کئی
8 Misre
کئی کانٹے ہیں اور پیراہن شکل نہالی ہے
ساتھ حجاج کے اکثر کئی منزل آئے
دل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل آئے
صحرا کو بھی گھر سے کئی فرسنگ نکالوں
کئی کانٹے ہیں اور پیراہن شکل نہالی ہے
دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
ہوتے جو کئی دیدۂ خوں نابہ فشاں اور
کئی ہزار برس بلکہ بے شمار برس
ک
All Letters