چاہے
12 Misre
- شیشۂ بے بادہ سے چاہے ہے قلقل ہنوز
- جو چاہے کرے پہ دل نہ توڑے
- چاہے گر جنت جز آدم وارث آدم نہیں
- گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
- جوہر آئنہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا
- یار نے تشنگیٔ شوق کے مضموں چاہے
- بہم بالیدن سنگ و گل صحرا یہ چاہے ہے
- ہلال آسا تہی رہ گر کشادن ہائے دل چاہے
- چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو
- آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
- دل و دیں نقد لا ساقی سے گر سودا کیا چاہے
- عرش چاہے ہے کہ ہو در پہ ترے خاک نشیں