پہ
213 Misre
- خط صفحۂ عذار پہ گرد کتاب ہے
- پہ زلف یار کا افسانہ ناتمام رہا
- عمر بھر ایک ہی پہلو پہ سلاتا ہے مجھے
- عکس داغ مہ ہوا عارض پہ خال
- آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- سرو کے قامت پہ گل یک دامن کوتاہ ہے
- آئینہ ایسے طاق پہ گم کر کہ تو نہ ہو
- غفلت آرامی یاراں پہ ہیں خنداں گل و صبح
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- جہاں جہاں مرے قاتل کا مجھ پہ احساں ہے
- ہزار دل پہ ہم ایک اختیار رکھتے ہیں
- نہیں ہے کف لب نازک پہ فرط نشہ مے سے
- جو خط ہے کف پا پہ سو ہے سلسلۂ پا
- پر عنقا پہ رنگ رفتہ سے کھینچی ہیں تصویریں
- اس جفا مشرب پہ عاشق ہوں کہ سمجھے ہے اسدؔ
- ہر مو بدن پہ شہپر پرواز ہے مجھے
- چشم مست یار سے ہے گردن مینا پہ باج
- کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
- دیکھا تو کم ہوے پہ غم روزگار تھا
- جان جائے تو بلا سے پہ کہیں دل آئے
- ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزری
- وہ جو نازک ہے کمر اس پہ بہت دل آئے
- میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی
- چھڑکے ہے شبنم آئنۂ برگ گل پہ آب
- وہ آے یا نہ آے پہ یاں انتظار ہے
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہن
- تم پہ اے خاقان نام آور کھلا
- حیرت ہمہ اسرار پہ مجبور خموشی
- کس بات پہ مغرور ہے اے عجز تمنا
- آئینے پہ آئین گلستان ارم باندھ
- جو چاہے کرے پہ دل نہ توڑے
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- خلوت ناز پہ پیرایۂ محفل باندھا
- کہ ضرب تیشہ پہ رکھتا تھا کوہکن تکیہ
- رکھو نہ شمع پہ اے اہل انجمن تکیہ
- زندگانی پہ اعتماد غلط
- زبس دوش رم آہو پہ ہے محمل تمنا کا
- کہ جس کے در پہ غنچہ شکل قفل زر نہیں ہوتا
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ
- کہ عید خلق پہ حیراں ہے چشم قربانی
- پانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے
- ورنہ کیا حسرت کش دامن پہ نقش پا نہیں
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے
- ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
- ہے سوا نیزے پہ اس کے قامت نوخیز سے
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- کس فرصت وصال پہ ہے گل کو عندلیب
- دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک
- اگ رہا ہے در و دیوار پہ سبزہ غالبؔ
- دیکھا تو کم ہوئے پہ غم روزگار تھا
- آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
- عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
- در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
- نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کے آنے کا
- ایک عالم پہ ہیں طوفانی کیفیت فصل
- سر سے گزرے پہ بھی ہے بال ہما موج شراب
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
- لب قدح پہ کف بادہ جوش تشنہ لبی ہے
- اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
- تیرے بیمار پہ ہیں فریادی
- تپش شوق نے ہر ذرہ پہ اک دل باندھا
- خلوت ناز پہ پیرایۂ محفل باندھا
- چوں نمد ہم نے کف پا پہ اسدؔ دل باندھا
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ
- وہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے
- شرار سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی
- تری سادگی ہے غافل در دل پہ پاسبانی
- ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد
- آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالبؔ
- بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
- اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کا
- اگر گل سرو کے قامت پہ پیراہن نہ ہو جاوے
- خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
- لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں
- دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
- دل پہ اک لگنے نہ پایا زخم کاری ہائے ہائے
- کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی
- بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں
- حسن اور اس پہ حسن ظن رہ گئی بوالہوس کی شرم
- اپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں
- تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئے
- وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
- انہیں سوال پہ زعم جنوں ہے کیوں لڑیے
- دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں
- اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
- دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
- میرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں
- نہ کیوں ہو دل پہ مرے داغ بد گمانی شمع
- قاصد پہ مجھ کو رشک سوال و جواب ہے
- دو عالم کی ہستی پہ خط فنا کھینچ
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
- ہر مو مرے بدن پہ زبان سپاس ہے
- پانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے
- جی کس قدر افسردگی دل پہ جلا ہے
- سائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے
- کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
- قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔ
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
- ہیں اہل خرد کس روش خاص پہ نازاں
- زمزم ہی پہ چھوڑو مجھے کیا طوف حرم سے
- شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
- رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
- چشم مست یار سے ہے گردن مینا پہ باج
- کس دل پہ ہے عزم صف مژگان خود آرا
- ناخن پہ قرض اس گرہ نیم باز کا
- زلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
- پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
- سر پائے خم پہ چاہیے ہنگام بے خودی
- جو منکر وفا ہو فریب اس پہ کیا چلے
- یار لائے مری بالیں پہ اسے پر کس وقت
- پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
- گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
- کم نہیں وہ بھی خرابی میں پہ وسعت معلوم
- ہمارے صفحے پہ بال پری سے مسطر کھینچ
- زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
- اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
- ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق
- ہے دل پہ بار نقش محبت ہی کیوں نہ ہو
- اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو
- رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
- میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
- پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
- منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
- گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
- آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
- اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
- سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا غالبؔ
- پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے
- اس کی ہر بات پہ ہم نام خدا کہتے ہیں
- غافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
- دل سے نکلا پہ نہ نکلا دل سے
- ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق
- گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر
- وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا
- مجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
- ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
- اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
- گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں
- کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
- از خود گزشتگی میں خموشی پہ حرف ہے
- مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے
- بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
- رشک آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
- بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
- غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
- اے زمزمۂ قم لب عیسی پہ فغاں ہو
- تجھ سے عالم پہ کھلا رابطۂ قرب کلیم
- میرے ابہام پہ ہوتی ہے تصدق توضیح
- خلق کا ہے اسی چلن پہ مدار
- ختم کرتا ہوں اب دعا پہ کلام
- بس اب بگڑے پہ کیا شرمندگی جانے دو ہل جاؤ
- کانوں پہ ہاتھ دھرتے ہیں کرتے ہوئے سلام
- ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلی
- زمیں پہ ایسا تماشا ہوا برات کی رات
- کہ آسماں پہ کواکب بنے تماشائی
- ہے اسی طور پہ یاں دجلہ فشاں دست کرم
- سبزہ و برگ گل و لالہ پہ دیکھے شبنم
- قسمت بری سہی پہ طبیعت بری نہیں
- اس پہ گزرے نہ گماں ریوو ریا کا زنہار
- مجھ پہ کیا گزرے گی اتنے روز حاضر بن ہوے
- ہوا نہ غلبہ میسر کبھی کسی پہ مجھے
- باندھنے کو جو ترے سر پہ اٹھایا سہرا
- کیا ہی اس چاند سے مکھڑے پہ بھلا لگتا ہے
- سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرف کلاہ
- رخ پہ دولھا کے جو گرمی سے پسینا ٹپکا
- تری سادگی ہے غافل در دل پہ پاسبانی
- شعلۂ شمع مگر شمع پہ باندھے آئیں
- عرش چاہے ہے کہ ہو در پہ ترے خاک نشیں
- کہ اجابت کہے ہر حرف پہ سو بار آمیں
- کہا کہ چرخ پہ ہم نے گنی ہیں نو گرہیں
- رواں ہو تار پہ فی الفور دانہ وار گرہ
- پھر غزل کی روش پہ چل نکلا
- کون ہے جس کے در پہ ناصبہ سا
- استادہ ہو گئے لب دریا پہ جب خیام
- دربار میں جو مجھ پہ چلی چشمک عوام
- عزت پہ اہل نام کی ہستی کی ہے بنا
- یعنی دعا پہ مدح کا کرتے ہیں اختتام
- شاخ گلبن پہ صبا چھوڑ کے پیراہن خار
- گل نرگس سے کف جام پہ ہے چشم بہار
- سینۂ سنگ پہ کھینچے ہے الف بال شرار
- دل جبریل کف پا پہ ملے ہے رخسار
- نرم رفتار ہو جس کوہ پہ وہ برق گداز
- لنگر عیش پہ سرشار تماشاے دوام
- مجھ پہ فیض تربیت سے شاہ کے
- ہے لطف و عنایت شہنشاہ پہ دال
- وہ ریگ تفتۂ وادی پہ گام فرسا ہے
- اور غالبؔ پہ مہربان رہیں
- آتش گل پہ قند کا ہے قوام
- اور غالب پہ مہرباں رکھیو
- ان دل فریبیوں سے نہ کیوں اس پہ پیار آئے
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک
- منہ پہ گر جھری پڑے آزنگ جان
- پل پہ چل ہے آج دن اتوار کا
- تو نے دیکھا مجھ پہ کیسی بن گئی اے راز دار
- خواب و بیداری پہ کب ہے آدمی کو اختیار
- ماہ نو نکلے پہ گزری ہوں گی راتیں پان سات