پیدا
64 Misre
- پیدا کریں دماغ تماشائے سرو و گل
- ستم کشی کا کیا دل نے حوصلہ پیدا
- رشتۂ پا شوخی بال نفس پیدا کرے
- بے تکلف آپ پیدا کر کے تف جلتا ہوں میں
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- غافلاں نقصاں سے پیدا ہے کمال
- لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- ہم نے سو زخم جگر پر بھی زباں پیدا نہ کی
- نگہ کی ہم نے پیدا رشتۂ ربط علائق سے
- پیام تعزیت پیدا ہے انداز عیادت سے
- گرفتاری میں فرمان خط تقدیر ہے پیدا
- کہ طوق قمری از ہر حلقۂ زنجیر ہے پیدا
- چمن بالیدنی ہا از رم نخچیر ہے پیدا
- کہ در بحر کماں بالیدہ موج تیر ہے پیدا
- لطافت ہاے جوش حسن کا سر شیر ہے پیدا
- بہار بے خزاں از آہ بے تاثیر ہے پیدا
- جراحت ہاے دل سے جوہر شمشیر ہے پیدا
- فریاد سے پیدا ہے اسدؔ گرمی وحشت
- دھویں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- جگر سے ٹوٹی ہوئی ہو گئی سناں پیدا
- دہان زخم میں آخر ہوئی زباں پیدا
- کرے ہے خامشی احوال بیخوداں پیدا
- خط سیاہ سے ہے گرد کارواں پیدا
- وگر نہ ہے خم تسلیم سے کماں پیدا
- زمیں سے ہوتے ہیں صد دامن آسماں پیدا
- ہنر پیدا کیا ہے میں نے حیرت آزمائی میں
- دل نالاں سے ہے بے پردہ پیدا
- پیدا نہیں ہے اصل تگ و تاز جستجو
- پیدا ہوئے ہیں ہم الم آباد جہاں میں
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- خمار ضبط سے بھی نشۂ اظہار پیدا ہے
- اسدؔ کے واسطے رنگے بروے کار ہو پیدا
- سحر گہ باغ میں وہ حیرت گلزار ہو پیدا
- اڑے رنگ گل اور آئینہ دیوار ہو پیدا
- کہ خط سبز تا پشت لب سوفار ہو پیدا
- بجاے زخم گل بر گوشۂ دستار ہو پیدا
- رگ ہر سنگ سے نبض دل بیمار ہو پیدا
- اگر ابر سیہ مست از سوے کہسار ہو پیدا
- کہ غالب ہے کہ بعد از زاری بسیار ہو پیدا
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- تغافل مشربی سے ناتمامی بس کہ پیدا ہے
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- ہے زمیں از بس کہ سنگیں جادہ بھی پیدا نہیں
- اشک پیدا کر اسدؔ گر آہ بے تاثیر ہے
- جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- پہلے دل گداختہ پیدا کرے کوئی
- مرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو
- پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
- سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
- ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
- لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
- تغافل مشربی سے ناتمامی بسکہ پیدا ہے
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- اگر پیدا نہ کرتا آئنہ زنجیر جوہر کی
- دھوئیں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- دہان زخم پیدا کر اگر کھاتا ہے غم میرا
- پیدا ہوئی ہے کہتے ہیں ہر درد کی دوا
- پیدا کریں دماغ تماشائے سرو و گل
- صبح نا پیدا ہے کلفت خانۂ ادبار میں
- درد نا پیدا و بیجا تہمت وارستگی
- طوطی سبزہ کہسار نے پیدا منقار