چھیڑ
4 Misre
دیا ابرو کو چھیڑ اور اس نے فتنے کو اشارت کی
یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ
غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
اک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں
چ
All Letters