کثرت
11 Misre
- کثرت اندوہ سے حیران و مضطر ہے اسدؔ
- کثرت انشاے مضمون تحیر سے اسدؔ
- نہیں ہے حوصلہ پامرد کثرت تکلیف
- کثرت جوش سویدا سے نہیں تل کی جگہ
- اسدؔ نے کثرت دل ہاے خلق سے جانا
- کہ چشم تنگ شاید کثرت نظارہ سے وا ہو
- ہوا مہ کثرت سرمایہ اندوزی سے تنگ آخر
- کثرت جور و ستم سے ہو گیا ہوں بے دماغ
- کثرت آرائی وحدت ہے پرستاری وہم
- ہوئی یہ کثرت غم سے تلف کیفیت شادی
- اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ