کرتے
36 Misre
- کبھی آ جائے گی کیوں کرتے ہو جلدی غالبؔ
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- گو یاد مجھ کو کرتے ہیں خوباں
- سیل سے فرش کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- کرتے ہوے تصور یار آے ہے حیا
- بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
- بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
- سن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتے
- وہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے
- ہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے
- کرتے ہو شکوہ کس کا تم اور بے وفائی
- کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کس لیے
- جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
- سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسش حال
- ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیں
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- سیل سے فرش کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم
- بہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمکداں پر
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔ
- کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
- ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
- مرتے ہیں ولے ان کی تمنا نہیں کرتے
- ظاہر كا یے پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
- غالبؔ کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کرتے
- بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
- کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور
- کیا کرتے تھے تم تقریر ہم خاموش رہتے تھے
- کانوں پہ ہاتھ دھرتے ہیں کرتے ہوئے سلام
- اس کو کرتے ہیں بہت بڑھ کے بہ اغراق رقم
- یعنی دعا پہ مدح کا کرتے ہیں اختتام
- رسوا کرتے نہ آپ کو عالم میں
- کرتے ہیں درنگ کام کرنے والے
- آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمایش
- ہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر