کاش
17 Misre
- جنوں فسردۂ تمکیں ہے کاش عہد وفا
- کاش ہو قدرت برچیدن داماں مجھ سے
- کاش کے ہوتا قفس کا در کھلا
- اسیر بے زباں ہوں کاش کے صیاد بے پروا
- اسیر بے زباں ہوں کاش کے صیاد بے پروا
- ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
- نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
- اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں
- کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
- بد گماں ہوتا ہے وہ کافر نہ ہوتا کاش کے
- عرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا
- کاش کے تم مرے لیے ہوتے
- کاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے
- کاش رضواں ہی در یار کا درباں ہوتا
- کاش ہو قدرت برچیدن داماں مجھ سے
- اے کاش بتاں کا خنجر سینہ شگاف
- سب ہی پڑھتا کاش کیوں تکبیر آدھی رہ گئی