کام
40 Misre
- میرے کام آئی دل مایوس ناکامی تری
- ہمارا کام ہوا اور تمہارا نام رہا
- نفس کرتا ہے رگ ہاے مژہ پر کام نشتر کا
- بہ کام دل کریں کس طرح گمرہاں فریاد
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- غالبؔ کو نہ تشنہ کام چھوڑے
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
- عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
- اس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
- بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
- کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے
- ابھی تو تلخیٔ کام و دہن کی آزمائش ہے
- کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا
- ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہا
- کام گر رک گیا روا نہ ہوا
- نظارہ نے بھی کام کیا واں نقاب کا
- غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
- نہیں گر بہ کام دل خستہ گردوں
- کام یاروں کا بہ قدر لب و دنداں نکلا
- سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
- رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے
- ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
- وہ سحر مدعا طلبی میں نہ کام آئے
- میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
- کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے
- جہاں میں ہو غم شادی بہم ہمیں کیا کام
- نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔ
- کرے ہے ہر بن مو کام چشم بینا کا
- کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
- مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کام
- تین نثروں سے کام کیا نکلے
- نہیں کتاب ہے اک معدن جواہر کام
- تیری مدحت کے لیے ہیں دل و جاں کام و زباں
- اور کے لین دین سے کیا کام
- لکھ دیا عاشقوں کو دشمن کام
- تحریر ایک جس سے ہوا بندہ تلخ کام
- چاہیں اگر حضور تو مشکل نہیں یہ کام
- ہزبز پنجے سے لیتا ہے کام شانے کا
- کرتے ہیں درنگ کام کرنے والے