پھر
115 Misre
- توڑ بیٹھے جب کہ ہم جام و سبو پھر ہم کو کیا
- حسب حال اپنے پھر اشعار کہوں یا نہ کہوں
- وادی حسرت میں پھر آشفتہ جولانی عبث
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو پھر اس کی
- دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- پھر شیشے سے عطر شرر سنگ نکالوں
- بادشاہی کا جہاں یہ حال ہو غالبؔ تو پھر
- تم ہو بت پھر تمہیں پندار خدائی کیوں ہے
- نظارے کا مقدمہ پھر رو بکار ہے
- پھر ہوا مدحت طرازی کا خیال
- پھر مہ و خرشید کا دفتر کھلا
- پھر وہ سوئے چمن آتا ہے خدا خیر کرے
- وہ تب عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع
- ہو چکے ہم جادہ ساں صد بار قطع اور پھر ہنوز
- پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتار
- شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا منظر کھلا
- در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے
- جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
- جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
- نظارہ کا مقدمہ پھر رو بکار ہے
- وہ آیا بزم میں دیکھو نہ کہیو پھر کہ غافل تھے
- مگر پھر تاب زلف پرشکن کی آزمائش ہے
- پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یار
- پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
- الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا
- تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے
- پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
- پھر ہوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے
- ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
- پھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامت
- بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف قاتل میں ہے
- دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
- پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
- پھر حلقۂ کاکل میں پڑیں دید کی راہیں
- کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو
- پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دم
- پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفس
- پھر پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشق
- پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دل
- باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب
- دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے
- پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب
- دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال
- پھر چاہتا ہوں نامۂ دل دار کھولنا
- مانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوس
- چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو
- اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ
- پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
- جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
- غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
- تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
- میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
- وہ تپ عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع
- پھر اس انداز سے بہار آئی
- پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
- پھر ترا وقت سفر یاد آیا
- پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا
- پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
- پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
- پھر جگر کھودنے لگا ناخن
- پھر وہی پردۂ عماری ہے
- دل ہوائے خرام ناز سے پھر
- جلوہ پھر عرض ناز کرتا ہے
- پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
- پھر وہی زندگی ہماری ہے
- پھر کھلا ہے در عدالت ناز
- زلف کی پھر سرشتہ داری ہے
- پھر دیا پارۂ جگر نے سوال
- پھر ہوئے ہیں گواہ عشق طلب
- آج پھر اس کی روبکاری ہے
- یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
- اور پھر وہ بھی زبانی میری
- نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
- تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو
- بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
- حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
- غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
- نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ ہم ستم گر ہیں
- نگاہ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
- اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں
- کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو
- ہمیں پھر ان سے امید اور انہیں ہماری قدر
- جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
- بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
- پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
- جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ
- رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
- میں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا
- اور پھر ہندسہ تھا بارہ کا
- چار سے پھر نہ ہو گی کم قیمت
- گوندھے پھولوں کا بھلا پھر کوئی کیوں کر سہرا
- پھر بنا چاہتا ہے ماہ تمام
- پھر غزل کی روش پہ چل نکلا
- مے ہی پھر کیوں نہ میں پیے جاؤں
- پھر ہوئی ہے اسی مہینے میں
- اور پھر اب کہ ضعف پیری سے
- پروانے کا نہ غم ہو تو پھر کس لیے اسدؔ
- تو پھر کہیں کہ کچھ اس سے سوا کہیں اس کو
- ہیولیٰ صورت کابوس پھر خواب گراں کیوں ہو
- کہ روئے غنچۂ گل سوئے آشیاں پھر جائے
- جانماز اور پھر مصلیٰ ہے وہی
- پھر فلک چرخ اور گردوں اور سپہر
- پھر غلیواز اس کو کہیے جو ہے چیل
- پھر خفا ہونے کو رنجیدن کہو
- باز خواہم رفت میں پھر جاؤں گا
- پھر سہ شنبہ اور منگل ایک ہے
- پھر سترون اور عقیمہ بانجھ ہے
- میں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھر گئے
- پر نصیب اپنا انھیں جاتا سنا جوں پھر گئے
- دیکھنا قسمت وہ آئے اور پھر یوں پھر گئے
- آکے آدھی دور میرے گھر سے وہ کیوں پھر گئے