پیچ
23 Misre
- معاف پیچ و تاب کشمکش ہر تار بستر ہے
- جوہر شمشیر کو ہے پیچ تاب آئینے پر
- پیچ تاب دل نصیب خاطر آگاہ ہے
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- پیچ تاب جادہ ہے خط کف افسوس و بس
- اسدؔ کو پیچ تاب طبع برق آہنگ مسکن سے
- پیچ تاب جادہ ہے یاں جوہر تیغ عسس
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- تدبیر پیچ تاب نفس کیا کرے کوئی
- معاف پیچ و تاب کشمکش ہر تار بستر ہے
- بہ پیچ و تاب ہوس سلک عافیت مت توڑ
- ہے دل شوریدۂ غالبؔ طلسم پیچ و تاب
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
- میں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا
- جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں
- مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے
- اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
- ہے پیچ تاب رشتۂ شمع سحر گہی
- پڑی ہے غم کی مرے دل میں پیچ دار گرہ
- پیچ میں ان کے نہ آنا زینہار
- دل نے سن کر کانپ کر کھا پیچ و تاب
- جور زلف کی تقریر پیچ تاب خاموشی