کار
32 Misre
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروے کار
- کہ ضبط تپش سے شرر کار ہیں ہم
- سعی عاشق ہے فروغ افزاے آب روے کار
- جوش چکیدن عرق آئینہ کار تر
- محتسب سے تنگ ہے از بس کہ کار مے کشاں
- ہے مگر موقوف بر وقت دگر کار اسدؔ
- جنبش دل سے ہوے ہیں عقدہ ہاے کار وا
- یک پر زدن تپش میں ہے کار قفس تمام
- دریغ آہ سحرگہ کار باد صبح کرتی ہے
- کرے ہے حسن ویراں کار روے سادہ رویاں پر
- حیرت سے ترے جلوے کی از بس کہ ہیں بے کار
- حیرت اگر خرام ہے کار نگہ تمام ہے
- گرہ ہے حسرت آبے بروے کار آورن
- اسدؔ کے واسطے رنگے بروے کار ہو پیدا
- غافلاں آغاز کار آئینۂ انجام ہے
- کار بہانہ جوئی چشم حیا بلند
- آخر کار گرفتار سر زلف ہوا
- دل کار گاہ فکر و اسدؔ بے نوائے دل
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
- جنبش دل سے ہوئے ہیں عقدہ ہائے کار وا
- اس چراغاں کا کروں کیا کار فرما جل گیا
- دل ز کار جہاں اوفتادہ رکھتے ہیں
- کرے ہے سنگ پر خورشید آب روئے کار آتش
- جفا میں اس کی ہے انداز کار فرما کا
- ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
- یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
- بادشہ کا غلام کار گزار
- ساز یک ذرہ نہیں فیض چمن سے بے کار
- سنگ یہ کار گہ ربط نزاکت ہے کہ ہے
- زانوے آئنہ پرمارے ہے دست بے کار
- رونق کار گاہ برگ و نوا
- کار فرماے دین و دولت و بخت