کر
213 Misre
- دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
- بے چشم دل نہ کر ہوس سیر لالہ زار
- رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں کر
- بے تکلف آپ پیدا کر کے تف جلتا ہوں میں
- بہ نالہ حاصل دلبستگی فراہم کر
- باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
- غافلاں غش جان کر چھڑکے ہیں آب آئینے پر
- خلوت بال و پر قمری میں وا کر راہ شوق
- آئینہ ایسے طاق پہ گم کر کہ تو نہ ہو
- جنوں کر اے چمن تحریر درس شغل تنہائی
- دنداں کا خیال چشم تر کر
- ہر دانۂ اشک کو گہر کر
- افسانۂ زلف یار سر کر
- یہ شام غم آپ پر سحر کر
- اے حوصلے سعی بیشتر کر
- اے بے خبری اسے خبر کر
- اے غمزدہ قصہ مختصر کر
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- ہمارا دیکھنا گر ننگ ہے سیر گلستاں کر
- منع مت کر حسن کی ہم کو پرستش سے کہ ہے
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- ہم غلط سمجھے تھے لیکن زخم دل پر رحم کر
- مرگ سے وحشت نہ کر راہ عدم پیمودہ ہے
- عیش کر غافل حجاب نشہ محفل نہ پوچھ
- سیر ملک حسن کر میخانہ ہا نذر خمار
- دیکھ کر تجھ کو چمن بس کہ نمو کرتا ہے
- بیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس
- وہ جلوہ کر کہ نہ میں جانوں اور نہ تو جانے
- دیکھ کر بادہ پرستوں کی دل افسردگیاں
- خلوت دل میں نہ کر دخل بجز سجدہ شوق
- تکلف عافیت میں ہے دلا بند قبا وا کر
- جلوہ نہیں ہے درد سر آئنہ صندلی نہ کر
- حسن میں حور سے بڑھ کر نہیں ہونے کے کبھی
- سراسر عجز ہو کر خانہ مانند کماں خالی
- یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- قیس بھاگا شہر سے شرمندہ ہو کر سوے دشت
- رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے
- اثر میں یاں تک اے دست دعا دخل تصرف کر
- تکلف عاقبت میں ہے دلا بند قبا وا کر
- جنوں افسردہ و جاں ناتواں اے جلوہ شوخی کر
- شکوۂ یاراں غبار دل میں پنہاں کر دیا
- خوں کر دل اندیشہ و مضمون ستم باندھ
- نذر مژہ کر دل و جگر کو
- کہ یاں گم کر جبیں سجدہ فرسا آستانے میں
- نہ کر سر گرم اس کافر کی الفت آزمانے میں
- حوصلہ تنگ نہ کر بے سبب آزاروں کا
- یاد کر وہ دن کہ ہر اک حلقہ تیرے دام کا
- شوق کو منفعل نہ کر ناز کو التجا سمجھ
- ہم نشیں مت کہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- بہزاد نقش یک دل صد چاک عرض کر
- تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں
- آمد خط ہے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد
- ہے دلبری کمیں کر ایجاد یک نگاہ
- وہ نہا کر آب گل سے سایۂ گل کے تلے
- اے آبلے کرم کر یاں رنجہ یک قدم کر
- زنجیر یاد پڑتی ہے جادے کو دیکھ کر
- حیراں ہوں شوخی رگ یاقوت دیکھ کر
- اشک پیدا کر اسدؔ گر آہ بے تاثیر ہے
- شاید کہ مرگیا ترے رخسار دیکھ کر
- یاں رہ گئے ہیں ناخن تدبیر ٹوٹ کر
- رنگ ہو کر اڑ گیا جو خوں کہ دامن میں نہیں
- اے دل ناعاقبت اندیش ضبط شوق کر
- شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر
- کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے
- باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا
- نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کے آنے کا
- بسکہ دوڑے ہے رگ تاک میں خوں ہو ہو کر
- نہیں ہے سایہ کہ سن کر نوید مقدم یار
- ہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار
- بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل
- جنوں کر اے چمن تحریر درس شغل تنہائی
- رونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھے
- تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں
- بے پردہ سوئے وادی مجنوں گزر نہ کر
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
- اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کا
- دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- دیکھ کر طرز تپاک اہل دنیا جل گیا
- شمع رویاں کی سر انگشت حنائی دیکھ کر
- ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا
- تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
- احباب چارہ سازی وحشت نہ کر سکے
- ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں
- غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزا نہ ہو
- دل کو نیاز حسرت دیدار کر چکے
- دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے
- کر گئی وابستۂ تن میری عریانی مجھے
- اس کی بزم آرائیاں سن کر دل رنجور یاں
- تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دشمن کو
- ظلم کر ظلم اگر لطف دریغ آتا ہو
- رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے
- سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
- بے چشم دل نہ کر ہوس سیر لالہ زار
- رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
- چھوڑ کر جانا تن مجروح عاشق حیف ہے
- رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے
- بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
- اگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
- سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا
- تڑپ کر مر گیا وہ صید بال افشاں کہ مضطر تھا
- یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
- ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم
- مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
- وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
- ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھلنا
- لکد کوب حوادث کا تحمل کر نہیں سکتی
- عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
- نہ کر سرگرم اس کافر کو الفت آزمانے میں
- کہ یاں گم کر جبین سجدہ فرسا آستانے میں
- میرا ذمہ دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے
- کیا تعجب ہے جو اس کو دیکھ کر آ جائے رحم
- کھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
- مجھے اب دیکھ کر ابر شفق آلودہ یاد آیا
- لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
- سیر ملک حسن کر مے خانہ ہا نذر خمار
- پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب
- آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
- دیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نمو کرتا ہے
- بیٹھنا اس كا وو آ کر تری دیوار کے پاس
- ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- بہ نیم غمزہ ادا کر حق ودیعت ناز
- آمد خط سے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد
- دہان زخم پیدا کر اگر کھاتا ہے غم میرا
- سیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرۂ خوں تن میں
- اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو
- واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو
- جان کر کیجے تغافل کہ کچھ امیدؔ بھی ہو
- دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو
- یہ کون کہوے ہے آباد کر ہمیں لیکن
- کر دیا ہے پا بہ زنجیر رم آہو مجھے
- نہ مارا جان کر بے جرم غافل تیری گردن پر
- تغافل کو نہ کر مصروف تمکیں آزمائی کا
- چاک مت کر جیب بے ایام گل
- کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار
- کر دیا ضعف نے عاجز غالبؔ
- جفائیں کر کے اپنی یاد شرما جائے ہے مجھ سے
- دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
- کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
- ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
- کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
- جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر
- سرگرم نالہ ہائے شرربار دیکھ کر
- رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر
- مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
- لرزے ہے موج مے تری رفتار دیکھ کر
- ہم کو حریص لذت آزار دیکھ کر
- لیکن عیار طبع خریدار دیکھ کر
- رہ رو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر
- جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
- طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر
- دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
- یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
- پہلو تہی نہ کر غم و اندوہ سے اسدؔ
- دل وقف درد کر کہ فقیروں کا مال ہے
- کر دیا کافر ان اصنام خیالی نے مجھے
- اے عافیت کنارہ کر اے انتظام چل
- بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار
- غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
- تکلف بر طرف ذوق زلیخا جمع کر ورنہ
- بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
- ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
- اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
- ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن
- ہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن
- دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
- لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
- آئینہ عرض کر خط و خال بیاں نہ پوچھ
- تو مشق باز کر دل پروانہ ہے بہار
- دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مجھی سے ہو گئے
- گاہ جل کر کیا کیے شکوہ
- گاہ رو کر کہا کیے باہم
- ہر کر اپنج روز نوبت اوست
- جسے کہتے ہیں خوشی اس نے بلائیں لے کر
- رشک سے لڑتی ہیں آپس میں الجھ کر لڑیاں
- ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتی
- ورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا
- گوندھے پھولوں کا بھلا پھر کوئی کیوں کر سہرا
- دیکھیں اس سہرے سے کہدے کوئی بڑھ کر سہرا
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- ختم کر ایک اشارت میں عبارات نیاز
- یا علی عرض کر اے فطرت وسواس قریں
- کیوں کر نہ کروں مدح کو میں ختم دعا پر
- گرہ کا نام لیا پر نہ کر سکا کچھ بات
- جس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام
- کر چکے قطع تیری تیزئ گام
- زہر غم کر چکا تھا میرا
- رعد کا کر رہی ہے کیا دم بند
- آقاے نامور سے نہ کچھ کر سکا کلام
- کاٹ کر پھینکیے ناخن تو با انداز ہلال
- کس نے کھولا کب کھلا کیوں کر کھلا
- کھول کر دروازۂ میخانہ بولا مے فروش
- دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالبؔ
- دہری کیوں کر ہو جو کہ ہووے صوفی
- شیعی کیوں کر ہو ماور النہری
- کیوں کر مانوں کہ اس میں تلوارنہیں
- گن کر دیویں گے ہم دعائیں سو بار
- یا لگا کر خضر نے شاخ نبات
- گورے پنڈے پر نہ کر ان کے نظر
- کھینچ لیتے ہیں یہ ڈورے ڈال کر
- دل نے سن کر کانپ کر کھا پیچ و تاب
- غوطے میں جا کر دیا کٹ کر جواب
- ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم
- تمثال جلوہ عرض کر اے حسن کب تلک
- ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پر ستم نکلے
- کس طرح پڑھتے ہو رک رک کر سبق