کرے
172 Misre
- ظاہر کرے ہے جنبش مژگاں سے مدعا
- دوست گر کوئی نہیں ہے جو کرے چارہ گری
- اے خوشا وقتے کہ ساقی یک خمستاں وا کرے
- تار و پود فرش محفل پنبۂ مینا کرے
- گر تب آسودۂ مژگاں تصرف وا کرے
- رشتۂ پا شوخی بال نفس پیدا کرے
- دست رد سطر تبسم یک قلم انشا کرے
- نوحۂ ماتم بآواز پر عنقا کرے
- عکس گر طوفانی آئینۂ دریا کرے
- نا امیدی ہے خیال خانہ ویراں کیا کرے
- آسماں سے بادۂ گلفام گر برسا کرے
- ہوں سراپا یک خم تسلیم جو مولا کرے
- کرے ہے دست فرسود ہوس وہم توانائی
- کرے گر فکر تعمیر خرابی ہائے دل گردوں
- کرے ہے حسن خوباں پردے میں مشاطگی اپنی
- اگر مضمون خاکستر کرے دیباچہ آرائی
- کرے ہے لطف انداز برہنہ گوئی خوباں
- گر کرے انجام کو آغاز ہی میں یاد گل
- دست رنگیں سے جو رخ پروا کرے زلف رسا
- گر کرے یوں امر نہی بو تراب آئینے پر
- محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال
- رنجش دل یک جہاں ویراں کرے گی اے فلک
- کیوں نہ طوطی طبیعت نغمہ پیرائی کرے
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- نقش پائے مور کو تخت سلیمانی کرے
- کرے ہیں غنچۂ منقار طوطی نقش گل گیریں
- کرے ہے خامشی احوال بیخوداں پیدا
- کرے گر حیرت نظارہ طوفاں نکتہ گوئی کا
- کرے ہے رہرواں سے خضر راہ عشق جلادی
- کرے ہے حسن ویراں کار روے سادہ رویاں پر
- کرے کیا دعوی آزادی عشق
- شوق کرے جو سر گراں محمل خواب پا سمجھ
- سوز دل کا کیا کرے باران اشک
- بن گیا سبحہ وہ زنار خدا خیر کرے
- محو آرامیدگی سامان بیتابی کرے
- چشم میں توڑے نمکداں تا شکر خوابی کرے
- کیا کروں گر سایۂ دیوار سیلابی کرے
- ناخن تیغ بتاں شاید کہ مضرابی کرے
- رنگ رخسار گل خرشید مہتابی کرے
- اے خوشا گر آب تیغ ناز تیزابی کرے
- کیوں نہ دلی میں ہر اک ناچیز نوابی کرے
- گریہ بے لذت کاوش نہ کرے جرأت شوق
- کرے ہے مغز سے مانند نے کے استخواں خالی
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- نگاہ اس چشم کی افزوں کرے ہے ناتوانائی
- طاقت اگر اعجاز کرے تہمت خم باندھ
- جو چاہے کرے پہ دل نہ توڑے
- پھر وہ سوئے چمن آتا ہے خدا خیر کرے
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- شوق عناں گسل اگر درس جنوں ہوس کرے
- کرے ہے روے روشن آفتابی
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- ہستی کو لفظ معنی عنقا کرے کوئی
- تا چند باغبانی صحرا کرے کوئی
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- صحرا کہاں کہ دعوت دریا کرے کوئی
- تدبیر پیچ تاب نفس کیا کرے کوئی
- دکھلا کے اس کو آئنہ توڑا کرے کوئی
- ابن مریم ہوا کرے کوئی
- میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
- ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
- دل میں ایسے کے جا کرے کوئی
- وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
- کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
- نہ کہو گر برا کرے کوئی
- بخش دو گر خطا کرے کوئی
- کس کی حاجت روا کرے کوئی
- اب کسے رہنما کرے کوئی
- کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
- سر کرے ہے وہ حدیث زلف عنبر بار دوست
- وقت ہے گر بلبل مسکیں زلیخائی کرے
- خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
- موج ہستی کو کرے فیض ہوا موج شراب
- لکھا کرے کوئی احکام طالع مولود
- لیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ گاہ ہو
- جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی
- مشکل کہ تجھ سے راہ سخن وا کرے کوئی
- کب تک خیال طرۂ لیلا کرے کوئی
- ہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
- آخر کبھی تو عقدۂ دل وا کرے کوئی
- کیا فائدہ کہ جیب کو رسوا کرے کوئی
- تا چند باغبانی صحرا کرے کوئی
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
- فرصت کہاں کہ تیری تمنا کرے کوئی
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
- پہلے دل گداختہ پیدا کرے کوئی
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- ہستی کو لفظ معنی عنقا کرے کوئی
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- صحرا کہاں کہ دعوت دریا کرے کوئی
- دکھلا کے اس کو آئنہ توڑا کرے کوئی
- کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
- جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
- نہ کرے اگر ہوس پر غم بے دلی گرانی
- جو بصورت چراغاں کرے شعلہ نرد بانی
- مگر ایک شہپر مور کرے ساز بادبانی
- کرے کیا ساز بینش وہ شہید درد آگاہی
- کہ کرے تعزیت مہر و وفا میرے بعد
- غالبؔ خدا کرے کہ سوار سمند ناز
- دود میرا سنبلستاں سے کرے ہے ہم سری
- حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
- غیر کو یا رب وہ کیونکر منع گستاخی کرے
- تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دشمن کو
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- کرے ہے صرف بہ ایماۓ شعلہ قصہ تمام
- غافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے
- کرے جو پرتو خورشید عالم شبنمستاں کا
- رحمت اگر قبول کرے کیا بعید ہے
- محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال
- آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
- کیوں رد قدح کرے ہے زاہد
- کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
- سبد گل کے تلے بند کرے ہے گلچیں
- کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
- کرے ہے سنگ پر خورشید آب روئے کار آتش
- کرے ہے قتل لگاوٹ میں تیرا رو دینا
- بوسہ میں وہ مضائقہ نہ کرے
- چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے
- صبح کے مانند زخم دل گریبانی کرے
- دیدۂ دل کو زیارت گاہ حیرانی کرے
- آبگینہ کوہ پر عرض گراں جانی کرے
- موئے شیشہ دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے
- یک قلم منظور ہے جو کچھ پریشانی کرے
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- نقش پائے مور کو تخت سلیمانی کرے
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- کرے ہے ہر بن مو کام چشم بینا کا
- وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔ
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- فرق سے تیرے کرے کسب سعادت اکلیل
- چرخ کج باز نے چاہا کہ کرے مجھ کو ذلیل
- اس شخص کو ضرور ہے روزہ رکھا کرے
- روزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے
- خدا کرے کہ یہ ایسا ہو سازگار برس
- کرے اس نسخے کی خریداری
- آج جو دیدہ ور کرے درخواست
- گرچہ تو وہ ہے کہ ہنگامہ اگر گرم کرے
- نہ کرے اگر ہوس پر غم بیدلی گرانی
- جو بہ صورت چراغاں کرے شعلہ نرد بانی
- مگر ایک شہپر مور کرے ساز بادبانی
- سر کرے ہے دل حیرت زدہ شغل تسکیں
- نہ کرے نذر صدا ورنہ متاع تمکیں
- تو وا کرے اس عقدے کو سو بھی بہ اشارت
- ممکن ہے کرے خضر سکندر سے ترا ذکر
- ہے فخر سلیماں جو کرے تیری وزارت
- تو آب سے گر سلب کرے طاقت سیلاں
- تو آگ سے گر دفع کرے تاب شرارت
- ہوا کرے گی ہر اک سال آشکار گرہ
- کرے گا سینکڑوں اس تار پر نثار گرہ
- خدا کرے کہ کرے اس طرح ابھار گرہ
- نیابت دم عیسی کرے ہے جس کی نگاہ
- جوان ہو کے کرے گا یہ وہ جہانبانی
- عطا کرے گا خداوند کارساز اسے
- یہ ترکتاز سے برہم کرے گا کشور روس
- پر قمری سے کرے صیقل تیغ کہسار
- گم کرے گوشۂ میخانہ میں گر تو دستار
- اس زمیں میں نہ کرے سبز قلم کی رفتار
- خلوت آبلہ میں گم کرے گر تو رفتار
- شکل طاؤس کرے آئنہ خانہ پرواز
- پر طاؤس کرے گرم نگہ کا بازار
- حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے
- تاشاہ شیوع دانش و داد کرے
- ہے صفر کہ افزایش اعداد کرے
- مسیح جس سے کرے اخذ فیض جاں بخشی
- کرے جو ان سے برائی بھلا کہیں اس کو
- آئینۂ خیال کو دیکھا کرے کوئی
- لال ڈگی پر کرے گا جا کے کیا