کا
774 Misre
- طفلانہ ہاتھ کا ہے اشارہ زبان اشک
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
- ستم کشی کا کیا دل نے حوصلہ پیدا
- رچ گیا جوش صفا سے زلف کا اعضا میں عکس
- نہیں کرنے کا ہیں تقریر ادب سے باہر
- اثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہے
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- یارو اسدؔ کا نام و نشاں کیا
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- عیادت سے زبس ٹوٹا ہے دل یاران غمگیں کا
- نظر آتا ہے موے شیشہ رشتہ شمع بالیں کا
- پئے سنجیدن یاراں ہوں حامل خواب سنگیں کا
- کہ صرف بخیۂ دامن ہوا ہے خندہ گلچیں کا
- چنے ہے کہکشاں خرمن سے مہ کے خوشہ پرویں کا
- کہ صحرا فصل گل میں رشک ہے بت خانۂ چیں کا
- رکھا اسپند نے مجمر میں پہلو گرم تمکیں کا
- سخن کا بندہ ہوں لیکن نہیں مشتاق تحسیں کا
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- اثر فریاد دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- سخن تاریک طبعوں کا ہے اظہار کثافت ہا
- پہ زلف یار کا افسانہ ناتمام رہا
- دہان تنگ مجھے کس کا یاد آیا تھا
- کہ شب خیال میں بوسوں کا ازدحام رہا
- نہ پوچھ حال شب و روز ہجر کا غالبؔ
- یہ کس بے مہر کی تمثال کا ہے جلوہ سیمابی
- بہ رہن شرم ہے با وصف شوخی اہتمام اس کا
- نگیں میں جوں شرار سنگ ناپید ہے نام اس کا
- بسان شانہ زینت ریز ہے دست سلام اس کا
- کہ داغ آرزوے بوسہ دیتا ہے پیام اس کا
- بھرے پیمانۂ صد زندگانی ایک جام اس کا
- مبادا ہو عناں گیر تغافل لطف عام اس کا
- کہ کشت خشک اس کا ابر بے پروا خرام اس کا
- دیا داغ جگر کو آہ نے ساماں شگفتن کا
- شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یارب
- بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشکباری کا
- جنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا
- بندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا
- نگہ کو آبلوں سے شغل ہے اختر شماری کا
- چمن زنگار ہے آئینۂ باد بہاری کا
- جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
- کہ ننگ فہم مستاں ہے گلہ بد روزگاری کا
- نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحت دل کا
- زخم مثل گل سراپا کا مرے پیرایہ ہے
- خامہ میرا تخت سلطان سخن کا پایہ ہے
- بس کہ وقت گریہ نکلا تیرہ کاری کا غبار
- تیرگئ ظاہری ہے طبع آگہ کا نشاں
- شب کہ تھا نظارگی روے بتاں کا اے اسدؔ
- ہے وہی بدمستی ہر ذرہ کا خود عذر خواہ
- ظاہرا کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے
- عقد وصل دخت رز انگور کا ہر دانہ تھا
- ورنہ بسمل کا تڑپنا لغزش مستانہ تھا
- ہے تماشا زشت رویوں کا عتاب آئینے پر
- یاں فلاخن باز کس کا نالۂ بے باک ہے
- آستر ہے خرقۂ زہاد کا صوف مداد
- ریشے سے ہر تخم کا دلو اندرون چاہ ہے
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- بتان شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یارب
- اسد مت رکھ تعجب خر دماغ ہائے منعم کا
- دنداں کا خیال چشم تر کر
- عیب کا دریافت کرنا ہے ہنرمندی اسدؔ
- اسدؔ اٹھنا قیامت قامتوں کا وقت آرایش
- کس کو وفا کا سلسلہ جنباں اٹھائیے
- طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
- واے ناکامی کہ اس کافر کا خنجر تیز ہے
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- جہاں جہاں مرے قاتل کا مجھ پہ احساں ہے
- فرو پیچیدنی ہے فرش بزم عیش گستر کا
- دریغا گردش آموز فلک ہے دور ساغر کا
- کہ ہے تہ بندی پر ہاے طوطی رنگ جوہر کا
- خطوط روے قالیں نقش ہے پشت کبوتر کا
- صدف سے آسیاے آب میں ہے دانہ گوہر کا
- نفس کرتا ہے رگ ہاے مژہ پر کام نشتر کا
- اسدؔ ہوں مست دریا بخشی ساقی کوثر کا
- گریباں چاک کا حق ہوگیا ہے میری گردن پر
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- قیامت کشتۂ لعل بتاں کا خواب سنگیں ہے
- پسینہ تو سن ہمت کا سیل خانۂ زیں ہے
- لطافت ہاے جوش حسن کا سر شیر ہے پیدا
- وقت اس افتادہ کا خوش جو قناعت سے اسد
- ہے گلیم سیہ بخت پریشاں کا کل
- عینک چشم جنوں حلقۂ کا کل تا چند
- اگر رکھتی نہ خاکستر نشینی کا غبار آتش
- ہے نفس پروردہ گلشن کس ہواے بام کا
- یک جانب اے اسدؔ شب فرقت کا بیم ہے
- دیکھا ہے کسو کا جو حنا بستہ سر انگشت
- افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- کافی ہے نشانی تری چھلے کا نہ دینا
- ہے ریا کا رتبہ بالاتر تصور کردنی
- خامہ میرا شمع قبر کشتگاں کا دودہ ہے
- گزرا جو آشیاں کا تصور بوقت بند
- اب کے بہار کا یونہی گزرا برس تمام
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- تمنا ہے اسدؔ قتل رقیب اور شکر کا سجدہ
- میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- بیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس
- کہ جوہر آئنے کا ہر پلک ہے چشم حیراں کی
- کرے گر حیرت نظارہ طوفاں نکتہ گوئی کا
- حباب چشمۂ آئینہ ہووے بیضہ طوطی کا
- مگر روز عروسی گم ہوا تھا شانہ لیلیٰ کا
- دل گرم تپش قاصد ہے پیغام تسلی کا
- حباب بحر کے ہے آبلوں میں خار ماہی کا
- تکلف کو خیال آیا ہو گر بیمار پرسی کا
- تصور نے کیا ساماں ہزار آئینہ بندی کا
- گر آب چشمۂ آئینہ دھووے عکس زنگی کا
- تہی آغوشی دشت تمنا کا ہوں فریادی
- غم مجنوں عزاداران لیلی کا پرستش گر
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلا کروں
- یارب میں کس غریب کا بخت رمیدہ ہوں
- کس کا خیال آئنۂ انتظار تھا
- کس کا جنون دید تمنا شکار تھا
- ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
- موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
- کیا کس شوخ نے ناز از سر تمکیں تشستن کا
- کہ شاخ گل کا خم انداز ہے بالیں شکستن کا
- سپند شعلہ نادیدہ صفت انداز جستن کا
- نمک ہے شمع میں جوں موم جادو خواب بستن کا
- نہیں ہے رشتۂ الفت کو اندیشہ گستن کا
- کہ تھا آئینہ خور پر تصور زنگ بستن کا
- نفس بعد از وصال دوست تاواں ہے گستن کا
- بہ بند گریہ نقش بر آب اندیشہ رستن کا
- سبب ہے ناخن دخل عزیزاں سینہ خستن کا
- کاش کے ہوتا قفس کا در کھلا
- یار کا دروازہ پاویں گر کھلا
- دوست کا ہے راز دشمن پر کھلا
- مفت کا کس کو برا ہے بدرقہ
- سوز دل کا کیا کرے باران اشک
- گرد باد اس راہ کا ہے عقدۂ پیمان عجز
- بادشاہی کا جہاں یہ حال ہو غالبؔ تو پھر
- غیر کی مرگ کا غم کس لیے اے غیرت ماہ
- آپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی
- تیرے کوچے کا ہے مائل دل مضطر میرا
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- نظارے کا مقدمہ پھر رو بکار ہے
- درس نیرنگ ہے کس موج نگہ کا یارب
- زبس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- چرایا زخم ہاے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- تماشائی ہوں وحدت خانۂ آئینہ دل کا
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- ہوا داماندگی سے رہرواں کی فرق منزل کا
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- جو تو دریاے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- عصاے خضر صحراے سخن ہے خامہ بیدل کا
- تب سے ہے یاں دہن یار کا مذکور ہنوز
- مبادا بے تکلف فصل کا برگ و نوا گم ہو
- نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
- بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
- بہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا
- رہا بے گانۂ تاثیر افسوں آشنائی کا
- سواد خط پیشانی سے نسخہ مومیائی کا
- مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
- جسے تو بندگی کہتا ہے دعوا ہے خدائی کا
- کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا
- یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
- گل چہرہ ہے کسو خفقانی مزاج کا
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ کا
- نہاں کیفیت مے میں ہے سامان حجاب اس کا
- بنا ہے پنبۂ سینا سے ساقی نے نقاب اس کا
- زبان شمع خلوت خانہ دیتی ہے جواب اس کا
- کہ مے عکس شفق ہے اور ساغر ہے حباب اس کا
- کروں گا اشک ہاے وا چکیدہ سے حساب اس کا
- غبار آوارہ و سرگشتہ ہے یا بو تراب اس کا
- پھر ہوا مدحت طرازی کا خیال
- پھر مہ و خرشید کا دفتر کھلا
- بادشہ کا رایت لشکر کھلا
- بادشہ کا نام لیتا ہے خطیب
- سکۂ شہ کا ہوا ہے روشناس
- ہے طلسم روز و شب کا در کھلا
- روزن کی طرح دید کا آزار رہ گیا
- کون ہے داغ کہ شعلے کا عناں گیر آوے
- شب کہ باندھا خواب میں آنے کا قاتل نے جناح
- حضرت چلے حرم کو اب آپ کا خدا ہے
- تقریر کا اس کی حال مت پوچھ
- قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا
- سیر آں سوئے تماشا ہے طلب گاروں کا
- خضرؔ مشتاق ہے اس دشت کے آواروں کا
- سر خط بند ہوا نامہ گنہ گاروں کا
- خون ہدہد سے لکھ نقش گرفتاروں کا
- دل آزردہ پسند آئینہ رخساروں کا
- کاغذ سرمہ ہے جامہ ترے بیماروں کا
- جرس قافلہ یاں دل ہے گرانباروں کا
- رنگ اڑتا ہے گلستاں کے ہوا داروں کا
- چشم امید ہے روزن تری دیواروں کا
- حوصلہ تنگ نہ کر بے سبب آزاروں کا
- مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کا
- اگرچہ تھا یہ ارادہ مگر خدا کا شکر
- یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تک
- شب فراق میں یہ حال ہے اذیت کا
- کہ سانپ فرش ہے اور سانپ کا ہے من تکیہ
- فقیر غالبؔ مسکیں کا ہے کہن تکیہ
- واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
- فرش سے تا عرش واں طوفان تھا موج رنگ کا
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- کل تلک تیرا بھی دل مہرو وفا کا باب تھا
- یاد کر وہ دن کہ ہر اک حلقہ تیرے دام کا
- کس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا ہے مجھے
- نہیں شاہان حسن کا دستور
- دشمنی ہے وصال کا مذکور
- شکوہ و شکر کو ثمر بیم و امید کا سمجھ
- رنجش یار مہرباں عیش و طرب کا ہے نشاں
- بس کہ تیرے جلوۂ دیدار کا ہے اشتیاق
- تصرف وحشیوں میں ہے تصور ہاے مجنوں کا
- زبس دوش رم آہو پہ ہے محمل تمنا کا
- اسدؔ بند قباے یار ہے فردوس کا غنچہ
- گر ملے حضرت بیدل کا خط لوح مزار
- تنک ظرفوں کا رتبہ جہد سے برتر نہیں ہوتا
- کہ کم از سرمہ اس کا مشت خاکستر نہیں ہوتا
- بہ از چاک گریباں گلستاں کا در نہیں ہوتا
- نہ دیکھا کوئی ہم نے آشیاں بلبل کا گلشن میں
- رکھتا ہے داغ تازہ کا یاں انتظار داغ
- جوں اعتماد نامہ و خط کا ہو مہر سے
- خوانا نہیں ہے خط رقم اضطرار کا
- قاتل تمکیں سنج نے یوں خاموشی کا پیغام کیا
- خال کب مشاطہ دے سکتی ہے کا کل کے تلے
- بال اگ جاتا ہے شیشے کا رگ گل کے تلے
- کہ سرد ہو نہ سکے اس کا مصرع ثانی
- بسمل اس تیغ دو دستی کا نہیں بچتا اسدؔ
- عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- نشان روشنی دل نہاں ہے تیرہ بختوں کا
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا
- ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
- چال جیسے کڑی کمان کا تیر
- کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
- افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- کافی ہے نشانی ترا چھلے کا نہ دینا
- دیکھا ہے کسو کا جو حنا بستہ سر انگشت
- قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
- تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
- زخم سلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعن
- قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کا
- چشم ما روشن کہ اس بے درد کا دل شاد ہے
- بزم مے وحشت کدہ ہے کس کی چشم مست کا
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا
- دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک
- غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
- ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب
- موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
- کس کا جنون دید تمنا شکار تھا
- کس کا خیال آئنۂ انتظار تھا
- نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا
- کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے
- شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یا رب
- تیری آرائش کا استقبال کرتی ہے بہار
- بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
- شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا منظر کھلا
- اس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا
- گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
- گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھید
- ہے خیال حسن میں حسن عمل کا سا خیال
- خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
- کیوں اندھیری ہے شب غم ہے بلاؤں کا نزول
- کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال
- نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کے آنے کا
- بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
- عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
- ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
- جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
- وفور اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگ
- ہجوم گریہ کا سامان کب کیا میں نے
- نہ حشر و نشر کا قائل نہ کیش و ملت کا
- گل چہرہ ہے کسی خفقانی مزاج کا
- بتان شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یارب
- اسدؔ مت رکھ تعجب خر دماغ ہائے منعم کا
- تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
- جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
- آہ کا کس نے اثر دیکھا ہے
- شیخ جی کعبے کا جانا معلوم
- کس کا دل زلف سے بھاگا کہ اسدؔ
- بیکاری جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل
- ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- اس چشم فسوں گر کا اگر پائے اشارہ
- تب چاک گریباں کا مزا ہے دل نالاں
- گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- نظارہ کا مقدمہ پھر رو بکار ہے
- گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- غم عجز کا سفینہ بہ کنار بے دلی ہے
- کہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں
- بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
- کرتے ہو شکوہ کس کا تم اور بے وفائی
- فریب صنعت ایجاد کا تماشا دیکھ
- اسدؔ سے ترک وفا کا گماں وہ معنی ہے
- وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
- جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے
- کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے
- کریں گے کوہ کن کے حوصلے کا امتحان آخر
- چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
- اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کا
- سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا
- سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
- خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
- نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا
- حمزہ کا قصہ ہوا عشق کا چرچا نہ ہوا
- کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا
- تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ
- کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال
- عمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیا
- ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہا
- عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگ
- نظارہ نے بھی کام کیا واں نقاب کا
- فردا و دی کا تفرقہ یک بار مٹ گیا
- کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
- اس چراغاں کا کروں کیا کار فرما جل گیا
- تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
- دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
- اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے کیا کہئے
- تمہیں نہیں ہے سر رشتۂ وفا کا خیال
- بن گیا ہیں تیغ نگاہ یار کا سنگ فساں
- وعدہ آنے کا وفا کیجے یہ کیا انداز ہے
- ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
- بارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا
- غم اس کو حسرت پروانہ کا ہے اے شعلے
- رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
- عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
- میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے
- عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا
- زخمی ہوا ہے پاشنہ پاۓ ثبات کا
- نظارہ کیا حریف ہو اس برق حسن کا
- پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کا
- کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
- نالۂ بلبل کا درد اور خندۂ گل کا نمک
- شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج
- زور نسبت مے سے رکھتا ہے اضارا کا نمک
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
- واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب
- ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
- وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا
- بیاں کیا کیجیے بیداد کاوش ہائے مژگاں کا
- کہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا
- لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا
- مرا ہر داغ دل اک تخم ہے سرو چراغاں کا
- کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے
- کرے جو پرتو خورشید عالم شبنمستاں کا
- ہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا
- مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا
- چراغ مردہ ہوں میں بے زباں گور غریباں کا
- دل افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا
- سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا
- نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا
- قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا
- کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- جو تو دریاۓ مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- ز بس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- چرایا زخم ہائے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- تماشائی ہوں وحدت خانۂ آئینۂ دل کا
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- ہوا واماندگی سے رہ رواں کی فرق منزل کا
- عصاۓ خضر صحراۓ سخن ہے خامہ بے دل کا
- کیا غم ہے اس کو جس کا علیؔ سا امام ہو
- جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا
- واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
- فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موج رنگ کا
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- کیا کہوں بیماریٔ غم کی فراغت کا بیاں
- کام یاروں کا بہ قدر لب و دنداں نکلا
- میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
- سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجے
- تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
- طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
- کس کو وفا کا سلسلہ جنباں اٹھائیے
- تغیر آب بر جا ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخر
- ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
- جاں داد گاں کا حوصلہ فرصت گداز ہے
- درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
- مٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا
- باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
- دل سے مٹنا تری انگشت حنائی کا خیال
- ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا
- ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھلنا
- دیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا
- بے شانۂ صبا نہیں طرہ گیاہ کا
- صید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا
- شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا
- پر گل خیال زخم سے دامن نگاہ کا
- پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
- طاؤس در رکاب ہے ہر ذرہ آہ کا
- یارب نفس غبار ہے کس جلوہ گاہ کا
- مینائے مے ہے آبلہ پائے نگاہ کا
- کیا بیم اہل درد کو سختیٔ راہ کا
- آئینہ ہوں شکستن طرف کلاہ کا
- فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
- کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یارب
- لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا پنہاں ہے
- انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا
- لکد کوب حوادث کا تحمل کر نہیں سکتی
- گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال
- خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- ریزہ ریزہ استخواں کا پوست میں نشتر ہوا
- ابھی ہم قتل گہہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیں
- ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کا
- رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
- کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
- پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
- بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
- لب خشک در تشنگی مردگاں کا
- زیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کا
- میں دل ہوں فریب وفا خوردگاں کا
- تصور ہوں بے موجب آزردگاں کا
- سخن ہوں سخن بر لب آوردگاں کا
- ارادہ ہوں یک عالم افسردگاں کا
- اسدؔ میں تبسم ہوں پژمردگاں کا
- قیامت کشتۂ لعل بتاں کا خواب سنگیں ہے
- کہ آخر بے کسوں کا زور چلتا ہے گریباں پر
- چمن زنگار ہے آئینۂ باد بہاری کا
- جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
- بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشک باری کا
- جنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا
- بندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا
- نگہ کو آبلوں سے شغل ہے اختر شماری کا
- کہ ننگ فہم مستاں ہے گلہ بد روزگاری کا
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلہ کروں
- میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ
- جس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں
- محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
- یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
- یہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا
- میں اور دکھ تری مژہ ہائے دراز کا
- طعمہ ہوں ایک ہی نفس جاں گداز کا
- ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا
- کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
- ناخن پہ قرض اس گرہ نیم باز کا
- سینہ کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا
- نظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے
- پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے
- صد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- تصرف وحشیوں میں ہے تصور ہاۓ مجنوں کا
- اثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہے
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
- آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
- لاکھوں لگاؤ ایک چرانا نگاہ کا
- حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
- ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہے
- ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ
- نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
- کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
- صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
- سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
- مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
- موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
- موئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا
- دام سبزہ میں ہے پرواز چمن تسخیر کا
- نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا
- پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
- جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا
- گر ملے ؔحضرت بیدل کا خط لوح مزار
- زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
- اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا
- ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
- اگر رکھتی نہ خاکستر نشینی کا غبار آتش
- نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں
- تم ان کے وعدہ کا ذکر ان سے کیوں کرو غالبؔ
- چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا
- ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ
- مٹتا ہے فوت فرصت ہستی کا غم کوئی
- ہجر یاران وطن کا بھی الم ہے ہم کو
- پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا
- بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا
- نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
- بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
- چراغ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا
- رہا مانند خون بے گنہ حق آشنائی کا
- مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
- چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
- عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
- کہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا
- بہ جیب ہر نگہ پنہاں ہے حاصل رہنمائی کا
- تغافل کو نہ کر مصروف تمکیں آزمائی کا
- اسدؔ کا قصہ طولانی ہے لیکن مختصر یہ ہے
- کہ حسرت کش رہا عرض ستم ہائے جدائی کا
- بہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا
- رہا بیگانۂ تاثیر افسوں آشنائی کا
- سواد خط پیشانی سے نسخہ مومیائی کا
- جسے تو بندگی کہتا ہے دعویٰ ہے خدائی کا
- وصل میں ہجر کا ڈر یاد آیا
- اشک باری کا حکم جاری ہے
- دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا
- وقت اس افتادہ کا خوش جو قناعت سے اسد
- کچھ ادھر کا بھی اشارا چاہیے
- دوستی کا پردہ ہے بیگانگی
- دہن اس کا جو نہ معلوم ہوا
- قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالبؔ
- وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
- غلط ہے جذب دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے
- ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
- موت کا ایک دن معین ہے
- ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالم
- عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
- ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
- شب نظارہ پرور تھا خواب میں خیال اس کا
- کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
- غافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
- ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا
- کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
- بے چارہ چند روز کا یاں میہمان ہے
- ہے ترے تیر کا پیکان عزیز
- طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر
- سر پھوڑنا وہ غالبؔ شوریدہ حال کا
- آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد
- مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
- کس کو سناؤں حسرت اظہار کا گلہ
- دل وقف درد کر کہ فقیروں کا مال ہے
- لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ مگر
- دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا
- بال شیشے کا رگ سنگ فساں ہو جائے گا
- زندگی میں بھی رہا ذوق فنا کا مارا
- قمری کا طوق حلقۂ بیرون در ہے آج
- سر رشتہ چاک جیب کا تار نظر ہے آج
- گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
- گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا
- مگر ستم زدہ ہوں ذوق خامہ فرسا کا
- دوام کلفت خاطر ہے عیش دنیا کا
- مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا
- کرے ہے ہر بن مو کام چشم بینا کا
- ہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا
- مری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا
- جفا میں اس کی ہے انداز کار فرما کا
- میں مدعا ہوں تپش نامۂ تمنا کا
- عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا
- ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال
- تمہیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کا
- غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلی کا
- کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
- چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا
- تنگئ دل کا گلہ کیا یہ وہ کافر دل ہے
- کاش رضواں ہی در یار کا درباں ہوتا
- چٹکنا غنچۂ گل کا صداۓ خندۂ دل ہے
- بہ سیل اشک لخت دل ہے دامن گیر مژگاں کا
- چراغ روشن اپنا قلزم صرصر کا مرجاں ہے
- ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
- نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
- بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
- اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
- محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
- کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
- دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں
- ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں
- کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کا
- گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں
- نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
- شکایت ہائے رنگیں کا گلہ کیا
- تغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا
- شہیدان نگہ کا خوں بہا کیا
- کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ
- تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
- کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
- لوگوں کو ہے خورشید جہاں تاب کا دھوکا
- کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
- خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جو
- تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
- جس کا خیال ہے گل جیب قبائے گل
- دیوانگاں کا چارہ فروغ بہار ہے
- یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
- یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
- کھینچا ہے عجز حوصلہ نے خط ایاغ کا
- کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
- تریاکی قدیم ہوں دود چراغ کا
- پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
- یہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
- ہے ابر پنبہ روزن دیوار باغ کا
- کچھ اور ہی عالم ہے دل و چشم و زباں کا
- کچھ اور ہی نقشا نظر آتا ہے جہاں کا
- کیسا فلک اور مہر جہاں تاب کہاں کا
- ہو گا دل بیتاب کسی سوختہ جاں کا
- بادشہ کا غلام کار گزار
- اس کے ملنے کا ہے عجب ہنجار
- خلق کا ہے اسی چلن پہ مدار
- میری تنخواہ میں تہائی کا
- بزم کا التزام گر کیجیے
- آپ کا بندہ اور پھروں ننگا
- آپ کا نوکر اور کھاؤں ادھار
- ہر سلح شور انگلستاں کا
- زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا
- گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
- شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک
- تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
- آدمی واں نہ جا سکے یاں کا
- وہی رونا تن و دل و جاں کا
- سوزش داغ ہائے پنہاں کا
- ماجرا دیدہ ہائے گریاں کا
- کیا مٹے دل سے داغ ہجراں کا
- ایک طیش کا جانشیں درد کا یادگار ایک
- نافہ آہوے بیابان ختن کا کہیے
- دو وہ چیزیں کہ طلبگار ہے جن کا عالم
- جس میں وفا و مہر و محبت کا ہے وفور
- اخلاص کا ہوا ہے اسی ملک سے ظہور
- اور پھر ہندسہ تھا بارہ کا
- کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
- طاقت ربادہ ان کا اشارا کہ ہاے ہاے
- کہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ
- فقط گوشت سو بھیڑ کا ریشے دار
- کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفرؔ کا غلام ہوں
- استاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال
- جام جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیر
- مسلمانوں کے میلوں کا ہوا قل
- نشاں باقی نہیں ہے سلطنت کا
- سب کو اس کا سواد ارزانی
- بار ور جس کا سرو گل بے خار
- نہیں اس کا جواب عالم میں
- اخذ کرتا ہے آسماں کا دبیر
- قول حافظ کا ہے بجا اے دوست
- زر قیمت کا ہو گا اور حساب
- نام عاصی کا ہے غلام نجف
- خستگی کا ہو بھلا جس کے سبب سے سر دست
- اس پہ گزرے نہ گماں ریوو ریا کا زنہار
- تمام دہر میں اس کے مطب کا چرچا ہے
- کسی کو یاد بھی لقمان کا نہیں ہے نام
- جہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے
- چاند کا دائرہ لے زہرہ نے گایا سہرا
- ہے ترے حسن دل افروز کا زیور سہرا
- تب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا
- چاہیے پھولوں کا بھی ایک مقرر سہرا
- گوندھے پھولوں کا بھلا پھر کوئی کیوں کر سہرا
- تار ریشم کا نہیں ہے یہ رگ ابر بہار
- غم عجز کا سفینہ بہ کنار بیدلی ہے
- خوں ہوا جوش تمنا سے دو عالم کا دماغ
- باد افسانۂ بیمار ہے عیسی کا نفس
- استخواں ریزۂ موراں ہے سلیماں کا نگیں
- نقش پا جس کا ہے توحید کو معراج جبیں
- جلوہ پرواز ہو نقش قدم اس کا جس جا
- فیض خلق اس کا ہی شامل ہے کہ ہوتا ہے سدا
- برش تیغ کا اس کی ہے جہاں میں چرچا
- کفر سوز اس کا وہ جلوہ ہے کہ جس سے ٹوٹے
- برگ گل کا ہو جو طوفان ہوا میں عالم
- کہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں
- یقین جان برس گانٹھ کا جو تاگا ہے
- متاع عیش کا ہے قافلہ چلا آتا
- گرہ کا نام لیا پر نہ کر سکا کچھ بات
- بری طرح سے ہوئی ہے گلے کا ہار گرہ
- دل اس کا پھوڑ کے نکلے بہ شکل پھوڑے کے
- ہاں مہ نو سنیں ہم اس کا نام
- اڑ کے جاتا کہاں کہ تاروں کا
- لے کے آیا ہے عید کا پیغام
- غالبؔ اس کا مگر نہیں ہے غلام
- تجھ کو کیا پایہ روشناسی کا
- اپنی صورت کا ایک بلوریں جام
- اس قدح کا ہے دور مجھ کو نقد
- جس کا ہر فعل صورت اعجاز
- جس کا ہر قول معنی الہام
- رعد کا کر رہی ہے کیا دم بند
- تیرے رخش سبک عناں کا خرام
- مہر رخشاں کا نام خسرو روز
- ماہ تاباں کا اسم شحنۂ شام
- دو رات میں تمام ہے ہنگامہ ماہ کا
- حضرت کا عز و جاہ رہے گا علی الدوام
- کاتب کی آستیں ہے مگر تیغ کا نیام
- لمبر رہا نہ نذر نہ خلعت کا انتظام
- اس ناز کا فلک نے لیا مجھ سے انتقام
- آیا تھا وقت ریل کے کھلنے کا بھی قریب
- تھا بارگاہ خاص میں خلقت کا ازدحام
- اس کشمکش میں آپ کا مداح درد مند
- سلطان بر و بحر کے در کا ہوں میں غلام
- وکٹوریا کا دہر میں جو مدح خوان ہو
- خود ہے تدارک اس کا گورمنٹ کو ضرور
- بے وجہ کیوں ذلیل ہو غالبؔ ہے جس کا نام
- امر جدید کا تو نہیں ہے مجھے سوال
- بارے قدیم قاعدے کا چاہیے قیام
- یعنی دعا پہ مدح کا کرتے ہیں اختتام
- کہ باج تاج سے لیتا ہے جس کا طرف کلاہ
- جہاں ہو توسن حشمت کا اس کے جولاں گاہ
- ہزبز پنجے سے لیتا ہے کام شانے کا
- نہ آفتاب ولے آفتاب کا ہم چشم
- شعاع مہر درخشاں ہو اس کا تار نگاہ
- بنے گا شرق سے تا غرب اس کا بازی گاہ
- کہ آپ کا ہے نمک خوار اور دولت خواہ
- جن کی مسند کا آسماں گوشہ
- جن کی خاتم کا آفتاب نگیں
- راجہ اندر کا جو اکھاڑا ہے
- کہ جہاں گدیہ گر کا نام نہیں
- فوج کا ہر پیادہ ہے فرزیں
- اور داغ آپ کی غلامی کا
- خاص بہرام کا ہے زیب سریں
- صرف اظہار ہے ارادت کا
- بے ستوں سبزے سے ہے سنگ زمرد کا مزار
- کہ اس آغوس میں ممکن ہے دو عالم کا فشار
- ہر دو سوخانۂ زنجیر نگہ کا بازار
- سبحہ گرواں ہے اسی کی کف امید کا ابر
- ذرہ اس گرد کا خرشید کو آئینہ ناز
- جادۂ دشت نجف عمر خضر کا طومار
- چشمک ذرہ سے ہے گرم نگہ کا بازار
- ابر نیساں سے ملے موج گہر کا تاواں
- پر طاؤس کرے گرم نگہ کا بازار
- کھینچے خمیازے میں تیرے لب ساغر کا خمار
- مہر عالم تاب کا منظر کھلا
- موتیوں کا ہر طرف زیور کھلا
- بادۂ گلرنگ کا ساغر کھلا
- کعبۂ امن و اماں کا در کھلا
- پہلے دارا کا نکل آیا ہے نام
- اس کے سرہنگوں کا جب دفتر کھلا
- ہے سوز جگر کا بھی اسی طور کا حال
- ہے مفت نگاہ کا مقابل ہونا
- پروانے کا نہ غم ہو تو پھر کس لیے اسدؔ
- اے کاش بتاں کا خنجر سینہ شگاف
- رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے
- غالبؔ کا پکا دیا کلیجا تم نے
- شب زلف و رخ عرق فشاں کا غم تھا
- خدا کا بندہ خداوندگار بندوں کا
- یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہ
- نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد کافر ہے
- نام مکلوڈ جن کا ہے مشہور
- خامے کا صفحے پر رواں ہونا
- شاخ گل کا ہے گلفشاں ہونا
- بارے آموں کا کچھ بیاں ہوجائے
- آم کا کون مرد میداں ہے
- یہ بھی ناچار جی کا کھونا ہے
- آتش گل پہ قند کا ہے قوام
- شیرے کے تار کا ہے ریشہ نام
- رنگ کا زرد پر کہاں بو باس
- رہرو راہ خلد کا توشہ
- طوبی و سدرہ کا جگر گوشہ
- سایہ اس کا ہما کا سایہ ہے
- خلق پر وہ خدا کا سایہ ہے
- آج یک شنبے کا دن ہے آؤ گے
- خوشی جینے کی کیا مرنے کا غم کیا
- کوئی اس کا جواب دو صاحب
- سائلوں کا ثواب لو صاحب
- بندہ خدا کا اور علی کا غلام ہوں
- حسن کا خط پر نہاں خندیدنی انداز ہے
- نتیجہ اپنی آہوں کا ہے شکل مستوی پورا
- میں نے جمنا کا کچھ نہ لکھا حال
- سات جلدوں کا پارسل پہنچا
- کوئی اس کا جواب کیا لکھتا
- وہ رسول اللہ کا قائم مقام
- بندگی کا ہاں عبادت نام ہے
- نیک بختی کا سعادت نام ہے
- آگ کا آتش اور آذر نام ہے
- اور انگارے کا اخگر نام ہے
- دودھ جو پینے کا ہے وہ شیر ہے
- تل کو کنجد اور رخ کا گال کہہ
- ہندی میں عقرب کا بچھو نام ہے
- فارسی میں بھوں کا ابرو نام ہے
- نام مکڑی کا قلاش اور عنکبوت
- میش کا ہے نام بھیڑ اے خود پسند
- نام گل کا پھول شبنم اوس ہے
- چکسہ پڑیا کیسے کا تھیلی ہے نام
- فارسی میں دھپے کا سیلی ہے نام
- قلعہ دژ کھائی کا خندق نام ہے
- نعل در آتش اسی کا نام ہے
- ہے قلم کا فارسی میں خامہ نام
- ہے غزل کا فارسی میں چامہ نام
- صبح سے دیکھیں گے رستہ یار کا
- جمعے کے دن وعدہ ہے دیدار کا
- پھاند جانا یاد ہو دیوار کا
- ورنہ تھا اپنا ارادہ پار کا
- آج عالم اور ہے بازار کا
- پل پہ چل ہے آج دن اتوار کا
- کاٹ اپنی کاٹھ کی تلوار کا
- شوق ابھی سے ہے تجھے اشعار کا
- تو سنو کل کا سبق آ جاؤ تم
- روئی کی پونی کا ہے پاغند نام
- اینٹ کے گارے کا نام آژند ہے
- ایسے پڑھنے کا تو میں قائل نہیں
- کیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو برو