کرو
9 Misre
تم کرو صاحب قرانی جب تلک
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
ساقی گری کی شرم کرو آج ورنہ ہم
حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
تم ان کے وعدہ کا ذکر ان سے کیوں کرو غالبؔ
ابر روتا ہے کہ بزم طرب آمادہ کرو
قہر ہے گر کرو نہ مجھ کو پیار
طے کرو راہ شوق زودا زود
بتو توبہ کرو تم کیا ہو جب اعتبار آتا ہے
ک
All Letters