پنہاں
34 Misre
- بہ نقص ظاہری رنگ کمال طبع پنہاں ہے
- برنگ ریشہ تاک آبلے جاوے میں پنہاں ہیں
- کیا کروں غم ہاے پنہاں لے گئے صبر و قرار
- یا پردۂ تبسم پنہاں اٹھائیے
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- خواب غفلت بہ کمیں گاہ نظر پنہاں ہے
- شام ساے میں بہ تاراج سحر پنہاں ہے
- نقد صد دل بگریبان سحر پنہاں ہے
- آستاں میں صفت آئنہ در پنہاں ہے
- اشک جوں بیضۂ مژہ سے تہ پر پنہاں ہے
- نالہ در گرد تمناے اثر پنہاں ہے
- ورنہ ہر سنگ کے باطن میں شرر پنہاں ہے
- خندۂ گل بلب زخم جگر پنہاں ہے
- بہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا
- شکوۂ یاراں غبار دل میں پنہاں کر دیا
- سویدا میں نفس مانند خط نقطے میں پنہاں ہے
- شیشے میں نبض پری پنہاں ہے موج بادہ سے
- دام گر سبزے میں پنہاں کیجیے طاؤس ہو
- آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر کھلا
- پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے
- فرصت کشاکش غم پنہاں سے گر ملے
- خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
- سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- جو نہ دیکھا تھا سو آئینے میں پنہاں نکلا
- یا پردۂ تبسم پنہاں اٹھائیے
- لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا پنہاں ہے
- مرے قدح میں ہے صہبائے آتش پنہاں
- وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
- بہ جیب ہر نگہ پنہاں ہے حاصل رہنمائی کا
- بہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا
- سایہ خورشید قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے
- سوزش داغ ہائے پنہاں کا
- بیضۂ قمری کے آئینے میں پنہاں صیقل