کروں
52 Misre
- اب اس سے ربط کروں جو بہت ستمگر ہو
- کیا کروں غم ہاے پنہاں لے گئے صبر و قرار
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- بیکسی افسردہ ہوں اے ناتوانی کیا کروں
- جز عجز کیا کروں بہ تمناے بے خودی
- ولیکن کیا کروں آوے جو رسوائی گریباں کی
- خوش وحشتے کہ عرض جنون فنا کروں
- جوں گرد راہ جامۂ ہستی قبا کروں
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلا کروں
- موج غبار سے پر یک دشت وا کروں
- دستار گرد شاخ گل نقش پا کروں
- جوں جادہ گر درہ سے نگہ سرمہ سا کروں
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- وحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں
- تیغ ستم کو پشت خم التجا کروں
- افشاں غبار سرمہ سے فرد صدا کروں
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- لیکن یہ ہم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- کیا کروں گر سایۂ دیوار سیلابی کرے
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- کروں گا اشک ہاے وا چکیدہ سے حساب اس کا
- کروں گر عرض سنگینی کہسار اپنی بیتابی
- دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک
- کروں عذر ترک صحبت سو کہاں وہ بے دماغی
- کروں خوان گفتگو پر دل و جاں کی میہمانی
- اس چراغاں کا کروں کیا کار فرما جل گیا
- میں نا مراد دل کی تسلی کو کیا کروں
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- خوش وحشتے کہ عرض جنون فنا کروں
- جوں گرد راہ جامۂ ہستی قبا کروں
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلہ کروں
- موج غبار سے پر یک دشت وا کروں
- دستار گرد شاخ گل نقش پا کروں
- جوں جادہ گرد رہ سے نگہ سرمہ سا کروں
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- وحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں
- تیغ ستم کو پشت خم التجا کروں
- افشاں غبار سرمہ سے فرد صدا کروں
- لیکن یہ بیم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
- کروں بے داد ذوق پر فشانی عرض کیا قدرت
- جز عجز کیا کروں بہ تمنائے بے خودی
- مستانہ طے کروں ہوں رہ وادی خیال
- طبع ہے مشتاق لذت ہاۓ حسرت کیا کروں
- اور میں وہ ہوں کہ گر جی میں کبھی غور کروں
- کروں عذر ترک صحبت سو کہاں وہ بے دماغی
- کروں خوان گفتگو پر دل و جاں کی میہمانی
- کیوں کر نہ کروں مدح کو میں ختم دعا پر
- کس قدر عرض کروں ساغر شبنم یارب
- کیا شرح کروں کہ طرفہ تر عالم تھا
- کروں کیا کہ یاں گر رہے ہیں مکاں