اسدؔ کو پیچ تاب طبع برق آہنگ مسکن سے
- طائر سیماب کو شعلہ رگ دام ہے
- کو نفس وچہ غبار جرأت عجز آشکار
- کس کو وفا کا سلسلہ جنباں اٹھائیے
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
- ہنوز حسن کو ہے سعی جلوہ اندوزی
- جز غبار کردہ سیر آہنگی پرواز کو
- بطرز گل رگ جاں مجھ کو تار داماں ہے
- جنوں نے مجھ کو بنایا ہے مدعی میرا
- اسدؔ کو زیست تھی مشکل اگر نہ سن لیتا
- کہ قتل عاشق دلدادہ تجھ کو آساں ہے
- شکست گوشہ گیراں ہے فلک کو حاصل گردش
- شمع آسا چہ سر دعوی و کو پاے ثبات
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- کہ خامشی کو ہے پیرایۂ بیاں تجھ سے
- مینا شکستگاں کو کہسار خوں بہا ہے
- اس موج مے کو غافل پیمانہ نقش پا ہے
- یعنی سخن کو کاغذ احرام مدعا ہے
- رشتۂ فہمید ممسک ہے بہ بند کو تہی
- زمیں کو صفحۂ گلشن بنایا خونچکانی نے
- حاصل دلبستگی ہے عمر کو نہ اور بس
- نقش پائے مور کو تخت سلیمانی کرے
- عشق کو ہر رنگ شان حسن ہے مد نظر
- منع مت کر حسن کی ہم کو پرستش سے کہ ہے
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- اسدؔ طرز عروج اضطراب دل کو کیا کہیے
- سمجھتا ہوں تپش کو الفت قاتل کی تاثیریں
- آج کی شب چشم کو کب تک پریدن منع ہے
- ریشۂ زیر زمیں کو بھی دویدن منع ہے
- حسن خود آرا کو ہے مشق تغافل ہنوز
- مال سنّی کو مباح اور خون صوفی کو حلال
- ہر شمع شہادت کو ہے یاں سر بسر انگشت
- نہیں ہے آہ کو ایماے تیرہ بالیدن
- دیوانگاں کو واں ہوس خانماں نہیں
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- حسرت فرصت جہاں دیتی ہے حیرت کو رواج
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- ساقیا دے ایک ہی ساغر میں سب کو مے کہ آج
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- دیکھ کر تجھ کو چمن بس کہ نمو کرتا ہے
- ہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشق تیرہ روزی تھی
- تکلف کو خیال آیا ہو گر بیمار پرسی کا
- خبر نگہ کو نگہ چشم کو عدو جانے
- گداز حوصلہ کو پاس آبرو جانے
- لہو میں ہاتھ کے بھرنے کو جو وضو جانے
- خواہش دل ہے زیاں کو سبب گفت و بیاں
- کہ موم آئینہ تمثال کو تعویذ بازو تھا
- ہمیشہ دیدۂ گریاں کو آب رفتہ در جو تھا
- اشارت فہم کو ہر ناخن بریدہ ابرو تھا
- کلفت افسردگی کو عیش بے تابی حرام
- یقین ہے آدمی کو دستگاہ فقر حاصل ہو
- تیغ ستم کو پشت خم التجا کروں
- رگ بستر کو ملی شوخی مژگاں مجھ سے
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
- گداز دل کو کرتی ہے کشود چشم شب پیما
- نہیں ہے رشتۂ الفت کو اندیشہ گستن کا
- عکس کجا و کو نظر نقش کو مدعا سمجھ
- گر کف دست بام ہے آئنے کو ہوا سمجھ
- گر نہ مٹیں یہ کوہسار آپ کو تو صدا سمجھ
- رند تمام ناز رہ خلق کو پارسا سمجھ
- اے دل و جان خلق تو ہم کو آشنا سمجھ
- لغزش پا کو ہے بلد نغمۂ یا علی مدد
- ٹوٹے گر آئنہ اسدؔ سبحہ کو خوں بہا سمجھ
- وہ بے دماغ جس کو ہوس بھی تپاک ہے
- ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈ
- مفت کا کس کو برا ہے بدرقہ
- کو بیابان تمنا و کجا جولان عجز
- آبلے پا کے ہیں یاں رفتار کو دندان عجز
- حسن کو غنچوں سے ہے پوشیدہ چشمی ہاے ناز
- کیا ضعف میں امید کو دل تنگ نکالوں
- یک نشو و نما جا نہیں جولان ہوس کو
- ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزری
- وہ نہیں ہم کہ چلے جائیں حرم کو اے شیخ
- کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں یارب
- مجھ کو وہ دو کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- خجلت کش وفا کو شکایت نہ چاہیے
- منقار سے رکھتا ہوں بہم چاک قفس کو
- تا گل زجگر زخم میں ہے راہ نفس کو
- سمجھا ہوں زرہ جوہر شمشیر عسس کو
- چھیڑو نہ مجھ افسردۂ دزدیدہ نفس کو
- فرسودن پاے طلب و دست ہوس کو
- کہتے ہیں کہ تاثیر ہے فریاد جرس کو
- عاشق کو غبار دل اک وجۂ صفائی ہے
- سبب وارستگاں کو ننگ ہمت ہے خداوندا
- فتنۂ خوابیدہ کو آئینہ مشت آب تھا
- میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
- تھی میرے ہی جلانے کو اے آہ شعلہ ریز
- ہیں میری مشت خاک سے اس کو کدورتیں
- دل کو اے بیداد خو تعلیم خارائی عبث
- دل کو اے بیداد خو تعلیم خارائی عبث
- نہیں ہے بے سبب قطرے کو شکل گوہر افسردن
- دیا ابرو کو چھیڑ اور اس نے فتنے کو اشارت کی
- عصاے سبز دے نرگس کو دی خدمت نظارت کی
- ملی ہے جوہر آئینہ کو جوں بخیہ گیرائی
- جنوں کو سخت بیتابی ہے تکلیف شکیبائی
- اگر اس شعلہ رو کو دوں پیام مجلس افروزی
- ہوں خاکسارپر نہ کسی سے ہے مجھ کو لاگ
- ملک کے وارث کو دیکھا خلق نے
- ہم کو جلدی ہے مگر تو نے قیامت ڈھیل کی
- دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
- غالبؔ ایسے گنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا
- اعمی کو سرمۂ چشم آواز آشنا ہے
- دیوانگی ہے تجھ کو درس خرام دینا
- حضرت چلے حرم کو اب آپ کا خدا ہے
- جوں گوہر اشک کو ہے فرامش چکیدگی
- گلشن کو رنگ گل سے ہے درخوں طپیدگی
- نکہت گل کو ہے غنچے میں نفس دزدیدن
- بتاں زہراب اس شدت سے دو پیکان ناوک کو
- نذر مژہ کر دل و جگر کو
- عاشق کو یہ چاہیے کہ ہرگز
- دیوار سے اپنے سر کو پھوڑے
- جاتے ہیں رقیب کو خط اس کے
- غم خوار کو ہے قسم زنہار
- غالبؔ کو نہ تشنہ کام چھوڑے
- اسد کو گر از چشم کم دیکھتے ہیں
- ہوئی یہ بیخودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سے
- کجا معزولی آئینہ کو ترک خود آرائی
- دیتا ہوں کشتگاں کو سخن سے سر تپش
- کوچۂ موج کو خمیازۂ ساحل باندھا
- ہوا ہے کاٹ کے چادر کو ناگہاں غائب
- غش آ گیا جو پس از قتل میرے قاتل کو
- ہوئی ہے اس کو مری لاش بے کفن تکیہ
- اب اس کو کہتے ہیں اہل سخن سخن تکیہ
- ہم اور تم فلک پیر جس کو کہتے ہیں
- واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام
- واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
- فتنۂ خوابیدہ کو آئینہ مشت آب تھا
- میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
- شکوہ و شکر کو ثمر بیم و امید کا سمجھ
- آئنہ توڑ اے خیال جلوے کو خوں بہا سمجھ
- رشتۂ عمر خضر کو نالۂ نارسا سمجھ
- خار کو بے نیام جان ہم کو برہنہ پا سمجھ
- شوق کو منفعل نہ کر ناز کو التجا سمجھ
- بسمل درد خفتہ ہوں گریے کو ماجرا سمجھ
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- لطف خمار مے کو ہے در دل ہمدگر اثر
- شعر کی فکر کو اسدؔ چاہیے ہے دل و دماغ
- دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچیے
- وہ تشنۂ سرشار تمنا ہوں کہ جس کو
- کو تیزی رفتار کہ صحرا سے زمیں کو
- ناخن کو جگر کاوی میں بے رنگ نکالوں
- محفل سے مگر شمع کو دل تنگ نکالوں
- گر ہو بلد شوق مری خاک کو وحشت
- صحرا کو بھی گھر سے کئی فرسنگ نکالوں
- کس کو دماغ منت گفت و شنود تھا
- شبنم آسا کو مجال سبحہ گردانی مجھے
- تو وہ بدخو کہ تحیر کو تماشا جانے
- دیکھ اس کو دل سے مٹ گئے بے اختیار داغ
- ہستی کو لفظ معنی عنقا کرے کوئی
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- دکھلا کے اس کو آئنہ توڑا کرے کوئی
- وحشی بن صیاد نے ہم رم خوردوں کو کیا رام کیا
- ماہ کو در تسبیح کواکب جاے نشین امام کیا
- بوسۂ لب سے ملی طبع کو کیفیت حال
- میں جو گردوں کو بہ میزان طبیعت تولا
- بس کہ خوباں باغ کو دیتے ہیں وقت مے شکست
- اس شعلے نے گلگوں کو جو گلشن میں کیا گرم
- پھولوں کو ہوئی باد بہاری وہ ہوا گرم
- دل کو اظہار سخن انداز فتح الباب ہے
- عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- زنجیر یاد پڑتی ہے جادے کو دیکھ کر
- آئنہ خانہ مری تمثال کو زنجیر ہے
- ذرہ دے مجنوں کے کس کس داغ کو پرواز عرض
- میکش مضموں کو حسن ربط خط کیا چاہیے
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
- طوطی کو شش جہت سے مقابل ہے آئنہ
- ہر شمع شہادت کو ہے یاں سربسر انگشت
- آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
- گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
- مجھ کو دیتا ہے پیام وعدۂ دیدار دوست
- چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگر
- بزم ہستی وہ تماشا ہے کہ جس کو ہم اسدؔ
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- درکار ہے شگفتن گل ہائے عیش کو
- کس فرصت وصال پہ ہے گل کو عندلیب
- آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
- خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
- پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
- شمع آسا چہ سر دعویٰ و کو پاۓ ثبات
- گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے
- گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
- غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
- در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
- آج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا
- خیال مرگ کب تسکیں دل آزردہ کو بخشے
- نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
- آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
- وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو
- دے بط مے کو دل و دست شنا موج شراب
- موج ہستی کو کرے فیض ہوا موج شراب
- نگاہ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار
- غلام ساقیٔ کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے
- یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
- تھی میرے ہی جلانے کو اے آہ شعلہ ریز
- ہیں میری مشت خاک سے اس کو کدورتیں
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
- غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو
- تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
- اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل
- میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
- تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیا
- تم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے
- مری فریاد کو کہسار ساز عجز مالی ہے
- نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- کہ خار خشک کو بھی دعواۓ چمن نسبی ہے
- تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
- مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
- خوشا اقبال رنجوری عیادت کو تم آئے ہو
- ہماری دید کو خواب زلیخا عار بستر ہے
- تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
- برق کو پابہ حنا باندھتے ہیں
- اشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں
- لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
- میرے ہاتھوں کو جدا باندھتے ہیں
- شوق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں
- چشم زنجیر کو وا باندھتے ہیں
- جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع
- ورنہ کس کو میرے افسانے کی تاب استماع
- جوہر آئنہ کو طوطی بسمل باندھا
- گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- ہم نے دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- کوچۂ موج کو خمیازۂ ساحل باندھا
- کیا فائدہ کہ جیب کو رسوا کرے کوئی
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- بیکاری جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل
- ہستی کو لفظ معنی عنقا کرے کوئی
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- دکھلا کے اس کو آئنہ توڑا کرے کوئی
- نگاہ بے حجاب ناز کو بیم گزند آیا
- عدم ہے خیر خواہ جلوہ کو زندان بیتابی
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- کس کو دماغ منت گفت و شنود تھا
- دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر
- کچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
- گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کو
- ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
- نہ کھینچ اے سعیٔ دست نارسا زلف تمنا کو
- اسدؔ کو بوریے میں دھر کے پھونکا موج ہستی نے
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا
- کہ مرے عدو کو یارب ملے میری زندگانی
- بہ فراز گاہ عبرت چہ بہار و کو تماشا
- نہ وفا کو آبرو ہے نہ جفا تمیز جو ہے
- شرر اسیر دل کو ملے اوج عرض اظہار
- کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
- لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاو
- یا رب اپنے خط کو ہم پہنچایں کیا
- قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
- کسو کو زخود رستہ کم دیکھتے ہیں
- کہ آہو کو پابند رم دیکھتے ہیں
- مژہ کو جواہر رقم دیکھتے ہیں
- اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھا دے
- ہے نامہ بر کو اس سے دعوائے ہم کلامی
- ہے شرح شوق کو بھی جوں شکوہ ناتمامی
- ہے یاس میں اسدؔ کو ساقی سے بھی فراغت
- کہ دیجے آئنۂ انتظار کو پرداز
- کہ تار جادہ بھی کہسار کو زنار مینا ہو
- در خور عرض نہیں جوہر بیداد کو جا
- وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے
- ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا
- خضر سلطاں کو رکھے خالق اکبر سرسبز
- ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
- دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
- نسیم مصر کو کیا پیر کنعاں کی ہوا خواہی
- حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
- مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
- ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں
- اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں
- کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں
- یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں
- پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں
- خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
- کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
- جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں
- سمجھا ہوں دل پذیر متاع ہنر کو میں
- دیکھوں علی بہادر عالی گہر کو میں
- تبسم برگ گل کو بخیۂ دامن نہ ہو جاوے
- اسد کو حسرت عرض نیاز تھی دم قتل
- یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
- کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کس لیے
- غالبؔ وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
- سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا
- نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا
- درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
- کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال
- عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے
- گل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیا
- جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
- دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
- ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
- اپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں
- جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
- کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا
- گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
- دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
- شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
- دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے
- رہے ہے یوں گہہ و بے گہہ کہ کوئے دوست کو اب
- زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب
- دل کو نیاز حسرت دیدار کر چکے
- ڈر نالہ ہائے زار سے میرے خدا کو مان
- دیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہا
- دی مرے بھائی کو حق نے از سر نو زندگی
- غیر کو یا رب وہ کیونکر منع گستاخی کرے
- گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
- شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے
- نقش کو اس کے مصور پر بھی کیا کیا ناز ہیں
- آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا
- درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوں
- تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دشمن کو
- ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں
- غم اس کو حسرت پروانہ کا ہے اے شعلے
- جلے ہے دیکھ کے بالین یار پر مجھ کو
- اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
- جوش بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے
- میں نا مراد دل کی تسلی کو کیا کروں
- قاصد پہ مجھ کو رشک سوال و جواب ہے
- کہتا ہے کون نالۂ بلبل کو بے اثر
- دشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے
- جگر کو مرے عشق خوں نابہ مشرب
- مجھ کو ارزانی رہے تجھ کو مبارک ہوجیو
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- رنج رہ کیوں کھینچیے واماندگی کو عشق ہے
- یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
- تھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہاں
- شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
- دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
- نہ آئی سطوت قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
- سراسر تاختن کو شش جہت یک عرصہ جولاں تھا
- تسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے
- اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
- ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ
- کیا غم ہے اس کو جس کا علیؔ سا امام ہو
- واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام
- واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
- کل اسدؔ کو ہم نے دیکھا گوشۂ غم خانہ میں
- خو نے تری افسردہ کیا وحشت دل کو
- کشایش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا
- ہوئی جس کو بہار فرصت ہستی سے آگاہی
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- کس کو وفا کا سلسلہ جنباں اٹھائیے
- مے نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاب
- گوہر کو عقد گردن خوباں میں دیکھنا
- یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
- کلفت افسردگی کو عیش بیتابی حرام
- انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ
- گر نہیں نکہت گل کو ترے کوچے کی ہوس
- چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا
- ہم کو جینے کی بھی امید نہیں
- مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل
- عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
- غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی
- ہر تار زلف کو نگۂ سرمہ سا کہوں
- اختر کو داغ سایۂ بال ہما کہوں
- آئینۂ خیال کو طوطی نما کہوں
- ہے عجز بندگی کہ علی کو خدا کہوں
- مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں کہ ہے
- کیا بیم اہل درد کو سختیٔ راہ کا
- اٹھے تھے سیر گل کو دیکھنا شوخی بہانے کی
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- جانتے ہیں سینۂ پر خوں کو زنداں خانہ ہم
- موئے شیشہ کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم
- پنجۂ خورشید کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم
- سنبل بالیدہ کو موئے سر دیوانہ ہم
- کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
- ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
- ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
- غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
- بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
- رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے
- سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
- دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- تھا مجھ کو خار خار جنون وفا اسدؔ
- قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
- مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجان گلشن کو
- نہ دی ہوتی خدایا آرزوئے دوست دشمن کو
- کیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگان سوزن کو
- خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں
- کبھی میرے گریباں کو کبھی جاناں کے دامن کو
- نہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے توسن کو
- کیا بیتاب کاں میں جنبش جوہر نے آہن کو
- سمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو
- مرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
- شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
- جہاں تلوار کو دیکھا جھکا دیتا تھا گردن کو
- نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
- رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
- جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو
- فریدون و جم و کے خسرو و داراب و بہمن کو
- نہ کر سرگرم اس کافر کو الفت آزمانے میں
- ہوئی یہ بے خودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سے
- کجا معزولیٔ آئینہ کو ترک خود آرائی
- جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
- کیا تعجب ہے جو اس کو دیکھ کر آ جائے رحم
- نگہ کو آبلوں سے شغل ہے اختر شماری کا
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- حسرت فرصت جہاں دیتی ہے حیرت کو رواج
- تیغ ستم کو پشت خم التجا کروں
- شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
- آئینہ دام کو پردے میں چھپاتا ہے عبث
- مجھ کو دیار غیر میں مارا وطن سے دور
- مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
- کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو
- پھر پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشق
- دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے
- مانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوس
- چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو
- اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- نشاط دیدۂ بینا ہے کو خواب و چہ بیداری
- بھلا اسے نہ سہی کچھ مجھی کو رحم آتا
- مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
- نشوونما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو
- صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
- شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
- ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
- منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
- واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو
- کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
- کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
- دیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نمو کرتا ہے
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
- لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا
- گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
- ہم کو تسلیم نکو نامی فرہاد نہیں
- اہل بینش کو ہے طوفان حوادث مکتب
- دی ہے جائے دہن اس کو دم ایجاد نہیں
- تم کو بے مہری یاران وطن یاد نہیں
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- تو وہ بد خو کہ تحیر کو تماشا جانے
- دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
- نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
- میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل
- غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر
- تم کو چاہوں کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے
- رگ لیلیٰ کو خاک دشت مجنوں ریشگی بخشے
- اسدؔ جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا
- ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
- مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوا
- زمیں کو سیلئ استاد ہے نقش قدم میرا
- نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں
- بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں
- جو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیرباد نہیں
- دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
- ہزاروں دل دیے جوش جنون عشق نے مجھ کو
- ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ
- واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار
- اپنے کو دیکھتا نہیں ذوق ستم کو دیکھ
- واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو
- صد رہ آہنگ زمیں بوس قدم ہے ہم کو
- دل کو میں اور مجھے دل محو وفا رکھتا ہے
- کس قدر ذوق گرفتاریٔ ہم ہے ہم کو
- ترے کوچے سے کہاں طاقت رم ہے ہم کو
- ی نگاہ غلط انداز تو سم ہے ہم کو
- نالۂ مرغ سحر تیغ دو دم ہے ہم کو
- سر اڑانے کے جو وعدے کو مکرر چاہا
- ہنس کے بولے کہ ترے سر کی قسم ہے ہم کو
- پاس بے رونقی دیدہ اہم ہے ہم کو
- تم وو نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہو
- ہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو
- ہوس سیر و تماشا سو وہ کم ہے ہم کو
- عزم سیر نجف و طوف حرم ہے ہم کو
- جادۂ رہ کشش کاف کرم ہے ہم کو
- برق ہنستی ہے کہ فرصت کوئی دم ہے ہم کو
- ہجر یاران وطن کا بھی الم ہے ہم کو
- جادۂ رہ کشش کاف کرم ہے ہم کو
- تری طرح کوئی تیغ نگہ کو آب تو دے
- دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو
- اس ستمگر کو انفعال کہاں
- ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستاں سمجھا
- دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔ
- غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا
- شعلۂ عشق کو اپنا سر و ساماں سمجھا
- نہ دے نامے کو اتنا طول غالبؔ مختصر لکھ دے
- تغافل کو نہ کر مصروف تمکیں آزمائی کا
- اس کو کہتے ہیں عالم آرائی
- سبزہ کو جب کہیں جگہ نہ ملی
- چشم نرگس کو دی ہے بینائی
- کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالبؔ
- پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
- دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
- پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
- کندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے
- دیدۂ دل کو زیارت گاہ حیرانی کرے
- خط عارض سے لکھا ہے زلف کو الفت نے عہد
- نقش پائے مور کو تخت سلیمانی کرے
- چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے
- جائے مے اپنے کو کھینچا چاہیے
- چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل
- دشمنی نے میری کھویا غیر کو
- چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسدؔ
- نامہ خود پیغام کو بال و پر پرواز ہے
- شوخی اظہار کو جز وحشت مجنوں اسدؔ
- وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے
- کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو
- کیا غم خوار نے رسوا لگے آگ اس محبت کو
- نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو
- یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
- یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
- بھولا ہوں حق صحبت اہل کنشت کو
- دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
- ٹیڑھا لگا ہے قط قلم سرنوشت کو
- خرمن جلے اگر نہ ملخ کھائے کشت کو
- ایرا ہی دے کے ہم نے بچایا ہے کشت کو
- اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہے
- ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
- ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
- شرم تم کو مگر نہیں آتی
- کچھ کہہ نہ سکوں پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
- دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
- اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
- اچھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
- ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
- حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
- ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا
- ایک بیکسی تجھ کو عالم آشنا پایا
- یاس کو دو عالم سے لب بہ خندہ وا پایا
- کشتۂ تغافل کو خصم خوں بہا پایا
- صبح موجۂ گل کو نقش بوریا پایا
- زخم تیغ قاتل کو طرفہ دل کشا پایا
- تجھ کو جس قدر ڈھونڈا الفت آزما پایا
- نگاہ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
- وہ زخم تیغ ہے جس کو کہ دل کشا کہیے
- جو ناسزا کہے اس کو نہ ناسزا کہیے
- رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجے
- کٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے
- نہیں نگار کو الفت نہ ہو نگار تو ہے
- نہیں بہار کو فرصت نہ ہو بہار تو ہے
- کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
- ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں
- جو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں
- اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں
- قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں
- خار رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں
- آگ مطلوب ہے ہم کو جو ہوا کہتے ہیں
- ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سے
- غافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
- کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا
- دہلی کے رہنے والو اسدؔ کو ستاؤ مت
- رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر
- آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
- ہم کو حریص لذت آزار دیکھ کر
- رہ رو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر
- جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
- یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
- گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ
- کس کو سناؤں حسرت اظہار کا گلہ
- دریا زمین کو عرق انفعال ہے
- دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا
- باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
- گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے
- یاں نالہ کو اور الٹا دعواۓ رسائی ہے
- عاشق کو غبار دل اک وجۂ صفائی ہے
- گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
- ہنوز محرمی حسن کو ترستا ہوں
- دل اس کو پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھے
- فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔ
- ملی نہ وسعت جولان یک جنوں ہم کو
- عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا
- وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو
- بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار
- ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے
- کہ صبح عید مجھ کو بد تر از چاک گریباں ہے
- غم آغوش بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کو
- کہ جامے کو عرق سعی عروج نشہ رنگیں تر
- ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے
- وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
- رگ بستر کو ملی شوخیٔ مژگاں مجھ سے
- مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
- اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
- ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
- غالبؔ کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کرتے
- نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے
- ہم کو ستم عزیز ستم گر کو ہم عزیز
- غالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں
- دیوانگاں کو واں ہوس خانماں نہیں
- عشق كا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- دل کو اظہار سخن انداز فتح الباب ہے
- ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
- ہوس کو پاس ناموس وفا کیا
- قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
- یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی
- دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
- پیشہ میں عیب نہیں رکھیے نہ فرہاد کو نام
- ہم تھے مرنے کو کھڑے پاس نہ آیا نہ سہی
- ڈھونڈے ہے اس مغنی آتش نفس کو جی
- ہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے
- خواری کو بھی اک عار ہے عالی نسبوں سے
- گو تم کو رضا جوئی اغیار ہے لیکن
- دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
- ابرو سے ہے کیا اس نگہ ناز کو پیوند
- جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
- لوگوں کو ہے خورشید جہاں تاب کا دھوکا
- فانوس شمع کو پر پروانہ چاہیے
- حسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
- اے بے تمیز گنج کو ویرانہ چاہیے
- کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
- کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
- یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
- کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں
- کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
- نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
- یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
- ترے جواہر طرف کلہ کو کیا دیکھیں
- ہم اوج طالع لعل و گہر کو دیکھتے ہیں
- اب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی
- تاب سخن و طاقت غوغا نہیں ہم کو
- ماتم میں شہ دیں کے ہیں سودا نہیں ہم کو
- گھر پھونکنے میں اپنے محابا نہیں ہم کو
- گر چرخ بھی جل جائے تو پروا نہیں ہم کو
- بخت ناساز نے چاہا کہ نہ دے مجھ کو اماں
- چرخ کج باز نے چاہا کہ کرے مجھ کو ذلیل
- تم نے مجھ کو جو آبرو بخشی
- کہ گر اپنے کو میں کہوں خاکی
- جانتا ہوں کہ آئے خاک کو عار
- پیر و مرشد اگرچہ مجھ کو نہیں
- رات کو آگ اور دن کو دھوپ
- مجھ کو دیکھو تو ہوں بقید حیات
- قہر ہے گر کرو نہ مجھ کو پیار
- تا نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار
- چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
- گل کدۂ تلاش کو ایک ہے رنگ ایک بو
- ریختے کے قماش کو پود ہے ایک تار ایک
- زندۂ شوق شعر کو ایک چراغ انجمن
- کشتۂ ذوق شعر کو شمع سر مزار ایک
- جان وفا پرست کو ایک شمیم نو بہار
- فرق ستیزہ مست کو ابر تگرگ بار ایک
- کرکے دل و زبان کو غالبؔ خاکسار ایک
- سبزے کو روندتا پھرے پھولوں کو جائے پھاند
- وضع میں اس کو اگر سمجھیے قاف تریاق
- بندہ پرور کے کف دست کو دل کیجیے فرض
- اور اس چکنی سپاری کو سویدا کہیے
- اس طرف کو نہیں جاتے ہیں جو جاتے ہیں تو کم
- کہ جہاں چرنے کو آتے ہیں غزالان حرم
- اس کو کرتے ہیں بہت بڑھ کے بہ اغراق رقم
- دو دعائیں ہیں کہ وہ دیتے ہیں نواب کو ہم
- یا خدا غالبؔ عاصی کے خدا وند کو دے
- اس شخص کو ضرور ہے روزہ رکھا کرے
- جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو
- فکر تاریخ سال میں مجھ کو
- دیے ناگاہ مجھ کو دکھلائی
- مگر اب ذوق بذلہ سنجی کو
- جس سے ہے چشم جاں کو بینائی
- جس سے ایماں کو ہے توانائی
- ان کو غالبؔ یہ سال اچھا ہے
- کہ دلی کو چھوڑیں لوہارو کو جائیں
- ہوا حکم باورچیوں کو کہ ہاں
- کہو اس کو کیا کھا کے ہم حظ اٹھائیں
- خدا نے تجھ کو عطا کی ہے گوہر افشانی
- شفا ہو آپ کو غالبؔ کو بند غم سے نجات
- مگر ہاں نام کو اورنگ زیبی
- سب کو اس کا سواد ارزانی
- تازہ کرتا ہے دل کو تازہ سخن
- دیکھو اس دفتر معانی کو
- سیکھو آئین نکتہ دانی کو
- جس کو منظور ہو کہ زر بھیجے
- جس کو کہتے ہیں عمدۃ الحکما
- نسبت اک گونہ مرے دل کو ترے ہات سے ہے
- گو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے
- کسی کو یاد بھی لقمان کا نہیں ہے نام
- باندھنے کو جو ترے سر پہ اٹھایا سہرا
- ان کو لڑیاں نہ کہو بحر کی موجیں سمجھو
- مجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا
- بہ فراز گاہ عبرت چہ بہارو کو تماشا
- نہ وفا کو آبرو ہے نہ جفا تمیز جو ہے
- شرر اسیر دل کو ملے اوج عرض اظہار
- سجدہ تمثال وہ آئینہ کہیں جس کو جبیں
- رم آہو کو ہے ہر ذرے کی چشمک میں کمیں
- کس قدر فکر کو ہے نال قلم موے دماغ
- اے نگہ تجھ کو کہے کس نقطے میں مشق تسکیں
- نقش پا جس کا ہے توحید کو معراج جبیں
- کوہ کو بیم سے اس کے ہے جگر باختگی
- فکر کو حوصلۂ فرصت ادراک نہیں
- جسم اطہر کو ترے دوش پیمبر منبر
- نام نامی کو ترے ناصیۂ عرش نگیں
- تیری تسلیم کو ہیں لوح و قلم دست و جبیں
- خاکیوں کو جو خدا نے دیے جان و دل و دیں
- دے دعا کو مری وہ مرتبۂ حسن قبول
- طبع کو الفت دلدل میں یہ سرگرمی شوق
- تو وا کرے اس عقدے کو سو بھی بہ اشارت
- گر لب کو نہ دے چشمۂ حیواں سے طہارت
- آصف کو سلیماں کی وزارت سے شرف تھا
- کیوں کر نہ کروں مدح کو میں ختم دعا پر
- تجھ کو شرف مہر جہاں تاب مبارک
- غالبؔ کو ترے عتبۂ عالی کی زیارت
- ہوا میں بوند کو ابر تگرگ بار گرہ
- عطا کیا ہے خدا نے وہ جاذبہ اس کو
- خدا نے دی ہے وہ غالبؔ کو دستگاہ سخن
- جس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام
- اس کو بھولا نہ چاہیے کہنا
- مجھ کو سمجھا ہے کیا کہیں نمام
- مہر تاباں کو ہو تو ہو اے ماہ
- تجھ کو کیا پایہ روشناسی کا
- مجھ کو کیا بانٹ دے گا تو انعام
- جو کہ بخشے گا تجھ کو فر فروغ
- تجھ کو کس نے کہا کہ ہو بدنام
- اس قدح کا ہے دور مجھ کو نقد
- بوسہ دینے میں ان کو ہے انکار
- دل کے لینے میں جن کو تھا ابرام
- چھیڑتا ہوں کہ ان کو غصہ آئے
- تیر کو تیرے تیر غیر ہدف
- تیغ کو تیری تیغ خصم نیام
- برق کو دے رہا ہے کیا الزام
- لکھ دیا شاہدوں کو عاشق کش
- لکھ دیا عاشقوں کو دشمن کام
- آسماں کو کہا گیا کہ کہیں
- خال کو دانہ اور زلف کو دام
- تیری توقیع سلطنت کو بھی
- اس رقم کو دیا طراز دوام
- فرمانرواے کشور پنجاب کو سلام
- چاہا تھا میں نے تم کو مہ چاردہ کہوں
- ٹکڑے ہوا ہے دیکھ کے تحریر کو جگر
- اس بزم پر فروغ میں اس تیرہ بخت کو
- جو واں نہ کہہ سکا وہ لکھا ہے حضور کو
- خود ہے تدارک اس کا گورمنٹ کو ضرور
- ہے بندے کو اعادۂ عزت کی آرزو
- یہ اس کے عدل سے اضداد کو ہے آمیزش
- خدا نے اس کو دیا ایک خوبرو فرزند
- ملے گی اس کو وہ عقل نہفتہ داں کہ اسے
- تمہیں اور اس کو سلامت رکھے سدا اللہ
- بس کہ بخشی ہے فوج کو عزت
- چھوڑ دیتا تھا گور کو بہرام
- گر کہوں بھی تو کس کو آئے یقیں
- کشتۂ افعی زلف سیہ شیریں کو
- قوت نامیہ اس کو بھی نہ چھوڑے بیکار
- کس قدر ساز دوعالم کو ملی جرأت ناز
- سایۂ تیغ کو دیکھ اس کے بہ ذوق یک زخم
- ذرہ اس گرد کا خرشید کو آئینہ ناز
- گرد اس دشت کی امید کو احرام بہار
- سبق نازکی ہے عجز کو صد جا تکرار
- آفرینش کو ہے واں سے طلب مستی ناز
- دام سے اس کے قضا کو ہے رہائی دشوار
- ہے حنا کو سر ناخن سے گزرنا دشوار
- ہم عبادت کو ترا نقش قدم مہر نماز
- ہم ریاضت کو ترے حوصلے سے استظہار
- دشمن آل نبی کو بطرب خانۂ دہر
- شب کو تھا گنجینۂ گوہر کھلا
- صبح کو راز مہ و اختر کھلا
- سطح گردوں پر پڑا تھا رات کو
- شاہ روشن دل بہادر شہ کو ہے
- اصحاب کو جو کہ ناسزا کہتے ہیں
- سمجھا تھا نبی نے ان کو اپنا ہمدم
- بھیجی ہے جو مجھ کو شاہ جمجاہ نے دال
- اب شکست توبہ میخواروں کو فتح الباب ہے
- واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں
- رسوا کرتے نہ آپ کو عالم میں
- حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے
- جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہری
- کہتے ہیں وہ مجھ کو رافضی اور دہری
- حاجی کلو کو دے کے بے وجہ جواب
- ان سیم کے بیجوں کو کوئی کیا جانے
- ہر سینکڑے کو ایک گرہ فرض کریں
- ان چار میں ایک سے ہو جس کو انکار
- سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اس کو
- تو پھر کہیں کہ کچھ اس سے سوا کہیں اس کو
- کہو کہ خامس آل عبا کہیں اس کو
- کہو کہ رہبر راہ خدا کہیں اس کو
- اگر کہیں نہ خداوند کیا کہیں اس کو
- کہ شمع انجمن کبریا کہیں اس کو
- اگر نہ شافع روز جزا کہیں اس کو
- ستم ہے کشتۂ تیغ جفا کہیں اس کو
- شہید تشنہ لب کربلا کہیں اس کو
- کہ جن و انس و ملک سب بجا کہیں اس کو
- بقدر فہم ہے گر کیمیا کہیں اس کو
- کہ لوگ جوہر تیغ قضا کہیں اس کو
- اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اس کو
- مگر نبی و علی مرحبا کہیں اس کو
- پس از حسین علی پیشوا کہیں اس کو
- کہ طالبان خدا رہنما کہیں اس کو
- پیادہ لے چلیں اور نا سزا کہیں اس کو
- علی سے آ کے لڑے اور خطا کہیں اس کو
- یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہ
- برا نہ مانیے گر ہم برا کہیں اس کو
- کرے جو ان سے برائی بھلا کہیں اس کو
- رکھے امام سے جو بغض کیا کہیں اس کو
- غلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اس کو
- جان دینے میں اس کو یکتا جان
- آم کو دیکھتا اگر اک بار
- اس خداوند بندہ پرور کو
- وارث گنج و تخت و افسر کو
- لیکن آخر کو پڑے گی ایسی گانٹھ
- ایک دن تجھ کو لڑا دیں گے کہیں
- دیکھتا ہوں اسے تھی جس کی تمنا مجھ کو
- آج بیداری میں ہے خواب زلیخا مجھ کو
- کہ مردوں کو نہ بدلتے ہوئے کفن دیکھا
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل
- میں بھولا نہیں تجھ کو اے میری جاں
- ملے دو مرشدوں کو قدرت حق سے ہیں دو طالب
- نظام الدین کو خسرو سراج الدین کو غالب
- آئینۂ خیال کو دیکھا کرے کوئی
- صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
- ایسے ہنستے کو رلایا ہے کہ جی جانے ہے
- پیشوائے دیں کو کہتے ہیں امام
- اسم وہ ہے جس کو تم کہتے ہو نام
- گرد پھرنے کو کہیں گے ہم طواف
- مہر سورج چاند کو کہتے ہیں ماہ
- کبک کو ہندی میں کہتے ہیں چکور
- چاہ کو کہتے ہیں ہندی میں کنواں
- دود کو ہندی میں کہتے ہیں دھواں
- دانت دنداں ہونٹ کو کہتے ہیں لب
- تل کو کنجد اور رخ کا گال کہہ
- گال پر جو تل ہو اس کو خال کہہ
- نیش ہے وہ ڈنک جس کو سب کہیں
- آنکھ کی پتلی کو کہیے مردمک
- پھر غلیواز اس کو کہیے جو ہے چیل
- خر گدھا اور اس کو کہتے ہیں الاغ
- مینگنی جس کو کہیں وہ پشک ہے
- کہتے ہیں مچھلی کو ماہی اور ہوت
- جس کو نقارا کہیں وہ کوس ہے
- جو برا ہے اس کو ہم کہتے ہیں زشت
- احمق اور نادان کو کہتے ہیں اوت
- بھینس کو کہتے ہیں بھائی گاؤ میش
- چاہیے ہے ماں کو مادر جاننا
- اور بھائی کو برادر جاننا
- نام کو ہیں تین پر ہے ایک چیز
- روئی کو کہتے ہیں پنبہ سن رکھو
- آم کو کہتے ہیں انبہ سن رکھو
- پست اور ستو کو کہتے ہیں سویق
- ژرف اور گہرے کو کہتے ہیں عمیق
- خوش رہو ہنسنے کو خندیدن کہو
- گر ڈرو ڈرنے کو ترسیدن کہو
- زیستن کو جان من جینا کہو
- اور نوشیدن کو تم پینا کہو
- تولنے کو اور سنجیدن کہو
- پھر خفا ہونے کو رنجیدن کہو
- فارسی سونے کو خفتن جانیے
- منہ سے کچھ کہنے کو گفتن جانیے
- کس کو کہتے ہیں غزل ارشاد ہو
- پل ہی پر سے پھیر لائے ہم کو لوگ
- چھلنی کو غربال پرویزن کہو
- چھید کو تم رخنہ اور روزن کہو
- جس کو ناداں کہیے وہ انجان ہے
- جس کو کہتے ہیں جمائی فازہ ہے
- یارہ کہتے ہیں کڑے کو ہم سے پوچھ
- زوجہ جورو یزنہ بہنوئی کو جان
- خشم غصے اور بد خوئی کو جان
- لوہے کو کہتے ہیں آہن اور حدید
- دوک تکلے کو کہیں گے لا کلام
- کوہ کو ہندی میں کہتے ہیں پہاڑ
- جان کو البتہ کہتے ہیں رواں
- پند کو اندرز بھی کہتے ہیں ہاں
- جس کو جھولی کہیے وہ زنبیل ہے
- اس کو آمد نامہ کچھ مشکل نہیں
- خواب و بیداری پہ کب ہے آدمی کو اختیار
- مثل زخم آنکھوں کو سی دیتا جو ہوتا ہوشیار
- کھینچتا تھا رات کو میں خواب میں تصویر یار
- اس بت مغرور کو کیا ہو کسی پر التفات
- کم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میں
- آدمی کو کیوں پکارے ہے گلے لگ جا مرے
- ناگہاں یاد آگئی ہے مجھ کو یارب کب کی بات
- ہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر
- دل نے کی ساری خرابی لے گیا مجھ کو ظفر