کش
48 Misre
- ستمگر ناخدا ترس آشنا کش ماجرا کیا ہے
- ازاں جا کہ حسرت کش یار ہیں ہم
- اسدؔ حسرت کش یک داغ مشک انددوہ ہے یا رب
- بہ امید نگاہ خاص ہوں محمل کش حسرت
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- یارب بیان شانہ کش گفتگو نہ ہو
- غافل تپش مجنوں محمل کش لیلی ہے
- مژہ ہے شانہ کش طرہ گفتار ہنوز
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- دماغ ناز کش منت طبیباں ہے
- خجلت کش وفا کو شکایت نہ چاہیے
- آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
- جنون بیکسی ساغر کش داغ پلنگ آیا
- قتل عشاق نہ غفلت کش تدبیر آوے
- چاک دل شانہ کش طرّہ تحریر آوے
- دید حیرت کش و خرشید چراغان خیال
- تا آبلہ محمل کش موج گہر آوے
- دیوانگی اسدؔ کی حسرت کش طرب ہے
- ورنہ کیا حسرت کش دامن پہ نقش پا نہیں
- کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیں
- تو اس قد دل کش سے جو گلزار میں آوے
- جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے
- جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی
- کہ خیال ہو تعب کش بہ ہوائے کامرانی
- کہ ستم کش جنوں ہوں نہ بقدر زندگانی
- درد منت کش دوا نہ ہوا
- گوش منت کش گلبانگ تسلی نہ ہوا
- صاف دردی کش پیمانۂ جم ہیں ہم لوگ
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- خوش ہوں گر نالہ زبونی کش تاثیر نہیں
- حیرت کش یک جلوۂ معنی ہیں نگاہیں
- ستمگر ناخدا ترس آشنا کش ماجرا کیا ہے
- رہ خوابیدہ تھی گردن کش یک درس آگاہی
- نہ ہو وحشت کش درس سراب سطر آگاہی
- مژہ ہے شانہ کش طرۂ گفتار ہنوز
- کہ حسرت کش رہا عرض ستم ہائے جدائی کا
- آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
- کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
- جناب قبلۂ حاجات اس بلا کش نے
- کہ خیال ہو تعب کش بہ ہواے کامرانی
- کہ ستم کش جنوں ہوں نہ بقدر زندگانی
- یاس پیمانہ کش گریۂ مستانہ نہیں
- گرد رہ سرمہ کش دیدۂ ارباب یقیں
- لکھ دیا شاہدوں کو عاشق کش
- بال جبریل سے مسطر کش سطر زنہار
- ساغر کش خون آرزو یعنی دل
- ایام جوانی رہے ساغر کش حال