چکے
5 Misre
ہو چکے ہم جادہ ساں صد بار قطع اور پھر ہنوز
دل کو نیاز حسرت دیدار کر چکے
منطبع جب کہ ہو چکے گی کتاب
ہزار بار فلاطوں و دے چکے الزام
کر چکے قطع تیری تیزئ گام
چ
All Letters