چاہیے
73 Misre
- عاشق نقاب جلوۂ جانانہ چاہیے
- فانوس شمع کو پر پروانہ چاہیے
- معشوق شوخ و عاشق دیوانہ چاہیے
- حسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
- اے بے تمیز گنج کو ویرانہ چاہیے
- شوق فضول و جرأت رندانہ چاہیے
- پیماں سے ہم گزر گئے پیمانہ چاہیے
- یاں جز فسوں نہیں اگر افسانہ چاہیے
- چاہیے خاطر جمع و دل آرامیدہ
- اے نامہ رساں نامہ رساں چاہیے جاسوس
- خجلت کش وفا کو شکایت نہ چاہیے
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے
- عاشق کو یہ چاہیے کہ ہرگز
- شعر کی فکر کو اسدؔ چاہیے ہے دل و دماغ
- ورنہ جو چاہیے اسباب تمنا سب تھا
- میکش مضموں کو حسن ربط خط کیا چاہیے
- آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
- برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے
- بہ قدر حسرت دل چاہیے ذوق معاصی بھی
- حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
- شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہ رہنا چاہیے
- بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے
- چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے
- میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
- مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے
- بھوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
- آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
- ہاں کچھ نہ کچھ تلافئ مافات چاہیے
- تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے
- اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے
- ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
- سر پائے خم پہ چاہیے ہنگام بے خودی
- رو سوئے قبلہ وقت مناجات چاہیے
- عارف ہمیشہ مست مے ذات چاہیے
- خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
- وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
- صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
- جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
- کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
- سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے
- چاہیے وقت تپش یک دست صد پہلو مجھے
- چاہیے درمان ریش دل بھی تیغ یار سے
- چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے
- یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
- جائے مے اپنے کو کھینچا چاہیے
- بارے اب اس سے بھی سمجھا چاہیے
- کچھ ادھر کا بھی اشارا چاہیے
- منہ چھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے
- کس قدر دشمن ہے دیکھا چاہیے
- یار ہی ہنگامہ آرا چاہیے
- ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے
- چاہنے والا بھی اچھا چاہیے
- آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
- کچھ تو اسباب تمنا چاہیے
- معشوق شوخ و عاشق دیوانہ چاہیے
- شوق فضول و جرأت رندانہ چاہیے
- عاشق نقاب جلوۂ جانانہ چاہیے
- فانوس شمع کو پر پروانہ چاہیے
- حسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
- اے بے تمیز گنج کو ویرانہ چاہیے
- پیماں سے ہم گزر گئے پیمانہ چاہیے
- یاں جز فسوں نہیں اگر افسانہ چاہیے
- کچھ تو جاڑے میں چاہیے آخر
- مدح کے بعد دعا چاہیے اور اہل سخن
- چاہیے پھولوں کا بھی ایک مقرر سہرا
- اس کو بھولا نہ چاہیے کہنا
- شاہان عصر چاہیے لیں عزت اس سے دام
- بارے قدیم قاعدے کا چاہیے قیام
- کچھ تو اسباب تمنا چاہیے
- وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
- صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
- چاہیے ہے ماں کو مادر جاننا