کبھی
33 Misre
- کبھی آ جائے گی کیوں کرتے ہو جلدی غالبؔ
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- حسن میں حور سے بڑھ کر نہیں ہونے کے کبھی
- کبھی تو اس سر شوریدہ کی بھی داد ملے
- آخر کبھی تو عقدۂ دل وا کرے کوئی
- دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کو
- خنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
- کبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
- کبھی پری مری خلوت میں آ نکلتی ہے
- ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی
- کبھی میرے گریباں کو کبھی جاناں کے دامن کو
- غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
- اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں
- کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیں
- کبھی زمانہ مراد دل خراب تو دے
- کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- کبھی شکایت رنج گراں نشیں کیجے
- کبھی حکایت صبر گریز پا کہیے
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
- نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
- کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں
- کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
- ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
- اور میں وہ ہوں کہ گر جی میں کبھی غور کروں
- ہوا نہ غلبہ میسر کبھی کسی پہ مجھے
- کبھی چوما کبھی آنکھوں سے لگایا سہرا
- کبھی کسی سے کھلے گی نہ زینہار گرہ
- کبھی جو ہوتی ہے الجھی ہوئی دم روباہ
- نہ ہوئی ہو کبھی بروے زمیں