کرتا
43 Misre
- نقل کرتا ہوں اسے نامۂ اعمال میں میں
- بوقت کعبہ جوئی ہا جرس کرتا ہے ناقوسی
- قطرے کو جوش عرق کرتا ہے دریا دستگاہ
- بلبلوں کو دور سے کرتا ہے منع بار باغ
- جوش گل کرتا ہے استقبال تحریر اسدؔ
- شعاع مہر سے کرتا ہے چرخ زر دوزی
- نفس کرتا ہے رگ ہاے مژہ پر کام نشتر کا
- دیکھ کر تجھ کو چمن بس کہ نمو کرتا ہے
- شکست آرزو کے رنگ کی کرتا ہوں صیادی
- کرتا ہے بیاد بت رنگیں دل مایوس
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں
- جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعف دماغ
- ہنس کے کرتا ہے بیان شوخی گفتار دوست
- نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
- جلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
- چرخ وا کرتا ہے ماہ نو سے آغوش وداع
- جان تم پر نثار کرتا ہوں
- یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک
- دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- کرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور
- کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو
- دیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نمو کرتا ہے
- اگر پیدا نہ کرتا آئنہ زنجیر جوہر کی
- چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
- نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا
- جلوہ پھر عرض ناز کرتا ہے
- فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔ
- گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
- نالہ کرتا تھا ولے طالب تاثیر بھی تھا
- کرتا ہے بسکہ باغ میں تو بے حجابیاں
- کرتا جو نہ مرتا کوئی دن آہ و فغاں اور
- جمع ہوتی مری خاطر تو نہ کرتا تعجیل
- ختم کرتا ہوں اب دعا پہ کلام
- اخذ کرتا ہے آسماں کا دبیر
- تازہ کرتا ہے دل کو تازہ سخن
- کرتا ہے چرخ روز بصد گونہ احترام
- مغز کہسار میں کرتا ہے فرو نشتر خار
- مژۂ خواب سے کرتا ہوں بآسایش درد
- کرتا ہے گل جنون تماشا کہیں جسے