کس
163 Misre
- اثر فریاد دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- رہا کس جرم سے میں بیقرار داغ ہم طرحی
- دہان تنگ مجھے کس کا یاد آیا تھا
- یہ کس بے مہر کی تمثال کا ہے جلوہ سیمابی
- شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یارب
- کس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
- یاں فلاخن باز کس کا نالۂ بے باک ہے
- کس کو دوں یارب حساب سوزناکی ہائے دل
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- بتان شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یارب
- کس کو وفا کا سلسلہ جنباں اٹھائیے
- خط نوخیز کی آئینے میں دی کس نے آرایش
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- کس قدر ہے نشہ فرساے خمار بنگ دل
- ہے نفس پروردہ گلشن کس ہواے بام کا
- کس رتبہ میں باریکی و نرمی ہے کہ جو گل
- کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبول
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یارب
- خدایا کس قدر اہل نظر نے خاک چھانی ہے
- بہ کام دل کریں کس طرح گمرہاں فریاد
- کس زباں میں ہے لقب خواب پریشاں میرا
- یارب میں کس غریب کا بخت رمیدہ ہوں
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- کس کا خیال آئنۂ انتظار تھا
- کس کا جنون دید تمنا شکار تھا
- کیا کس شوخ نے ناز از سر تمکیں تشستن کا
- مفت کا کس کو برا ہے بدرقہ
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- غیر کی مرگ کا غم کس لیے اے غیرت ماہ
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- درس نیرنگ ہے کس موج نگہ کا یارب
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ کا
- کی ہیں کس پانی سے یاں یعقوب نے آنکھیں سفید
- کس بات پہ مغرور ہے اے عجز تمنا
- تھا کس قدر شکستہ کہ ہے جا بجا گرو
- دیدہ تا دل ہے یک آئینہ چراغاں کس نے
- کس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا ہے مجھے
- کس سے اے غفلت تجھے تعبیر آگاہی ملے
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- کس کو دماغ منت گفت و شنود تھا
- بال کس گرمی سے سکھلاتا تھا سنبل کے تلے
- ذرہ دے مجنوں کے کس کس داغ کو پرواز عرض
- کس کی حاجت روا کرے کوئی
- کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو
- کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے
- کس رتبہ میں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل
- بزم مے وحشت کدہ ہے کس کی چشم مست کا
- پھونکا ہے کس نے گوش محبت میں اے خدا
- کس فرصت وصال پہ ہے گل کو عندلیب
- غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
- کس کا جنون دید تمنا شکار تھا
- کس کا خیال آئنۂ انتظار تھا
- شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یا رب
- کس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
- ہوئی ہے کس قدر ارزانی مۓ جلوہ
- بتان شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یارب
- چمن میں کس کے یہ برہم ہوئی ہے بزم تماشا
- آہ کا کس نے اثر دیکھا ہے
- کس کا دل زلف سے بھاگا کہ اسدؔ
- ورنہ کس کو میرے افسانے کی تاب استماع
- دیدہ تا دل ہے یک آئینہ چراغاں کس نے
- کس کو دماغ منت گفت و شنود تھا
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
- کرتے ہو شکوہ کس کا تم اور بے وفائی
- کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
- ہے کیا جو کس کے باندھئے میری بلا ڈرے
- یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
- کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے
- کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کس لیے
- کس طرح کاٹے کوئی شب ہائے تار برشگال
- کس سے محرومیٔ قسمت کی شکایت کیجے
- قضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہئے
- کہا ہے کس نے کہ غالبؔ برا نہیں لیکن
- پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
- ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
- کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ كا
- عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
- ورنہ ہم کس کے ہیں اے داغ تمنا آشنا
- ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
- شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج
- گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے باایں ہمہ
- فتنۂ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے
- رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے
- نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا
- کس زباں میں ہے لقب خواب پریشاں میرا
- کس قدر یارب ہلاک حسرت پا بوس تھا
- جی کس قدر افسردگی دل پہ جلا ہے
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یا رب
- تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
- کس کو وفا کا سلسلہ جنباں اٹھائیے
- مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں کہ ہے
- یارب نفس غبار ہے کس جلوہ گاہ کا
- کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یارب
- ہیں اہل خرد کس روش خاص پہ نازاں
- مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرح
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش مرہم سے
- کس دل پہ ہے عزم صف مژگان خود آرا
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے
- مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
- ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
- یار لائے مری بالیں پہ اسے پر کس وقت
- کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔ
- کیا ہے کس نے اشارا کہ ناز بستر کھینچ
- نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
- پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
- زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
- کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
- بیاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کی
- کس قدر ذوق گرفتاریٔ ہم ہے ہم کو
- کس قدر دشمن ہے دیکھا چاہیے
- ہم سے رنج بیتابی کس طرح اٹھایا جائے
- غلط ہے جذب دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے
- یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
- حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
- کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ
- کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
- کس کو سناؤں حسرت اظہار کا گلہ
- کس پردہ میں ہے آئنہ پرداز اے خدا
- تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کا
- کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبول
- کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ
- ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل
- یا رب اس آشفتگی کی داد کس سے چاہئے
- ابر بہار خم کدہ کس کے دماغ کا؟
- کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
- نہ کہوں آپ سے تو کس سے کہوں
- تجھ سے جو اتنی ارادت ہے تو کس بات سے ہے
- چرخ تک دھوم ہے کس دھوم سے آیا سہرا
- کس نے دیکھا نفس اہل وفا آتش خیز
- کس نے پایا اثر نالۂ دل ہاے حزیں
- کس قدر فکر کو ہے نال قلم موے دماغ
- اے عبارت تجھے کس خط سے ہے درس نیرنگ
- اے نگہ تجھ کو کہے کس نقطے میں مشق تسکیں
- کس قدر ہرزہ سرا ہوں کہ عیاذاً باللہ
- کس سے ممکن ہے تری مدح بغیر از واجب
- کس سے ہوسکتی ہے مداحی ممدوح خدا
- کس سے ہوسکتی ہے آرایش فردوس بریں
- تجھ کو کس نے کہا کہ ہو بدنام
- گر کہوں بھی تو کس کو آئے یقیں
- کس قدر عرض کروں ساغر شبنم یارب
- کس قدر ساز دوعالم کو ملی جرأت ناز
- کس نے کھولا کب کھلا کیوں کر کھلا
- کٹتا ہے بتاؤ کس طرح سے رمضاں
- پروانے کا نہ غم ہو تو پھر کس لیے اسدؔ
- یاران نبی میں تھی لڑائی کس میں
- الفت کی نہ تھی جلوہ نمائی کس میں
- بتلاؤ کوئی کہ تھی برائی کس میں
- کس کو کہتے ہیں غزل ارشاد ہو
- کس طرح پڑھتے ہو رک رک کر سبق
- میں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھر گئے
- کس لیے تجھ سے چھپاؤں ہاں وہ پرسوں شب کی بات