چند
56 Misre
- سحر گل ہاے نرگس چند چشم کور ملتے ہیں
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتشبار ہے
- زندگانی نہیں بیش از نفس چند اسدؔ
- ہر چند امید دور تر ہو
- دل بیتاب کہ سینے میں دم چند رہا
- بہ دم چند گرفتار غم چند رہا
- زندگی کے ہوئے ناگہ نفس چند تمام
- کوچۂ یار جو مجھ سے قدم چند رہا
- لا جرم توڑ کے عاجز قلم چند رہا
- زیر بار غم دام و درم چند رہا
- میں پرستندۂ روے صنم چند رہا
- تا چند داغ بیٹھیے نقصاں اٹھائیے
- حسرت دست گہ و پاے تحمل تا چند
- رگ گردن خط پیمانۂ بے مل تا چند
- موئنہ بافتن ریشۂ سنبل تا چند
- عینک چشم جنوں حلقۂ کا کل تا چند
- بہ زبان عرض فسون ہوس گل تا چند
- شمع و گل تا کے پروانہ و بلبل تا چند
- شرح بر خود غلطی ہاے تحمل تا چند
- عرض حسرت پس زانوے تامل تا چند
- ناکسی آئنۂ ناز توکل تا چند
- مشکل آساں کن یک خلق تغافل تا چند
- ہر چند بہ میدان ہوس تاختنی ہے
- بہ ہوس درد سر اہل سلامت تا چند
- زباں ہر چند ہو جاوے زبانہ
- ہوش اے ہرزہ درا تہمت بیدردی چند
- ہر چند بمقدار دل تنگ نکالوں
- اہل ورع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیل
- اسدؔ اے ہرزہ درا نالہ بہ غوغا تا چند
- تا چند ناز مسجد و بت خانہ کھینچیے
- تا چند نفس غفلت ہستی سے بر آوے
- تا چند باغبانی صحرا کرے کوئی
- ہر چند خط سبز و زمرد رقمی ہے
- اے عدوئے مصلحت چند بہ ضبط افسردہ رہ
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
- گئے ہیں چند قدم پیشتر در و دیوار
- ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
- نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھے
- تا چند باغبانی صحرا کرے کوئی
- ہر چند عمر گزری آزردگی میں لیکن
- بہ ہوس درد سر اہل سلامت تا چند
- تا چند داغ بیٹھیے نقصاں اٹھائیے
- ہر چند میں ہوں طوطی شیریں سخن ولے
- ہر چند ہر ایک شئے میں تُو ہے
- ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے
- ہر چند بر سبیل شکایت ہی کیوں نہ ہو
- بے چارہ چند روز کا یاں میہمان ہے
- ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
- ہر چند جاں گدازی قہر و عتاب ہے
- ہر چند پشت گرمی تاب و تواں نہیں
- تا چند پست فطرتیٔ طبع آرزو
- ہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے
- ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں
- مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے
- ہر چند کہ دوستی میں کامل ہونا
- اک تسمہ لگا رہا کہ تا روزے چند