پیمانۂ
14 Misre
- بھرے پیمانۂ صد زندگانی ایک جام اس کا
- خط پیمانۂ مے ہے نفس دزدیدہ
- رگ گردن خط پیمانۂ بے مل تا چند
- آبلہ پیمانۂ اندازۂ تشویش تھا
- خم رنگ سیہ پیمانۂ ہر چشم آہو تھا
- کاسۂ دریوزہ ہے پیمانۂ دست سبو
- محمل پیمانۂ فرصت ہے بر دوش حباب
- پیمانۂ وسعت کدۂ شوق ہوں اے رشک
- پیمانۂ ہوا ہے مشت غبار صحرا
- رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
- صاف دردی کش پیمانۂ جم ہیں ہم لوگ
- یعنی بہ حسب گردش پیمانۂ صفات
- سخن حق ہمہ پیمانۂ ذوق تحسیں
- تیرا پیمانۂ مے نسخہ ادوار ظہور