پیماں
11 Misre
- پیماں سے ہم گزر گئے پیمانہ چاہیے
- بندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا
- لکھ سکا میں نہ اسے شکوۂ پیماں شکنی
- تشنۂ خون دل و دیدہ ہے پیماں میرا
- چشم نکشودہ رہا عقدۂ پیماں مجھ سے
- اے حسن مگر حسرت پیماں شکنی ہے
- بہ سنگ شیشہ توڑوں ساقیا پیمانہ پیماں
- تشنۂ خون دل و دیدہ ہے پیماں میرا
- بندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا
- چشم نکشودہ رہا عقدۂ پیماں مجھ سے
- پیماں سے ہم گزر گئے پیمانہ چاہیے