کم
42 Misre
- وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے
- دیکھیے مت چشم کم سے سوے ضبط افسردگاں
- ہوا جب حسن کم خط بر عذار سادہ آتا ہے
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- دیکھا تو کم ہوے پہ غم روزگار تھا
- خاموشی عاشق گلۂ کم سخنی ہے
- ہو قبول کم نگاہی تحفۂ اہل نیاز
- اسدؔ مایوس مت ہو گرچہ رونے میں اثر کم ہے
- اسد کو گر از چشم کم دیکھتے ہیں
- کہ کم از سرمہ اس کا مشت خاکستر نہیں ہوتا
- تھا یہ کم وزن کہ ہم سنگ کف خاک چڑھا
- پنبہ نور صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- دیکھا تو کم ہوئے پہ غم روزگار تھا
- پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
- بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے
- جتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے
- قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
- کسو کو زخود رستہ کم دیکھتے ہیں
- رتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
- کم نہیں نازش ہم نامی چشم خوباں
- زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ
- یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے
- نہیں گر ہمدمی آساں نہ ہو یہ رشک کیا کم ہے
- جس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں
- کم نہیں وہ بھی خرابی میں پہ وسعت معلوم
- لطمۂ موج کم از سیلئ استاد نہیں
- کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشت
- وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے
- نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
- ہوس سیر و تماشا سو وہ کم ہے ہم کو
- یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
- بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
- مت پوچھ اسدؔ وعدۂ کم فرصتیٔ زیست
- اس طرف کو نہیں جاتے ہیں جو جاتے ہیں تو کم
- کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفرؔ کا غلام ہوں
- تین بھیجے رپے وہ بے کم و کاست
- چار سے پھر نہ ہو گی کم قیمت
- اس سے لیویں گے کم نہ ہم قیمت
- پاے رفتار کم و حسرت جولاں بسیار
- کم ہے اندک اور گھٹانا کاستن
- کم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میں