چاہتا
7 Misre
پھر چاہتا ہوں نامۂ دل دار کھولنا
نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔ
نگاہ بے محابا چاہتا ہوں
ہزار دانے کی تسبیح چاہتا ہے بنے
پھر بنا چاہتا ہے ماہ تمام
توسن طبع چاہتا تھا لگام
یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عز و جاہ کے ساتھ
چ
All Letters