چاک
37 Misre
- جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
- کہ صبح عید مجھ کو بدتر از چاک گریباں ہے
- چاک موج سیل تا پیراہن دیوانہ تھا
- تا دل شب آبنوسی شانہ آسا چاک ہے
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- چاک گریباں کو ہے ربط تامل ہنوز
- پیچک مہ صرف چاک پردۂ فانوس و بس
- گریباں چاک کا حق ہوگیا ہے میری گردن پر
- باندھتا ہے رنگ گل آئینہ تا چاک قفس
- پارۂ چاک کتاں پرکالہ مہ ہو گیا
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- بہر جاں پروردن یعقوب بال چاک سے
- منقار سے رکھتا ہوں بہم چاک قفس کو
- ہنوز آفت نسب یک خندہ یعنی چاک باقی ہے
- چاک دل شانہ کش طرّہ تحریر آوے
- ہوں میں وہ چاک کہ کانٹوں سے سلایا ہے مجھے
- بہزاد نقش یک دل صد چاک عرض کر
- بہ از چاک گریباں گلستاں کا در نہیں ہوتا
- رشتۂ چاک جیب دریدہ صرف قماش دام کیا
- حضرت زلف میں جوں شانہ دل چاک چڑھا
- چاک جگر سے جب رہ پرسش نہ وا ہوئی
- جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
- تب چاک گریباں کا مزا ہے دل نالاں
- گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
- چاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد
- پردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
- میری آہیں بخیۂ چاک گریباں ہو گئیں
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے
- جیب خیال بھی ترے ہاتھوں سے چاک ہے
- چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
- چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے
- چاک مت کر جیب بے ایام گل
- سر رشتہ چاک جیب کا تار نظر ہے آج
- کہ صبح عید مجھ کو بد تر از چاک گریباں ہے
- بخیۂ زخم دل چاک بہ یک دستہ شرار