کب
39 Misre
- جوش سودا کب حریف منت دستار ہے
- نکالے کب نہال شمع بے تخم شرار آتش
- آج کی شب چشم کو کب تک پریدن منع ہے
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- ہاتھ رکھ دی کب ابرو نے کماں
- کب کمر سے غمزے کی خنجر کھلا
- اٹھاوے کب وہ جان شرم تہمت قتل عاشق کی
- آجا لب بام کوئی کب تک
- صفا کب جمع ہوسکتی ہے غیر از گوشہ گبری ہا
- خال کب مشاطہ دے سکتی ہے کا کل کے تلے
- ہم میں سرمایۂ ایجاد تمنا کب تھا
- ہو سکے کب کلفت دل مانع سیلان اشک
- کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہاے تفتہ پر زباں
- خیال مرگ کب تسکیں دل آزردہ کو بخشے
- ہجوم گریہ کا سامان کب کیا میں نے
- مست کب بند قبا باندھتے ہیں
- کب تک خیال طرۂ لیلا کرے کوئی
- بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
- میں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
- درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوں
- شوخیٔ رنگ حنا خون وفا سے کب تک
- کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی
- دیکھیے کب دن پھریں حمام کے
- نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
- کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان خراب میں
- مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- ہے شکستن سے بھی دل نومید یارب کب تلک
- کب وہ سنتا ہے کہانی میری
- وہ دیکھا جائے کب یہ ظلم دیکھا جائے ہے مجھ سے
- کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہائے تفتہ پر زباں
- جاتی ہے ملاقات کب ایسے سببوں سے
- ورزش قصہ کہن کب تک
- داستان شہ دکن کب تک
- کس نے کھولا کب کھلا کیوں کر کھلا
- ہوتی ہے تراویح سے فرصت کب تک
- تمثال جلوہ عرض کر اے حسن کب تلک
- خواب و بیداری پہ کب ہے آدمی کو اختیار
- ناگہاں یاد آگئی ہے مجھ کو یارب کب کی بات