کل
24 Misre
- ہے گلیم سیہ بخت پریشاں کا کل
- عینک چشم جنوں حلقۂ کا کل تا چند
- کل ہے جو وعدۂ وصال آج بھی اے خدا سمجھ
- کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا
- وہ دل سوزاں کہ کل تک شمع ماتم خانہ تھا
- کل تلک تیرا بھی دل مہرو وفا کا باب تھا
- خال کب مشاطہ دے سکتی ہے کا کل کے تلے
- حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
- قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل
- کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی
- اس رنگ سے اٹھائی کل اس نے اسدؔ کی نعش
- کل اسدؔ کو ہم نے دیکھا گوشۂ غم خانہ میں
- آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤں
- گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
- کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
- ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
- پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
- کہتا تھا کل وہ محرم راز اپنے سے کہ آہ
- ابھی جا کے پوچھو کہ کل کیا پکائیں
- آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل
- کل وہ سرگرم خودنمائی تھے
- کل اس کتاب کے سال تمام میں جو مجھے
- دوش کل کی رات اور امروز آج
- تو سنو کل کا سبق آ جاؤ تم