چار
24 Misre
- چار سوے عشق میں صاحب دکانی مفت ہے
- اب چار سوے عشق سے دوکاں اٹھائیے
- لیے بیٹھا ہے اک دو چار جام واژ گوں وہ بھی
- حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ
- چار موج اٹھتی ہے طوفان طرب سے ہر سو
- چار سوئے دہر میں بازار غفلت گرم ہے
- بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو
- تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئے
- اب چار سوئے عشق سے دوکاں اٹھائیے
- تم ماہ شب چار دہم تھے مرے گھر کے
- اسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دو چار آتش
- پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
- جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
- نسبتیں ہو گئیں مشخص چار
- ایک محب چار یار عاشق ہشت و چار ایک
- ہے چار شنبہ آخر ماہ صفر چلو
- غرض اس سے ہیں چار دہ معصوم
- بڑے عذاب سے کاٹے ہیں پانچ چار برس
- چار سے پھر نہ ہو گی کم قیمت
- بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو
- کہ ہر گرہ کی گرہ میں ہیں تین چار گرہ
- ہیں گرچہ بہت خلیفہ ان میں ہیں چار
- ان چار میں ایک سے ہو جس کو انکار
- بہت جیوں تو جیوں اور تین چار برس