کف
60 Misre
- بہار اس کی کف مشاطہ میں بالیدنی جانے
- کہ جام بادہ کف بر لب بتقریب تقاضا ہے
- کف افسوس ملنا عہد تجدید تمنا ہے
- کف گل برگ سے پاے دل رنجور ملتے ہیں
- کف افسوس فرصت سنگ کوہ طور ملتے ہیں
- نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کف خاک
- تیغ در کف کف بلب آتا ہے قاتل اس طرف
- دل دے کف تغافل ابروے یار میں
- پیچ تاب جادہ ہے خط کف افسوس و بس
- اے دل از کف دادۂ غفلت پشیمانی عبث
- روز و شب یک کف افسوس تماشائی ہے
- اے غنچۂ تمنا یعنی کف نگاریں
- نہیں ہے کف لب نازک پہ فرط نشہ مے سے
- جو تو باندھے کف پا پر حنا آئینہ موزوں ہے
- جو خط ہے کف پا پہ سو ہے سلسلۂ پا
- ہے کف مشاطہ میں آئنۂ گل ہنوز
- رنگ ز نظر رفتہ حناے کف افسوس
- خراج دیہہ ویراں یک کف خاک
- گر کف دست بام ہے آئنے کو ہوا سمجھ
- آسمان سفلہ جس میں یک کف سیلاب تھا
- اس کی سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- بیاض دیدۂ آہو کف سیلاب ہوجاوے
- گریے سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا
- آسمان سفلہ جس میں یک کف سیلاب تھا
- اس کے سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- کہ ماہ دزد حناے کف نگاریں ہے
- پنبۂ شیشۂ شراب کف بلب ایاغ ہے
- تھا یہ کم وزن کہ ہم سنگ کف خاک چڑھا
- نقش قدم ہیں ہم کف پاے نگار کے
- روز و شب یک کف افسوس تماشائی ہے
- نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کف خاک
- لب قدح پہ کف بادہ جوش تشنہ لبی ہے
- چوں نمد ہم نے کف پا پہ اسدؔ دل باندھا
- اے عندلیب یک کف خس بہر آشیاں
- کف موجۂ حیا ہوں بہ گزار عرض مطلب
- کف ہر خاک گلشن شکل قمری نالہ فرسا ہو
- بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف قاتل میں ہے
- نقش قدم ہیں ہم کف پاۓ نگار کے
- گریہ سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا
- قمری کف خاکستر و بلبل قفس رنگ
- تماشائے بہ یک کف بردن صد دل پسند آیا
- دامان باغبان و کف گل فروش ہے
- کف افسوس ملنا عہد تجدید تمنا ہے
- کہ جام بادہ کف بر لب بہ تکلیف تقاضا ہے
- کف افسوس سو دن عہد تجدید تمنا ہے
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بہ کف دامان صحرا ہے
- کف سیلاب باقی ہے بہ رنگ پنبہ روزن میں
- ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلی
- بندہ پرور کے کف دست کو دل کیجیے فرض
- کف موجۂ حیا ہوں بہ گزار عرض مطلب
- ہر کف خاک ہے واں گروۂ تصویر زمیں
- وہ کف خاک ہے ناموس دو عالم کی امیں
- ذوق گلچینی نقش کف پا سے تیرے
- کف ہر خاک بگر دوں شدہ قمری پرواز
- ہر کف خاک جگر تشنۂ صد رنگ ظہور
- گل نرگس سے کف جام پہ ہے چشم بہار
- سبحہ گرواں ہے اسی کی کف امید کا ابر
- نہ فلک آئنہ ایجاد کف گوہر بار
- دل جبریل کف پا پہ ملے ہے رخسار
- زمام ناقہ کف اس کے میں ہے کہ اہل یقیں