کرم
26 Misre
- سر بزانوے کرم رکھتی ہے شرم نا کسی
- وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
- لطف کرم بدولت مہماں اٹھائیے
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام
- اے آبلے کرم کر یاں رنجہ یک قدم کر
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- سائل ہوئے تو عاشق اہل کرم ہوئے
- تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
- واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام
- یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
- لطف کرم بدولت مہماں اٹھائیے
- جب کرم رخصت بیباکی و گستاخی دے
- جادۂ رہ کشش کاف کرم ہے ہم کو
- جادۂ رہ کشش کاف کرم ہے ہم کو
- وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
- پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا
- اے کرم نہ ہو غافل ورنہ ہے اسدؔ بیدل
- اے جہاندار کرم شیوۂ بے شبہ و عدیل
- بہ کرم داغ نہ ناصیۂ قلزم و نیل
- لطف و کرم کے باب میں زینت روزگار ایک
- ہے اسی طور پہ یاں دجلہ فشاں دست کرم
- ابر دست کرم کلب علی خاں سے مدام
- معنی لفظ کرم بسملۂ نسخۂ حسن
- واں کہاں یہ عطا و بذل و کرم
- جوش طوفان کرم ساقی کوثر ساغر