کریں
19 Misre
- پیدا کریں دماغ تماشائے سرو و گل
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- لیں بوسہ یا یا مصیبت ہجراں بیاں کریں
- بہ کام دل کریں کس طرح گمرہاں فریاد
- کریں گر قدر اشک دیدۂ عاشق خود آرا یاں
- گر دیدہ و دل صلح کریں جنگ نکالوں
- سامنا حور و پری نے نہ کیا ہے نہ کریں
- کریں خوباں جو سیر حسن اسدؔ یک پردہ نازک تر
- لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں
- کریں گے کوہ کن کے حوصلے کا امتحان آخر
- یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں
- تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں
- ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
- پیدا کریں دماغ تماشائے سرو و گل
- پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
- ابر میخانہ کریں ساغر خرشید شکار
- ہر سینکڑے کو ایک گرہ فرض کریں